انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا: ابن خطل ١ ؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when the Prophet ﷺ entered Makkah on the conquest, he had a helmet on his head. He was told that Ibn Khatal had clung to the covering of the Ka’bah. He said, “Kill him.” [Bukhari 1846, Muslim 1357]
صحيح، ابن ماجة (2805)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن خطل کا نام عبداللہ یا عبدالعزی تھا، نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: جو ہم سے قتال کرے اسے قتل کردیا جائے، اس کے بعد کچھ لوگوں کا نام لیا، ان میں ابن خطل کا نام بھی تھا، آپ نے ان سب کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہاں کہیں ملیں انہیں قتل کردیا جائے خواہ خانہ کعبہ کے پردے ہی میں کیوں نہ چھپے ہوں، ابن خطل مسلمان ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک انصاری مسلمان کو بھی اس کے ساتھ کردیا، ابن خطل کا ایک غلام جو مسلمان تھا، اس کی خدمت کے لیے اس کے ساتھ تھا، اس نے اپنے مسلمان غلام کو ایک مینڈھا ذبح کر کے کھانا تیار کرنے کے لیے کہا، اتفاق سے وہ غلام سو گیا، اور جب بیدار ہوا تو کھانا تیار نہیں تھا، چناچہ ابن خطل نے اپنے اس مسلمان غلام کو قتل کردیا، اور مرتد ہو کر مشرک ہوگیا، اس کے پاس دو گانے بجانے والی لونڈیاں تھیں، یہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اسے قتل کردینے کا حکم دیا۔