عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade getting animals to fight one another. [Abu Dawud 2562]
ضعيف غاية المرام (383)، ضعيف أبي داود (443)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1708
Notes · وضاحت
١ ؎: منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہوگی، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٥٦ (٢٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٦٤٣١) (ضعیف) (اس کے راوی ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں )
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔
Muhammad ibn Muthanna reported from Abdur Rahman ibn Mahdi, from Sufyan, from Amash, from Abu Yahya and he from Mujahid that Allah’s Messenger ﷺ disallowed putting two animals against one another in a fight. He did not name Ibn Abbas (RA) .
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢ - کہا جاتا ہے، قطبہ کی (اگلی) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣ - اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے، ٤ - اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٢٨٠) (ضعیف) (ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں، نیز یہ روایت مرسل ہے )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said that the Prophet ﷺ forbade branding on the face. and striking on it. [Muslim 2116]
صحيح، الإرواء (2185)، صحيح أبي داود (2310)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٦)، و مسند احمد (٣/٣١٨، ٣٧٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (جہاد میں لڑنے کے لیے) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کرلیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہوجائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I was presented before Allah’s Messenger ﷺ for the army when! was fourteen years old. But, he did not enlist me. Then, the next year I was presented to him for the army being fifteen years and he took me. Nafi’ said: I narrated this hadith to Umar ibn Abdul Aziz and he said, “The limit between a minor and a major (is this).” Then he wrote (to his officers) that those who attain the age of fifteen may be given share in spoils of war. [Bukhari 2664, Muslim 1868]
صحيح، ابن ماجة (2543)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1711
Notes · وضاحت
١ ؎: لڑکا یا لڑکی کی عمر سن ہجری سے جب پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بلوغت کی حد کو پہنچ جاتا ہے، اسی طرح سے زیر ناف بال نکل آنا اور احتلام کا ہونا بھی بلوغت کی علامات میں سے ہے، اور لڑکی کو حیض آ جائے تو یہ بھی بلوغت کی نشانی ہے۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے ١ ؎، (یہ سن کر) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کردیئے جائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے کیسے کہا ہے؟ عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کردیئے جائیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو اور آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مڑنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے ٢ ؎، یہ مجھ سے جبرائیل نے (ابھی) کہا ہے ۔
Sayyidina Abu Qatadah narrated : Allah’s Messenger ﷺ stood up before us and said to us, “Jihad in Allah’s cause and belief in Allah are the most excellent of deeds.’ A man stood up and said, “ Messenger of Allah! ﷺ Do you say that if I am slain in Allah’s path then my sins will be expiated from me?” Allah’s Messenger said, “Yes, if you are slain in Allah’s path and you are patient, hopeful of reward, advancing and not retreating.” After that Allah’s Messenger asked, “What did you ask?” He repeated, “Do you mean that if I am slain in Allah’s path, my sin will be expiated for me?” Allah’s Messenger said, “Yes while you are patient, hopeful of reward, advancing and not retreating...but not in debt (which is not forgiven). Jibril ‘told me that.” [Ahmed 22648, Muslim 1885, Nisai 3156]
صحيح، الإرواء (1197)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1712
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے یہ حدیث بسند «سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی لوگوں نے اس کو بسند «سعيد المقبري عن عبد اللہ ابن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے، یہ روایت سعید مقبری کی روایت سے جو بواسطہ ابوہریرہ آئی ہے، زیادہ صحیح ہے، ٤ - اس باب میں انس، محمد بن جحش اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: افضل اعمال کے سلسلہ میں مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل بتایا گیا ہے، اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں، ان احادیث میں «أفضل الأعمال» سے پہلے «من» پوشیدہ مانا جائے، مفہوم یہ ہوگا کہ یہ اعمال افضل ہیں، یا ان کا تذکرہ احوال واوقات اور جگہوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مخاطب کی رو سے مختلف اعمال کی ا فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: یعنی وہ قرض جس کی ادائیگی کی نیت نہ ہو۔
