ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کو قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف تم میں سے کسی کو چٹکی لینے سے ہوتی ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “The martyr experiences no pain on being killed except like what one of you feels on being stung by an ant.” [Ahmed 8958, Ibn e Majah 2802, Nisai 3161]
حسن صحيح، ابن ماجة (2802)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1668
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٣٥ (٣١٦٣)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٦ (٢٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦١)، و مسند احمد (٢/٢٩٧) (حسن صحیح )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانیوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے: آنسو کا ایک قطرہ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں بہے، دو نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسری نشانی وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں لگے ۔
Sayyidina Abu Umamah reported that the Prophet ﷺ said, “Nothing is dearer to Allah than two drops and two marks. A drop of tears from fear of Allah, and a drop of blood shed in Allah’s path. As for the two marks, one is what a man may get in jihad (through a wound, etc) and the other on discharging one of the obligatory duties.”
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس «شانہ» (کی ہڈی) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ١ ؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن (مجاہدین کے) برابر نہیں ہوسکتے ہیں نابینا صحابی ، عمرو ابن ام مکتوم ؓ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چناچہ (آیت کا) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» ، (معذورین کے) ۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Get me a shoulder piece or a slate.” Then he (had) inscribed on. “The holders back from among the believers” (Surah Nisa 95), Hazrat Umer ibn Umme Maktum inquired “ Is there a leave for me” hence it was revealed “not having any injury “. [Bukhari 4594, Muslim 1898]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1670
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تختیوں اور ذبح شدہ جانوروں کی ہڈیوں پر گرانی آیات و سورة کا لکھنا جائز ہے اور مذبوح جانوروں کی ہڈیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣١ (٢٨٣١)، وتفسیر سورة النساء ١٨ (٤٥٩٣)، وفضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨)، سنن النسائی/الجہاد ٤ (٣١٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٥٩)، و مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٩٠، ٣٣٠)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٨ (٢٤٦٤) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے ماں باپ (زندہ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو ١ ؎۔
Sayyidina Ahdullah ibn Umar (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ to he excused from jihad. He asked him, “Do you have parents?” He said, “Yes.” The Prophet ﷺ ‘ said, ‘Then, serve them.’ [Bukhari 3004, Muslim 2549]
صحيح، ابن ماجة (2782)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1671
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ماں باپ کی پوری پوری خدمت کرو، کیونکہ وہ تمہاری خدمت کے محتاج ہیں، اسی سے تمہیں جہاد کا ثواب حاصل ہوگا، بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، لیکن اگر حالات و ظروف کے لحاظ سے جہاد فرض عین ہے تو ایسی صورت میں اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ روکنے کے باوجود وہ جہاد میں شریک ہوگا۔
ابن عباس ؓ آیت کریمہ: «أطيعوا اللہ وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منکم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ ﷺ نے (اکیلا) سریہ بنا کر بھیجا ١ ؎۔
Hajjaj ibn Muhammad reported that lbn Jurayj explained the verse. Obey Allah, and obey the Messenger and those in authority among you. (4:59) He said that Allah’s Messenger ﷺ sent Abdullah ibn Huzafah ibn Qays ibn Adi Sahmi on a (one-man) Sariyah.He was informed (of this) by Ya’la ibn Muslim on the authority of Sa’eed ibn Jubayr, from lbn Abbas [Bukhari 5484, Muslim 1834] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (2359)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1672
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں «أولو الأمر» کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ «ولا ۃ و أمراء» ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ علما اور امرا دونوں مراد ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that iJlah’s Messeger said, “If people knew that which I know about (the disadvantages of being alone then the rider would not travel by night, meaning all by himself.” [Bukhari 2998, Ibn e Majah 3768]
صحيح، ابن ماجة (3768)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1673
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر حالات ایسے ہیں کہ راستے غیر مامون ہیں، جان و مال کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں بلا ضرورت تنہا سفر کرنا ممنوع ہے، اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہے تو کوئی حرج نہیں، نبی اکرم ﷺ نے بعض صحابہ کو بوقت ضرورت تنہا سفر پر بھیجا ہے۔
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں ١ ؎۔
Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father, of his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “A single traveller is a devil, two travellers are two devils while three are a caravan.” [Abu Dawud 2607]
حسن، الصحيحة (64)، المشکاة (3910)، صحيح أبي داود (2346)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1674
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں رہے گا، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کو کسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہوجائیں گے، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہوگا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٨٦ (٢٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٠)، وط/الاستئذان ١٤ (٣٥)، و مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘War is deception.” [Bukhari 303. Muslim 1739, Ahmed 14312]
