عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ہماری صورت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کی دونوں جماعت پیٹھ پھیرے ہوئی تھی، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے۔
Sayyidina lbn Umar (RA) said that on the day of Hunayn, they observed both the sections flee and there were not with Allah’s Messenger ﷺ but a hundred men (steadfastly planted).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1689
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہم عبیداللہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سب سے جری (نڈر) ، سب سے سخی، اور سب سے بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے، ان لوگوں نے کوئی آواز سنی، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے تلوار لٹکائے ابوطلحہ کے ایک ننگی پیٹھ والے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں کے پاس پہنچے اور فرمایا: تم لوگ فکر نہ کرو، تم لوگ فکر نہ کرو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے چال میں گھوڑے کو سمندر پایا ۔
Anas (RA) narrated that the pommel of the sword of Allah’s Messenger was of silver. [Ahmed 2583]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤ ٢ (٢٨٢٠)، و ٨٢ (٢٩٠٨)، و ١٦٥ (٣٠٤٠)، والأدب ٣٩ (٦٠٣٣)، صحیح مسلم/الفضائل ١١ (٢٣٠٧/٤٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٢)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩)، (وانظر ما تقدم برقم ١٦٨٥) (صحیح )
مزیدہ ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ١ ؎۔
Sayyidina Mazidah reported that when Allah’s Messenger ﷺ entered Makkah on the day of conquest, his sword had gold and silver on it. Talib said that he asked him about silver and he said, “Its grip was of silver.”
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تلوار میں سونے یا چاندی کا استعمال دشمنوں پر رعب قائم کرنے کے لیے ہوا ہوگا، ورنہ صحابہ کرام جو اپنے ایمان میں اعلی مقام پر فائز تھے، ان کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سونے یا چاندی کا استعمال بطور زیب و زینت کریں، یہ لوگ اپنی ایمانی قوت کے سبب ان سب چیزوں سے بےنیاز تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما یأتي (تحفة الأشراف: ١١٢٥٤) (ضعیف) (سند میں ” ہود “ لین الحدیث ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔
Anas (RA) narrated that the pommel of the sword of Allah’s Messenger was of silver. [Ahmed 2583]
صحيح، صحيح أبي داود (2326 - 2328)، الإرواء (822)، مختصر الشمائل (85 و 86)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1691
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسی طرح اس حدیث کو ہمام، قتادہ سے اور قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔
زبیر بن عوام ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے جسم پر دو زرہیں تھیں ١ ؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: طلحہ نے (اپنے عمل سے جنت) واجب کرلی ۔
Sayyidina Zubayr ibn Awwam (RA) reported that during the battle of Uhud, the Prophet ﷺ wore two coats of mail. Thus, when he tried to climb a rock, he could not. So, he made Talhah sit down below him, and he climbed up till he was erect on the rock. Then he (Zubayr) heard the Prophet ﷺ say, “It is assured for Talhah” (intercession or paradise, for his service). ]
حسن، المشکاة (6112)، مختصر الشمائل (89)، صحيح أبي داود (2332)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1692
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کا دو زرہیں پہننا توکل اور تسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے، بلکہ اسباب و وسائل کو اپنانا توکل ورضاء الٰہی کے عین مطابق ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا: ابن خطل ١ ؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when the Prophet ﷺ entered Makkah on the conquest, he had a helmet on his head. He was told that Ibn Khatal had clung to the covering of the Ka’bah. He said, “Kill him.” [Bukhari 1846, Muslim 1357]
صحيح، ابن ماجة (2805)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن خطل کا نام عبداللہ یا عبدالعزی تھا، نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: جو ہم سے قتال کرے اسے قتل کردیا جائے، اس کے بعد کچھ لوگوں کا نام لیا، ان میں ابن خطل کا نام بھی تھا، آپ نے ان سب کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہاں کہیں ملیں انہیں قتل کردیا جائے خواہ خانہ کعبہ کے پردے ہی میں کیوں نہ چھپے ہوں، ابن خطل مسلمان ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک انصاری مسلمان کو بھی اس کے ساتھ کردیا، ابن خطل کا ایک غلام جو مسلمان تھا، اس کی خدمت کے لیے اس کے ساتھ تھا، اس نے اپنے مسلمان غلام کو ایک مینڈھا ذبح کر کے کھانا تیار کرنے کے لیے کہا، اتفاق سے وہ غلام سو گیا، اور جب بیدار ہوا تو کھانا تیار نہیں تھا، چناچہ ابن خطل نے اپنے اس مسلمان غلام کو قتل کردیا، اور مرتد ہو کر مشرک ہوگیا، اس کے پاس دو گانے بجانے والی لونڈیاں تھیں، یہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اسے قتل کردینے کا حکم دیا۔
عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر (بھلائی) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے ١ ؎۔
Sayyidina Urwah Bariqi reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Goodness is tied to the forelocks of horses till the day of resurrection...it is reward and value. [Bukhari 2850, Muslim 1873]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1694
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کے لیے استعمال یا جہاد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بہتر گھوڑے وہ ہیں جو کالے رنگ کے ہوں، جن کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو، پھر ان کے بعد وہ گھوڑے ہیں جن کے چاروں پیر اور پیشانی سفید ہو، اگر گھوڑا کالے رنگ کا نہ ہو تو انہیں صفات کا سرخ سیاہی مائل عمدہ گھوڑا ہے ۔
Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best horses are black with a little white on their forelocks and on the tip of their noses. Next, those whose forelegs, hindlegs and face are white, but not the right foreleg and if they are not white then blackish red, or with a black nape and tail and reddish body.” [Ahmed 22624]
صحيح، ابن ماجة (2789)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1696
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢١)، و مسند احمد (٥/٣٠٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ disliked shikal on horse. (Shikal means white on a horse’s right foreleg and left hindleg, or on its right hindleg and left foreleg). [Muslim 1875]
صحيح، ابن ماجة (7290)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1698
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «شکال» اس گھوڑے کو کہتے ہیں: جس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک دوسرے رنگ کا ہو یا جس کا ایک پیر سفید ہو اور باقی دوسرے رنگ کے ہوں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چناچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ held race between mudarnmar horses from Hafya to Thaniyat al-Wada which were six miles apart. He also held race between horses that were not mudammar between Thaniyat al-Wada to the mosque of Banu Zurayq, they being a mile from one another. ( Ibn Umar (RA) k) said, “I was a participant and my horse jumped over a wall with me.” [Bukhari 2868, Muslim 1870]
صحيح، ابن ماجة (2877)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1699
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جہاد کی تیاری کے لیے گھڑ دوڑ، تیر اندازی، اور نیزہ بازی کا جواز ثابت ہوتا ہے، نبی اکرم ﷺ کے دور میں عموماً یہی چیزیں جنگ میں کام آتی تھیں، حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ آج کے دور میں راکٹ، میزائل، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کا تجربہ حاصل کیا جائے، ساتھ ہی بندوق توپ اور ہر قسم کے جدید جنگی آلات کی تربیت حاصل کی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨)، و ٥٧ (٢٨٦٩)، و ٥٨ (٢٨٧٠)، والاعتصام ٦ (٧٣٣٦)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠)، سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٥)، سنن النسائی/الخیل ١٢ (٣٦١٣)، و ١٣ (٣٦١٤)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٧)، (تحفة الأشراف: ٧٨٩٥)، وط/الجہاد ١٩ (٤٥)، و مسند احمد (٢/٥، ٥٥-٥٦) سنن الدارمی/الجہاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger .iii said, “Stakes are allowed only in (three things) : archery, horse racing and camel-racing.’ [Ahmed 7484]
صحيح، ابن ماجة (2878)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1700
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو، کبوتر بازی، غلیل بازی، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤)، سنن النسائی/الخیل ١٤ (٣٦١٥، ٣٦١٦، ٣٦١٩)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٣٨)، و مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ١ ؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ was bound by command. He never distinguished them (the people of his house) over other people except in three things. He commanded them to make ablution thoroughly, not to take sadaqah and not to pair a male donkey with a mare. [Abu Dawud 808]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1701
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد اللہ بن عبد اللہ بن عباس عن ابن عباس»، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم ایجابی تھا، ورنہ اتمام وضوء سب کے لیے مستحب ہے، اور گدھے کو گھوڑی پر چھوڑنا سب کے لیے مکروہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٣١ (٨٠٨)، سنن النسائی/الطہارة ١٠٦ (١٤١)، والخیل ١٠ (٣٦١١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٩ (٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩١)، و مسند احمد (١/٢٢٥، ٢٣٥، ٢٤٩) (صحیح الإسناد )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Darda reported having heard Allah’s Messenger say, Seek me among your weak for you are given provision and help because of your weak people’ [Bukhari 2896]
صحيح، الصحيحة (779)، صحيح أبي داود (2335)، التعليق الرغيب (1 / 24)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مالدار لوگوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ انہیں دنیاوی اعتبار سے جو آسانیاں حاصل ہیں یہ کمزوروں کے باعث ہی ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کمزور مسلمانوں کی دعائیں بہت کام آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کمزور مسلمانوں کی دعا سے مدد طلب کرنے کو کہا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٧٧ (٢٥٩٤)، سنن النسائی/الجہاد ٤٣ (٣١٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٣)، و مسند احمد (٥/١٩٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The angels do not join the company that has a dog or a bell. [Muslim 2113]
