جہاد کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 21 · 185 hadiths · Page 6 of 9

1651Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ يَدِهِ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ١ ؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہوجائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A walk in the path of Allah in the morning or in the evening is better than the world and what it contains. And the space in paradise equal to the bow of one of you, or to his hand, is better than the world and that which it has. And if a woman of the women of paradise were to come down to earth then she would illuminate whatever (space) is between heaven and earth and fill what is between them with fragrance. And, indeed, her scarf on her head is better than the world and what is in it.” [Ibn e Majah 2757, Nisai 3218]

صحيح، ابن ماجة (2757)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1651
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر کسی کو دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں حاصل ہوجائیں، پھر وہ انہیں اطاعت الٰہی میں رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کر دے، اس خرچ کے نتیجہ میں اسے جو ثواب حاصل ہوگا اس سے مجاہد فی سبیل اللہ کا ثواب کہیں زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٢)، و ٦ (٢٧٩٦)، والرقاق ٥١ (٦٥٥٨)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٧٧٠)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٧٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٧)، و مسند احمد (٣/١٢٢، ١٤١، ١٥٣، ١٥٧، ٢٠٧، ٢٦٣، ٢٦٤) (صحیح )
1648Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ١ ؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina SahI ibn Sad Sa’idi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, A morning expedition in the path of Allah is better than the world and what it contains and the space of a whip in paradise is better than the world and all that it has.” [Bukhari 2794, Muslim 1880]

صحيح، ابن ماجة (2756)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1648
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیا گیا، کیونکہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اتر نے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے، گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہوگئی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔ اور دوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدار ومسافت بتلا کر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٤)، و ٧٣ (٢٨٩٢)، وبدء الخلق ٨ (٣٢٥)، والرقاق ٢ (٦٤١٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨١)، سنن النسائی/الجہاد ١١ (٣١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٧٥٦)، والزہد ٣٩ (٤٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٤)، و مسند احمد (٣/٤٣٣)، و (٥/٣٣٠، ٣٣٧، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٩ (٢٤٤٣) (صحیح )
1649Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَجَّاجُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ: سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو حَازِمٍ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ: سَلْمَانُ وَهُوَ مَوْلَى عَزَّةَ الْأَشْجَعِيَّةِ.

ابوہریرہ ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) and lbn Abbas reported from the Prophet ﷺ . He said, “A morning expedition in the path of Allah, or an evening expedition, is better than the world and what it contains.” [Bukhari 2792, Muslim 1882]

صحيح، الإرواء (5 / 3 و 4)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1649
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٦٤٧٤)، وانظر: مسند احمد (١/٢٥٦) (صحیح )
1650Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةٌ مِنْ مَاءٍ عَذْبَةٌ، فَأَعْجَبَتْهُ لِطِيبِهَا، فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ، وَلَنْ أَفْعَلَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ مُقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ سَبْعِينَ عَامًا، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ ؟ اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی کسی پہاڑی کی گھاٹی سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، وہ جگہ اور چشمہ اپنی لطافت کی وجہ سے اسے بہت پسند آیا، اس نے کہا (سوچا) : کاش میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس گھاٹی میں قیام پذیر ہوجاتا، لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کرلوں اس نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا: ایسا نہ کرو، اس لیے کہ تم میں سے کسی کا اللہ کے راستے میں کھڑا رہنا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھتے رہنے سے بہتر ہے، کیا تم لوگ نہیں چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم کو جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس نے اللہ کی راہ میں دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔

Sav’idina Abu Hurayrah (RA) narrated: One of the sahabah of the Prophet ﷺ passed by a valley which had a spring of sweet water. He was overwhelmned by its beauty. He thought, If I keep away from people then I would retire to this valley. But, I would never do that unless I seek the permission of Allahs Messenger ﷺ . So he mentioned that to Allah’s Messenger-L-- I who said, “Do not do so, for, the station of one of you in Allah’s path (in jihad) is more excellent than his salah in his home for seventy years. Do you not love that Allah should forgive you and admit you to paradise? So, wage jihad in Allah’s path. If anyone engages in jihad for as long as the time between two milkings of a she-camel then paradise will become wajib for him” (meaning that he would be assured of entry therein). [Ahmed 1079]

