پرہیز کرنا
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ ، قَالَ: فَجَلَسَ عَلِيٌّ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فُلَيْحٍ، وَيُرْوَى عَنْ فُلَيْحٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
ام منذر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ علی ؓ کے ساتھ میرے گھر تشریف لائے، ہمارے گھر کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ اس میں سے کھانے لگے اور آپ کے ساتھ علی ؓ بھی کھانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: علی! ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ ابھی ابھی بیماری سے اٹھے ہو، ابھی کمزوری باقی ہے، ام منذر کہتی ہیں: علی ؓ بیٹھ گئے اور نبی اکرم ﷺ کھاتے رہے، پھر میں نے ان کے لیے چقندر اور جو تیار کی، نبی اکرم ﷺ نے کہا: علی! اس میں سے لو (کھاؤ) ، یہ تمہارے مزاج کے موافق ہے ١ ؎۔
Sayyidah Umm e Mundhir narrated Allah’s Messenger ﷺ visited us, Ali with him. We had a bunch of dates hanging. Allah’s Messenger began to eat and Ali with him. Allah’s Messenger ﷺ said to Ali “Enough, O Ali! You have just recovered.” So he sat down while the Prophet ﷺ ate. Then I prepared for them beetroot and barley and he said to Ali “O Ali, Have from this for, this is more suitable for you.” [Abu Dawud 3856]