Sunan At-Tirmidhi 2050

طب کا بیان

2050Sunan At-Tirmidhi

داغ لگانے کی اجازت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) said that the Prophet ﷺ had Asad ibn Zurarah branded because of the disease shawkah (prickly, redness).

صحيح، المشکاة (5434 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2050
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر بدن کو داغنا جائز ہے لیکن بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٤٩) (صحیح )