Sunan At-Tirmidhi 2049

طب کا بیان

2049Sunan At-Tirmidhi

داغ لگانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْكَيِّ ، قَالَ: فَابْتُلِينَا فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدن داغنے سے منع فرمایا ١ ؎، پھر بھی ہم بیماری میں مبتلا ہوئے تو ہم نے بدن داغ لیا، لیکن ہم کامیاب و کامران نہیں ہوئے۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade that one should resort to branding. He said, “When we were afflicted, we had ourselves branded but we were neither relieved (of disease) nor succeeded.” [Ahmed 19852]

صحيح، ابن ماجة (3490)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2049
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: داغ کر علاج کرنے کی ممانعت نہی تنزیہی پر محمول ہے یعنی نہ داغنا بہتر ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ممانعت عمران بن حصین کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا رہے ہوں جس میں بدن داغنے سے انہیں فائدہ کے بجائے نقصان پہنچنے والا ہو، دیکھئیے اگلی حدیث۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٤) (صحیح )