صحيح، ابن ماجة (2833 و 2834 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1675
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، زید بن ثابت، عائشہ ابن عباس، اسماء بنت یزید بن سکن، کعب بن مالک اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جنگ ان تین مقامات میں سے ایک ہے جہاں جھوٹ، دھوکہ اور فریب کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ لڑائی کے ایام میں جہاں تک ممکن ہو کفار کو دھوکہ دینا جائز ہے، لیکن یہ ان سے کیے گئے کسی عہد و پیمان کے توڑنے کا سبب نہ بنے۔
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں زید بن ارقم ؓ کے بغل میں تھا کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم ﷺ نے کتنے غزوات کیے؟ کہا: انیس ١ ؎، میں نے پوچھا: آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ کہا: سترہ میں، میں نے پوچھا: کون سا غزوہ پہلے ہوا تھا؟ کہا: ذات العشیر یا ذات العشیرہ۔
Abu Ishaq said that he was with Sayyidina Zayd ibn Arqam when he was asked about the number of the Prophet’s battles. He said, “They were nineteen ghazwat (battles).” Abu Ishaq asked, “In how many did you participate with him?” He said, “Seventeen.” He asked, “Which was the first?” He said, “Dhat ul-Ushayra” or, he said, “Dhat ul-Usayra.” [Bukhari 3949, Muslim 1254]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1676
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد وہ غزوات ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ خود شریک رہے، خواہ قتال کیا ہو یا نہ کیا ہو، صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ غزوات کی تعداد اکیس ( ٢١ ) ہے، ایسی صورت میں ممکن ہے زید بن ارقم نے دوکا تذکرہ جنہیں غزوہ ابوا اور غزوہ بواط کہا جاتا ہے اس لیے نہ کیا ہو کہ ان کا معاملہ ان دونوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان سے مخفی رہ گیا ہو۔
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مقام بدر میں رات کے وقت ہمیں مناسب جگہوں پر متعین کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ mobilised us for the Battle of Badr during the night.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1677
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابوایوب سے بھی روایت ہے، یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: محمد بن اسحاق کا سماع عکرمہ سے ثابت ہے، اور جب میں نے بخاری سے ملاقات کی تھی تو وہ محمد بن حمید الرازی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، پھر بعد میں ان کو ضعیف قرار دیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دشمنوں سے مقابلہ آرائی سے پہلے مجاہدین کی صف بندی کرنا اور مناسب جگہوں پر انہیں متعین کرنا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٧٢٤) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں )
ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو (غزوہ احزاب میں) کفار کے لشکروں پر بد دعا کرتے ہوئے سنا، آپ نے ان الفاظ میں بد دعا کی «اللهم منزل الکتاب سريع الحساب اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم» کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے ۔ ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abu Awf reported that he heard the Prophet ﷺ make a supplication during the Batle of Ahzab. He said: O Allah, the Revealer of the Book Quick, to reckon, rout the confederates and uproot their steps. [Bukhari 2933, Muslim 1742]
صحيح، صحيح أبي داود (2365)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1678
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود ؓ سے بھی حدیث مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ضمن میں اور بھی بہت ساری دعائیں احادیث کی کتب میں موجود ہیں، بعض دعائیں امام نووی نے اپنی کتاب الأذکار میں جمع کردی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٩٨ (٢٩٣٣)، و ١١٢ (٢٩٦٥)، و ١٥٦ (٣٠٢٥)، والمغازي ٢٩ (٤١١٥)، والدعوات ٥٨ (٦٣٩٢)، والتوحید ٣٤ (٧٤٨٩)، صحیح مسلم/الجہاد ٦ ٧٠ (١٧٤٢)، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٨ (٢٦٣١)، سنن النسائی/عمل الیوم و اللیلة (٦٠٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٦)، (تحفة الأشراف: ٥١٥٤)، و مسند احمد (٤/٣٥٤) (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔
Sayyidina Jabir (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ entered Makkah and his standard was white (coloured). [Abu Dawud 2592]
حسن، ابن ماجة (3817)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا: ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اور (محفوظ) حدیث یہی ہے، ٣ - «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا: آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ١ ؎۔
Yunus ibn Ubayd the freedman of Muhammad ibn Qasim narrated: Muhammad ibn Qasim sent me to Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) to ask him about the flags of Allah’s Messenger He said, “It was black, squared and striped.’
صحيح دون قوله مربعة، صحيح أبي داود (2333)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں علی، حارث بن حسان اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - ابویعقوب ثقفی کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے، ان سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے پر «لا إله إلا اللہ محمد رسول الله» لکھا ہوا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٧٦ (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٢) (صحیح) (لیکن ” چوکور “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابو یعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یا شاہد نہیں ہے )
مہلب بن ابی صفرۃ ان لوگوں سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اگر رات میں تم پر دشمن حملہ کریں تو تم «حم لا ينصرون» کہو ١ ؎۔
Muhallab ibn Abu Sufrah reported from one who had heard the Prophet ﷺ say, “If the enemy attacks you at night let your war-cry be (or code-words be). Haa Mim. Laa Yunsarun.”
١ - بعض لوگوں نے اسی طرح ثوری کی روایت کے مثل ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق سے یہ حدیث بواسطہ «عن المهلب بن أبي صفرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن الاکوع ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «شعار» اس مخصوص لفظ کو کہتے ہیں: جس کو لشکر والے خفیہ کوڈ کے طور پر آپس میں استعمال کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٧٨ (٢٥٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٧٩)، و مسند احمد (٤/٢٨٩) (صحیح )
ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب ؓ کی تلوار کی طرح بنائی، اور سمرہ ؓ کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ ﷺ کے تلوار کی طرح بنائی تھی اور آپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔
Ibn Sirin (RA) said: I crafted my sword on the pattern of the sword of Samurah and Samurah believed that he had crafted his sword on the pattern of the sword of Allah’s Messenger’s which was like the swords of Banu Hanif.
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - یحییٰ بن سعید قطان نے عثمان بن سعد کاتب کے سلسلے میں کلام کیا ہے اور حافظہ میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٦٣٢) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان بن سعد الکاتب ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب نبی اکرم ﷺ مرالظہران ١ ؎ پہنچے اور ہم کو دشمن سے مقابلہ کی خبر دی تو آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا، لہٰذا ہم سب لوگوں نے روزہ توڑ دیا ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) narrated : When, on the occasion of the conquest of Makkah, the Prophet ﷺ reached Marr az-Zahran, he informed us of the encounter with the enemy and commanded us to break our fast. So, we had iftar (broke our fast), all of us. [Muslim 1120, Abu Dawud 2406]
صحيح، صحيح أبي داود (2081)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1684
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور عسفان کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ٢ ؎: اگر مجاہدین ایسے مقام تک پہنچ چکے ہیں جس سے آگے دشمن سے ملاقات کا ڈر ہے تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا بہتر ہے، اور اگر یہ امر یقینی ہے کہ دشمن آگے مقابلہ کے لیے موجود ہے تو روزہ توڑ دینا ضروری ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا: کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ rode the horse of Abu Talhah (RA) It was named Mandub. He said (on returning after reconnaisance), There is nothing to fear. And I found him to be (swift). Like water.” [Bukhari 2627, 2307]
صحيح، ابن ماجة (2772)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1685
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے بھی روایت ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں گھبراہٹ کا ماحول تھا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے «مندوب» نامی گھوڑے کو ہم سے عاریۃ لیا ہم نے کوئی گھبراہٹ نہیں دیکھی اور گھوڑے کو چال میں ہم نے سمندر پایا۔
Sayyidina Anas (RA) reported that there was some alarm in Madinah. So, Allah’s Messenger ﷺ borowed a horse belonging to us. It was named Mandub. (On returning), he said, “We did not see anything frightful, but we found him (the horse, swift) like a sea.”
صحيح انظر ما قبله (1685)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1686
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا: ابوعمارہ! ١ ؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے فرار ہوگئے تھے؟ کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کردیا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ٢ ؎، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ٣ ؎۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) itarrated that someone asked him, “O Abu Umarah, had you deserted Allah’s Messenger ?“ He said, “No, by Allah! Allah’s Messenger ﷺ . I did not turn away but a few hasty people turned away. Those were confronted by the archers of the Hawazin. Allah’s Messenger ﷺ was riding a mule and Abu Sufyan (RA) ibn Harith ibn Abdul Muttalib held its reins. Allah’s Messenger -‘ was saying all the while, “I am the Prophet. No lie. I am the son of Abdul Muttalib.” [Bukhari 2930, Muslim 1776]
صحيح مختصر الشمائل (209)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1688
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ براء بن عازب ؓ کی کنیت ہے۔ ٢ ؎: ابوسفیان بن حارث نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں، مکہ فتح ہونے سے پہلے اسلام لے آئے تھے، نبی اکرم ﷺ مکہ کی جانب فتح مکہ کے سال روانہ تھے، اسی دوران ابوسفیان مکہ سے نکل کر نبی اکرم ﷺ سے راستہ ہی میں جا ملے، اور اسلام قبول کرلیا، پھر غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ٣ ؎: اس طرح کے موزون کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بلاقصد و ارادہ نکلے تھے، اس لیے اس سے استدلال کرنا کہ آپ شعر بھی کہہ لیتے تھے درست نہیں، اور یہ کیسے ممکن ہے جب کہ قرآن خود شہادت دے رہا ہے کہ آپ کے لیے شاعری قطعاً مناسب نہیں، عبدالمطلب کی طرف نسبت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ لوگوں میں مشہور شخصیت تھی، یہی وجہ ہے کہ عربوں کی اکثریت آپ ﷺ کو ابن عبدالمطلب کہہ کر پکارتی تھی، چناچہ ضمام بن ثعلبہ ؓ نے جب آپ کے متعلق پوچھا تو یہ کہہ کر پوچھا:«أيكم ابن عبدالمطلب؟»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٦١ (٢٨٨٤)، و ٩٧ (٢٩٣٠)، والمغازي ٥٤ (٤٣١٥-٤٣١٧)، صحیح مسلم/الجہاد ٢٨ (١٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٤٨)، و مسند احمد (٤/٢٨٩) (صحیح )