Sunan At-Tirmidhi 1789

کھانے کا بیان

1789Sunan At-Tirmidhi

خرگوش کھانا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَكَلَهُ، قَالَ: قَبِلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الْأَرْنَبِ، وَقَالُوا: إِنَّهَا تَدْمَى.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا، چناچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں: میں نے (راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک ؓ سے) پوچھا: کیا آپ نے اسے کھایا؟ کہا: آپ ﷺ نے اسے قبول کیا ١ ؎۔

Hisharn ibn Zayd narrated: I heard Anas say,” I chased a rabbit at Marr uz Zahran as did the (other) sahabah I caught it and brought it to Abu Talhah who slaughtered it with a stone. He sent me with its hindleg or haunch to the Prophet ﷺ He ate it. I asked, “Did he eat it?’ He said, “He accepted it.’ [Bukhari 2572, Muslim 1953]

صحيح، ابن ماجة (3243)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ٤ - جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: اسے (یعنی مادہ خرگوش کو) حیض کا خون آتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے، اگر حلال نہ ہوتا تو آپ اسے قبول نہ فرماتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢)، والصید ١٠ (٥٤٨٩)، و ٣٢ (٥٥٣٥)، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١)، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩)، و مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١)، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح )