Sunan At-Tirmidhi 1802

کھانے کا بیان

1802Sunan At-Tirmidhi

گرجانے والا لقمہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گرجائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ١ ؎، اسے پھر کھالے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When one of you eats his meal and a morsal falls down, he must pick it up and remove the doubtful portion and eat the rest. He must not leave it for the devil.” [Ahmed 14943]

صحيح، ابن ماجة (3279)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے، اسے کھالے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیونکہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہوگی، لیکن اس کا بھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہوگا کہ اسے صاف کر کے کسی جانور کو کھلا دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٣ (٣٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٢٧٨)، و مسند احمد (٣/٣٠١، ٢٣١، ٣٣١)، ٣٣٧، ٣٦٦، ٣٩٤) (صحیح )