ہشام بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے زخموں کی شکایت کی گئی ١ ؎، آپ نے فرمایا: قبر کھودو اور اسے کشادہ اور اچھی بناؤ، ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرو، اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے (قبلہ کی طرف) آگے کرو ، ہشام بن عامر کہتے ہیں: میرے والد بھی وفات پائے تھے، چناچہ ان کو ان کے دو ساتھیوں پر مقدم (یعنی قبلہ کی طرف آگے) کیا گیا ۔
Sayyidina Hisham ibn Aamir narrated : Someone complained to Allah’s Messenger about the wounds suffered in the Battle of Uhud. He said, “Dig the graves and make them wide and spacious, and clean them well. Bury two or three in one grave and place in front one who knew the Quran better (than the other).” My father had also died (a martyr) and was placed in the front of two men. [Abu Dawud 3215]
صحيح، ابن ماجة (1560)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1713
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری اور دوسرے لوگوں نے اس حدیث کو بسند «أيوب عن حميد بن هلال عن هشام بن عامر» روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں خباب، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحابہ کرام نے یہ شکایت کی، اللہ کے رسول ہم زخموں سے چور ہیں، اس لائق نہیں ہیں کہ شہداء کی الگ الگ قبریں تیار کرسکیں، ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، کیونکہ الگ الگ قبر کھودنے میں دشواری ہو رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ١ ٧ (٣٢١٥)، سنن النسائی/الجنائز ٨٦ (٢٠١٢)، و ٩٠ (٢٠١٧)، و ٩١ (٢٠٢٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤١ (١٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣١)، و مسند احمد (٤/١٩، ٢٠) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) repdrted that when the captives of the Battle of Badr were brought Allah’s Messenger ﷺ asked (his Companions(RA)), “What do you say about these captives?’ (Abdullah (RA) then reported a lengthy account. [Ahmed 3632]
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ٣ - ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ٢ ؎، ٤ - اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قصہ (اختصار کے ساتھ) یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: بدر کے قیدیوں کی بابت نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا، ابوبکر ؓ کی رائے تھی کہ ان کے ساتھ نرم دلی برتی جائے اور ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے، عمر ؓ نے کہا: یہ آپ کی تکذیب کرنے والے لوگ ہیں، انہیں معاف کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ آپ حکم دیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے قریبی ساتھی کا سر قلم کرے، جب کہ بعض کی رائے تھی کہ سوکھی لکڑیوں کے انبار میں سب کو ڈال کر جلا دیا جائے، نبی اکرم ﷺ سب کی باتیں سن کر خاموش رہے، اندر گئے پھر باہر آ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ بعض دلوں کو دودھ کی طرح نرم کردیتا ہے جب کہ بعض کو پتھر کی طرح سخت کردیتا ہے، ابوبکر ؓ کی مثال ابراہیم و عیسیٰ سے دی، عمر ؓ کی نوح سے اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی موسیٰ (علیہ السلام) سے، پھر آپ نے ابوبکر ؓ کی رائے پسند کی اور فدیہ لے کر سب کو چھوڑ دیا، دوسرے دن جب عمر ؓ آئے تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کو روتا دیکھ کر عرض کیا، اللہ کے رسول! رونے کا کیا سبب ہے؟ اگر مجھے معلوم ہوجاتا تو میں بھی شامل ہوجاتا، یا روہانسی صورت بنا لیتا، آپ ﷺ نے فرمایا: بدر کے قیدیوں سے فدیہ قبول کرنے کے سبب تمہارے ساتھیوں پر جو عذاب آنے والا تھا اور اس درخت سے قریب ہوگیا تھا اس کے سبب رو رہا ہوں، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ما کان لنبي أن يكون له أسری حتی يثخن في الأرض» (الأنفال: ٦٧ )۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں مشورہ کی کافی اہمیت ہے، اگر مسلمانوں کے سارے کام باہمی مشورہ سے انجام دیئے جائیں تو ان میں کافی خیر و برکت ہوگی، اور رب العالمین کی طرف سے ان کاموں کے لیے آسانیاں فراہم ہوں گی اور اس کی مدد شامل حال ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأعادہ في تفسیر الأنفال (٣٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٨) (ضعیف) (ابو عبیدہ کا اپنے باپ ابن مسعود ؓ سے سماع نہیں ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مشرک کی لاش کو خریدنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بیچنے سے انکار کردیا۔