حسن، التعليق الرغيب (2 / 174)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1650
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٣٥٧٩)، وانظر: مسند احمد (٢/٤٤٢، ٥٢٤) (حسن )
1652Sunan At-Tirmidhi

بہترین لوگ کون ہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتادوں؟ یہ وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے رہے، کیا میں تم لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں نہ بتادوں جو مرتبہ میں اس کے بعد ہے؟ یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں سے الگ ہو کر اپنی بکریوں کے درمیان رہ کر اللہ کا حق ادا کرتا رہے، کیا میں تم کو بدترین آدمی کے بارے میں نہ بتادوں؟ یہ وہ آدمی ہے جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ نہ دے ۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Shall I not tell you who the best of men is? The man who holds the rein of his horse in the path of Allah. Shall I not tell you who follows him? The man who is withdrawn with his sheep yet gives the right of Allah from that. Shall I not inform you who the most evil of men is? The man who seeks in the name of Allah, but is not given anything.” [Ahmed 2961]

صحيح، الصحيحة (255)، التعليق الرغيب (2 / 173)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1652
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس ؓ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٧٤ (٢٥٧٠)، (تحفة الأشراف: ٥٩٨٠)، و مسند احمد (١/٢٣٧، ٣١٩، ٣٢٢)، سنن الدارمی/الجہاد ٦ (٢٤٠٠) (صحیح )
1653Sunan At-Tirmidhi(1654)

شہادت کی دعا مانگنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ، أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ الشَّهِيدِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا ثواب دے گا ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone prays to Allah truthfully from his heart to be killed in Allah’s path then Allah grants him the reward of a martyr. [Abu Dawud 2541]

صحيح، ابن ماجة (2792)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1654
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٤٢ (٢٥٤١)، سنن النسائی/الجہاد ٢٥ (٢١٤٣)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٣٧٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٩)، و مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٧٥، ٢٤٤)، سنن الدارمی/الجہاد ٥ (٢٤٣٩)، ویأتي برقم ١٦٥٧ (صحیح )
1654Sunan At-Tirmidhi(1653)

شہادت کی دعا مانگنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مِنْ قَلْبِهِ صَادِقًا، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ يكنى أبا شريح وهو إسكندراني، وفي الباب، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے ١ ؎۔

Sayyidina Sahl ibn Hunayf (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone prays to Allah sincerely from his heart for martyrdom then Allah will consign him to the ranks of martyrs even if he dies on his bed.” [Muslim 1909, Abu Dawud 1520, Muslim 3126, Ibn e Majah 2797]

صحيح، ابن ماجة (2797)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1653
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سہل بن حنیف کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن شریح کی ہی روایت سے جانتے ہیں، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن شریح سے عبداللہ بن صالح نے بھی روایت کیا ہے، عبدالرحمٰن بن شریح کی کنیت ابوشریح ہے اور وہ اسکندرانی (اسکندریہ کے رہنے والے) ہیں، ٢ - اس باب میں معاذ بن جبل ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وہ شہید ہو کر نہ مرے تو بھی وہ شہداء کے حکم میں ہوگا اور شہیدوں کا ثواب اسے حاصل ہوگا گویا شہادت کے لیے صدق دلی سے دعا کرنے کی وجہ سے اسے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔ اللہ کی راہ میں شہادت کی دعا اہل ایمان کو کرتے ہی رہنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤٦ (١٩٠٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٢٠)، سنن النسائی/الجہاد ٣٦ (٣١٦٤)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٥)، سنن الدارمی/الجہاد ١٦ (٢٤٥١) (صحیح )
1655Sunan At-Tirmidhi

مجاہد، مکاتب اور نکاح کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَوْنُهُمْ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالنَّاكِحُ الَّذِي يُرِيدُ الْعَفَافَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں کی مدد اللہ کے نزدیک ثابت ہے ١ ؎ ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، دوسرا وہ مکاتب غلام جو زر کتابت ادا کرنا چاہتا ہو، اور تیسرا وہ شادی کرنے والا جو پاکدامنی حاصل کرنا چاہتا ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Three people have a right to Allah’s help: the warrior in Allah’s path, the mukatab who resolves to pay and the one who marries with intention of being chaste.” [Nisai 3120., Ibn e Majah 2518, Ahmed 9637]

حسن، ابن ماجة (2518)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1655
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تینوں مدد کا وعدہ کر رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ١٢ (٣١٢٢)، والنکاح ٥ (٣٢٢٠)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٣٩) (حسن )
1656Sunan At-Tirmidhi(1657)

مجاہد، مکاتب اور نکاح کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً، فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ، وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان اللہ کی راہ میں اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے برابر جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگے یا چوٹ آئے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا زخم دنیا کے زخم سے کہیں بڑا ہوگا، رنگ اس کا زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی ۔

Sayyidina Mu’adh ibnJabal (RA)reported.that the Prophet ﷺ said, “If anyone fights in Allah’s way even as long as the pause between two milkings of a she camel then he is assured of paradise. And if anyone receives a wound in Allah’s cause or is hurt somewhat then he will come on the Day of Resurrection with the largest of wounds whose colour is safron and whose smell is musk.” [Abu Dawud 2541]

صحيح، ابن ماجة (2792)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٥٤ (صحیح )
1657Sunan At-Tirmidhi(1656)

جہاد میں زخمی ہونے کی فضلیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہوگا - اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ١ ؎- قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی ۔

Sayyidiina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No one is wounded in Allah’s path and Allah knows best who is wounded in His path.. but he will corfe on the Day of Resurrection with the colour of blood and the odour of musk.” [Bukhari 36, Muslim 1876]

صحيح، ابن ماجة (2795)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1656
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی راہ جہاد میں زخمی ہونے والا کس نیت سے جہاد میں شریک ہوا تھا، اللہ کو اس کا بخوبی علم ہے کیونکہ اللہ کے کلمہ کی بلندی کے سوا اگر وہ کسی اور نیت سے شریک جہاد ہوا ہے تو وہ اس حدیث میں مذکور ثواب سے محروم رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٠ (٢٨٠٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٨ (١٨٧٦)، سنن النسائی/الجہاد ٢٧ (٣١٤٩)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٢٠)، و مسند احمد (٢/٢٤٢، ٣٩٨، ٤٠٠، ٥١٢، ٥٣١، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الجہاد ١٥ (٢٤٥٠) (صحیح )
1658Sunan At-Tirmidhi

کون سا عمل افضل ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ، أَوْ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ ؟ قَالَ: الْجِهَادُ سَنَامُ الْعَمَلِ ، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے، یا کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ، پوچھا گیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: جہاد، وہ نیکی کا کوہان ہے ۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: حج مبرور (مقبول) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: Allah’s Messenger was asked, “Which of the deeds is most excellent? And which of the deeds is the best? He said, ‘Belief in Allah and His Messenger ﷺ He was asked, O What, next? He said, “Jihad is the most excellent deed. He was asked, ‘What after that, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Next is the Hajj that is accepted (into Allahs grace).’ [Ahmed 8693, Bukhari 26, Muslim 83, Nisai 4995]

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1658
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٠) (حسن صحیح) (وراجع: صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦)، والحج ٤ (١٥١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٦ (٨٣)، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٥)، والجھاد ١٧ (٣١٣٢)، و مسند احمد (٢/٢٨٧ )
1659Sunan At-Tirmidhi

کون سا عمل افضل ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رَثُّ الْهَيْئَةِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ، وَكَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ، وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي مُوسَى، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: هُوَ اسْمُهُ.

ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں ١ ؎، قوم میں سے ایک پراگندہ ہیئت والے شخص نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چناچہ وہ آدمی لوٹ کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میں تم سب کو سلام کرتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ دیا اور اس سے لڑائی کرتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔

Sayyidina Abu Musa Ash’ary reported that he heard from Allah’s Messenger —‘ that the gates of paradise are under the shadow of swords. So, a man of shabby, tattered appearance asked, “Did you hear this from Allah’s Messenger ﷺ ?“ He said, “Yes’ So, he returned to his friends and offered them hissalaam (greetings), broke the scabbard of his sword and struck (the enemy) with it till he was killed. [Ahmed 19555, Muslim 1902]

صحيح، الإرواء (5 / 7)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1659
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان ضبعی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد اور اس میں شریک ہونا جنت کی راہ پر چلنے اور اس میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤١ (١٩٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩١٣٩)، و مسند احمد (٤/٣٩٦، ٤١١) (صحیح )
1660Sunan At-Tirmidhi

کون سا آدمی افضل ہے

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that someone asked Allah’s Messenger ﷺ Which man is most excellent? He said, The man who wages jihad in Allah’s cause. He was asked, “Who next? He said, “A Believer in one of the mountain passes, who fears his Lord and keeps people safe from his mischief.” [Bukhari 2786, Nisai 1888]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 173)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1660
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے قطعاً یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیونکہ بعض احادیث میں «ويؤتی الزکاة» کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہوگا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی اور وہ دور شاید بہت قریب ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٢ (٢٧٨٦)، والرقاق ٣٤ (٦٤٩٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٨)، سنن ابی داود/ الجہاد ٥ (٢٤٨٥)، سنن النسائی/الجہاد ٧ (٣١٠٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٣ (٣٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٤١٥١)، و مسند احمد (٣/١٦، ٣٧، ٥٦، ٨٨) (صحیح )
1663Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، ( ١ ) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے، ( ٢ ) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے، ( ٣ ) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ( ٤ ) «فزع الأكبر» (عظیم گھبراہٹ والے دن) سے مامون رہے گا، ( ٥ ) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، ( ٦ ) بہتر ( ٧٢ ) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ١ ؎۔

Sayyidina Miqdam ibn Ma’dikarib (RA) reported that Allah’s Messenge ﷺ said, “There are with Allah six blessings for the martyr. (1) He is forgiven with the first drop of blood. (2) He is shown his abode in paradise. (3) He is preserved from the torment of the grave and is safe from the great fear on the Day of Resurrection. (4) A crown of honour ingrained with pearl is placed on his head, which is better than the world and what it contains. (5) He is married to seventy-two maidens (huris) of paradise. (6) His intercession for his seventy relatives is accepted.” [Ahmed 12013, Ibn e Majah 2799]

صحيح أحكام الجنائز (35 - 36)، التعليق الرغيب (2 / 194)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1663
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ چھ خصلتیں ایسی ہیں کہ شہید کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ہوں گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٦ (٢٧٩٩)، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٦)، و مسند احمد (٤/١٣١) (صحیح )
1661Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَسُرُّهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا غَيْرُ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، يَقُولُ: حَتَّى أُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مِمَّا يَرَى مِمَّا أَعْطَاهُ مِنَ الْكَرَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے، کہتا ہے: (دل چاہتا ہے کہ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger said, “None of the inhabitants of paradise will be pleased to return to the world, save the martyr. He would love to return to the world, saying, “Till I am killed ten hmes in the path of Allah,” because of what he sees of the grants of Allah in honouring him.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1661
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٤٣ (تحفة الأشراف: ١٣٨٦) (صحیح )
1662Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اس سند سے بھی انس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

Muhammad ibn Bashshar reported it from Muhammad ibn Ja’far, from Shu’bah, from Qatadah, from Anas who from the Prophet ﷺ of the same meaning as this hadith

**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1662
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٤٣ (تحفة الأشراف: ١٢٥٢) (صحیح )
1664Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَرَوْحَةٌ يَرُوحُهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لَغَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں سرحد کی ایک دن کی پاسبانی کرنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور بندے کا اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Sahi ibn Sad (RA) reported that Allah’s Messenger i saiu “To guard the frontiers for a day in Allah’s cause is better than the world and what is on it. A expedition in the evening by a man in Allah’s cause, or in the morning, is better than the world and whatever is on it. And the space of a whip in paradise is better than the world and whatever is on it.’ [Ahmed 22935]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1664
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٤٨ (صحیح )
1665Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ، وَرُبَّمَا قَالَ: خَيْرٌ، مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ سلمان فارسی ؓ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے، وہ اپنے «مرابط» (سرحد پر پاسبانی کی جگہ) میں تھے، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا، سلمان فارسی ؓ نے کہا: ابن سمط؟ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، سلمان ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزہ رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے، آپ نے «أفضل» کی بجائے کبھی «خير» (بہتر ہے) کا لفظ کہا: اور جو شخص اس حالت میں وفات پا گیا، وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جائے گا ١ ؎۔

Muhammad ibn Munkadir narrated Salman Farsi (RA) passed by Shurahbil ibn Simt while he was within his post. He was finding it very taxing on himself. Salman asked him if he might not narrate to him a hadith of Allah’s Messenger ﷺ He said, “Of course!” He said that he had heard Allah’s Messenger say, “Guarding the frontiers for a day in Allah’s path is more excellent”...or, he said, better.... “than fasting a month and standing in prayer in its nights. And, if one dies during it then he is safe from the torment of the grave and his deeds will go on growing for him till the last Hour.” [Muslim 1913]

صحيح، الإرواء (1200)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1665
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مرنے سے اس کے ثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا، بلکہ تاقیامت جاری رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٠ (١٩١٣)، سنن النسائی/الجہاد ٣٩ (٣١٦٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٠)، و مسند احمد (٥/٤٤٠، ٤٤١) (صحیح) (مؤلف کی سند میں محمد بن المنکدر اور سلمان فارسی ؓ کے درمیان انقطاع ہے، مگر مسلم اور نسائی کی سند جو بطریق شرحبیل بن سمط ہے متصل ہے )
1666Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: هُوَ ثِقَةٌ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جہاد کے کسی اثر کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملے ١ ؎ تو وہ اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ اس کے اندر خلل (نقص و عیب) ہوگا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah it reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who meets Allah without a mark of jihad, meets him with a flaw in him.” [Ibn e Majah 2763]

ضعيف، ابن ماجة (2763) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (605)، المشکاة (3835)، ضعيف الجامع الصغير (5833) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1666
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ولید بن مسلم کے واسطے سے اسماعیل بن رافع کی روایت سے ضعیف ہے، بعض محدثین نے اسماعیل بن رافع کی تضعیف کی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: اسماعیل ثقہ ہیں، مقارب الحدیث ہیں، ٢ - یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٣ - سلمان کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن منکدر نے سلمان کو نہیں پایا ہے، یہ حدیث «عن أيوب بن موسیٰ عن مکحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد کی نشانیاں مثلاً زخم، اس کی راہ کا گرد و غبار، تھکان، جہاد کے لیے مال و اسباب کی فراہمی اور مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنا، ان میں سے اس شخص کے ساتھ اگر کوئی چیز نہیں ہے تو رب العالمین سے اس کی ملاقات کامل نہیں سمجھی جائے گی، بلکہ اس میں نقص و عیب ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ٥ (٢٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی اسماعیل بن رافع کا حافظہ کمزور تھا )
1667Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُثْمَانَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَنَازِلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ اسْمُهُ: تُرْكَانُ.

ابوصالح مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے منبر پر عثمان ؓ کو کہتے سنا: میں نے تم لوگوں سے ایک حدیث چھپالی تھی جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ تم مجھ سے جدا ہوجاؤ گے ١ ؎ پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں تم لوگوں سے اسے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے وہی چیز اختیار کرے جو اس کی سمجھ میں آئے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی پاسبانی کرنا دوسری جگہوں کے ایک ہزار دن کی پاسبانی سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Abu Salih the freedman of Sayyidina Uthman ibn Affannarrated: I heard Uthman say from the minbar (pulpit), ‘1 had concealed from you a hadith that 1 had heard from Allah’s Messenger ﷺ in dislike of your disagreement with me. Then I thought that I should narrate it to you and let anyone think what he likes. I heard Allah’s Messenger say: Guarding the frontiers for a day in Allah’s path is better than a thousand days spent in homes.” [Ahmed 442, Nisai 3169]

حسن، التعليق الرغيب (2 / 152 / التحقيق الثانی)، التعليق علی الأحاديث المختارة (305 - 310)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1667
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس حدیث میں جہاد سے متعلق جو فضیلت آئی ہے اسے سن کر تم لوگ سرحدوں کی پاسبانی اور اس کی حفاظت کی خاطر ہم سے جدا ہوجاؤ گے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٣٩ (٣١٧١)، (تحفة الأشراف: ٩٨٤٤)، و مسند احمد (١/٦٢، ٦٥، ٦٦، ٧٥)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٢ (٢٤٦٨) (حسن )