صحيح، الصحيحة (4 / 494)، صحيح أبي داود (2303)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1703
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے کتے جو شکار یا نگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہوجاتی ہے، اس لیے اسے ناپسند کیا گیا، اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لشکر روانہ کیا ١ ؎، ایک پر علی بن ابی طالب ؓ کو اور دوسرے پر خالد بن ولید ؓ کو امیر مقرر کیا اور فرمایا: جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ٢ ؎، علی ؓ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید ؓ نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہوگئے ٣ ؎۔
Sayyidina Bara (RA) narrated. The Prophet ﷺ sent two armies. He appointed Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) as commander of one of them and Khalid ibn Walid (RA) as commander over the other. He said, When fighting begins, Ali will be the commander.” So, Ali conquered a fort and took a female slave from it. Khalid (RA) sent with me a letter to the Prophet ﷺ mentioning this. I came to the Prophet ﷺ and he read the letter and his colour changed and he said, What do you see in a man whom Allah loves and His Messenger loves, and he loves Allah and His Messenger?” I said, “ seek refuge in Allah from the anger of Allah and of His Messenger. indeed, I am only a deliverer of message.” He did not say anything.
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ٣ - «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں لشکر یمن کی طرف روانہ کئے گئے تھے۔ ٢ ؎: یعنی پہنچتے ہی اگر دشمن سے مقابلہ شروع ہوجائے تو علی ؓ اس کے امیر ہوں گے، اور اگر دونوں لشکر علیحدہ علیحدہ رہیں تو ایک کے علی ؓ اور دوسرے کے خالد ؓ امیر ہوں گے۔ ٣ ؎: یعنی ایک آدمی کی ماتحتی میں نبی اکرم ﷺ نے مجھے بھیجا، اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی اور اس کے قلم سے یہ خط لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اب اس میں میرا کیا قصور ہے یہ سن کر آپ خاموش رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف واعادہ في المناقب برقم ٣٧٢٥، (تحفة الأشراف: ١٩٠١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ومختلط ہیں، لیکن عمران بن حصین (عند المؤلف برقم ٣٧١٢) کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چناچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said,”Know! Everyone of you is (like a) shepherd and each one of you will be questioned about his subjects. So, the ameer over the people is their shepherd and answerable about them. And a man is shepherd over the people of his house and answerable for them. And, a woman is shepherd over the house of her husband and answerable about it. And a slave is shepherd over the wealth of his master and answerable about it. Beware! all of you are shepherds and all of you answerable about your subjects.” [Muslim 1829]
صحيح، صحيح أبي داود (2600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔
اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد اللہ بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے،
میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو جس چیز کا ذمہ دار ہے اس سے اس چیز کے متعلق باز پرس بھی ہوگی، اب یہ ذمہ دار کا کام ہے کہ اپنے متعلق یہ احساس و خیال رکھے کہ اسے اس ذمہ داری کا حساب و کتاب بھی دینا ہے۔
ام حصین احمسیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنادیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ١ ؎۔
Sayyidah Urnm Husayn Ahmasiyah reported that she heard the sermon of Allah’s Messenger ﷺ during the Farewell Hajj. He was wrapped in his cloak which he had drawn from his armpit. She said : I saw the flesh of his shoulder shining. I heard him say, “O you people! Fear Allah, and even if a Black with a split ear is made your ameer, listen to him and obey him provided he governs according to Allah’s Book. [Muslim 1298]
صحيح، ابن ماجة (2861)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1706
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (یہ حدیث) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، اور ہر ایسے عمل سے دور رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٥١ (١٢٩٨/٣١١)، والإمارة (١٨٣٨/٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣١٣)، و مسند احمد (٦/٤٠٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘It is incumbent on a Muslim person to listen and obey whether he likes it or hates it as long as he is not commanded to commit sin. If he is given command to sin then he must neither listen nor obey.” [Muslim 1839]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1707
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امام کا حکم پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ اسے بجا لانا ضروری ہے، بشرطیکہ معصیت سے اس کا تعلق نہ ہو، اگر معصیت سے متعلق ہے تو اس سے گریز کیا جائے گا، لیکن ایسی صورت سے بچنا ہے جس سے امام کی مخالفت سے فتنہ و فساد کے رونما ہونے کا خدشہ ہے۔