Sunan At-Tirmidhi 1719

جہاد کا بیان

1719Sunan At-Tirmidhi

مال فئی

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْزِلُ نَفَقَةَ أَهْلِهِ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي الْكُرَاعِ وَالسَّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ شِهابٍ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور «فے» ١ ؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول ﷺ کے لیے تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کرلیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔

Maalik ibn Aws ibn Hadathan said that he heard Umar ibn Khattab say that the property of Banu Nadir was fai that Allah granted to His Messenger ﷺ because the Muslims did not push their horses or camels for that (there being no fighting for it). So it was exclusively for Allahs Messenger . Hence, he drew from it a year’s allowance for his family and spent the rest on horses, weapons, etc. to prepare for jihad. [Bukhari 2904, Muslim 1757]

صحيح مختصر الشمائل (341)، صحيح أبي داود (2624 - 2626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «فئی»: وہ مال ہے جو کافروں سے جنگ کیے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آئے، یہ مال آپ کے لیے خاص تھا، مال غنیمت نہ تھا کہ مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٨٠ (٢٩٠٤)، وتفسیر الحشر ٣ (٤٨٨٥)، صحیح مسلم/الجہاد ١٥ (١٧٥٧)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ١٩ (٢٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣١)، و مسند احمد (١/٢٥) (وانظر أیضا حدیث رقم ١٦١٠) (صحیح )