Sayydina Ibn Abbas (RA) said that the idelators wished to buy the corpse of a captive idolator, but the Prophet ﷺ refused to sell it to them.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حکم کی روایت سے جانتے ہیں، اس کو حجاج بن ارطاۃ نے بھی حکم سے روایت کیا ہے، ٣ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں لیکن ہم کو ان کی صحیح حدیثیں ان کی ضعیف حدیثوں سے پہچان نہیں پاتے، میں ان سے کچھ نہیں روایت کرتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں فقیہ ہیں، لیکن بسا اوقات ان سے سندوں میں وہم ہوجاتا ہے، ٥ - سفیان ثوری کہتے ہیں: ہمارے فقہاء ابن ابی لیلیٰ اور عبداللہ بن شبرمہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٦٤٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، (پھر ہم) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا: ہلاک ہوگئے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ sent us on an expedition. But, the people turned their backs in a predicament. When we had retreated from the battlefield, we were ashamed and said to ourselves, “We are ruined.” We came to Allah’s Messenger ﷺ i and said, “O Messenger of Allah, we are deserters.” He said, “Rather, you are contenders (who will attack again), and I am your helper.” [Ahmed 5902]
ضعيف، الإرواء (1203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1716
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہوگئے، ٣ - اور «بل أنتم العکارون» اس کو کہتے ہیں: جو فرار ہو کر اپنے امام (کمانڈر) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٦ (٢٦٤٧)، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ ﷺ کے ایک منادی نے پکارا: مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹا دو (دفن کرو) ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah narrated: On the day of Uhud, my paternal aunt brought my father to our graveyard to be buried. But, suddenly a proclaimer of Allah’s Messenger ﷺ called out, “Return the martyrs to their places (of martyrdom, to be buried there).” [Ahmed 14309]
صحيح، ابن ماجة (2516)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور نبی ح ثقہ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم شہداء کے لیے خاص ہے، حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ شہداء موت و حیات اور بعث و حشر میں بھی ایک ساتھ رہیں، عام میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اشد ضرورت کے تحت منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، شرط یہ ہے کہ نعش کی بےحرمتی نہ ہو اور آب و ہوا کے اثر سے اس میں کوئی تغیر نہ ہو، سعید ابن ابی وقاص کو صحابہ کی موجودگی میں مدینہ منتقل کیا گیا تھا، کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ٤٢ (٣١٦٥)، سنن النسائی/الجنائز ٨٣ (٢٠٠٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٦)، (تحفة الأشراف: ٣١١٧)، سنن الدارمی/المقدمة ٧ (٤٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کے راوی نبی ح عنزی لین الحدیث ہیں )
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع تک نکلے: میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا حالانکہ میں کم عمر تھا۔
Sayyidina Sa’ib ibn Yazid (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ returned from Tabuk, the men came out to meet (and greet) him at Thariyat ul Wada. I also went out with the people and I was a young boy then.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1718
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور «فے» ١ ؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول ﷺ کے لیے تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کرلیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔
Maalik ibn Aws ibn Hadathan said that he heard Umar ibn Khattab say that the property of Banu Nadir was fai that Allah granted to His Messenger ﷺ because the Muslims did not push their horses or camels for that (there being no fighting for it). So it was exclusively for Allahs Messenger . Hence, he drew from it a year’s allowance for his family and spent the rest on horses, weapons, etc. to prepare for jihad. [Bukhari 2904, Muslim 1757]
صحيح مختصر الشمائل (341)، صحيح أبي داود (2624 - 2626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «فئی»: وہ مال ہے جو کافروں سے جنگ کیے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آئے، یہ مال آپ کے لیے خاص تھا، مال غنیمت نہ تھا کہ مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani: That the Messenger of Allah (ﷺ) said, Whoever prepares a fighter in Allah's cause, he has participated in a military expedition, and whoever watches after the family of a fighter, he has participated in a military expedition. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.