ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاد میں (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، خادم کا عطیہ دینا اور جوان اونٹنی دینا سب سے افضل و بہتر صدقہ ہے ۔
it is also narrated by Ziyad ibn Ayyuh from Vazid ibn Harun, from Walid ibn Jamil, from Qasim Abu Abdur Rahman from Abu Umamah i from the Prophet ﷺ the most excellent sadaqah is to provide the shade of a tent in jihad a servant or a she-camel.
حسن انظر ما قبله (1626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1627
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - میرے نزدیک یہ معاویہ بن صالح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے اہل و عیال میں اس کی جانشینی کی (اس کے اہل و عیال کی خبرگیری کی) حقیقت میں اس نے جہاد کیا ۔
Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni reported that Allah’s Messenger said, “If anyone equips a warrior in Allah’s path then indeed he is as one engaged in jihad. If one looks after the family of a warrior when he is away then he is indeed as one engaged in jihad.” [Bukhari 2843, Muslim 1895]
صحيح، ابن ماجة (2759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1628
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣٨ (٢٨٤٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٨ (١٨٩٣)، سنن ابی داود/ الجہاد (٢٥٠٩)، سنن النسائی/الجہاد ٤٤ (٣١٨٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣ (٢٧٥٩) (تحفة الأشراف: ٣٧٤٧)، و مسند احمد (٤/١١٥، ١١٦، ١١٧)، و (١٩٢٥، ١٩٣)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٧ (٢٤٦٣) (صحیح )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا، یا اس کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا ۔
Abu Umar reported from Sufyan, from Ibn Abu Layla, from Ata, from Zayd ibn Khalid Junanni a hadith of kind.
صحيح بما قبله (1628)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1629
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٣٧٦١) (صحیح بما قبلہ) (سند میں ” محمد بن ابی لیلیٰ “ ضعیف ہیں، مگر پچھلی سند صحیح ہے )
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا ۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Abdur Rahman ibn Mahdi, from Harb, from Yahya ibn Abu Kathir, from Abu Salamah, from Busr ibn Sa’eed, from Zayd ibn Khalid Juhanni that the Prophet ﷺ isaid, “He who equips a warrior is as though he took part in jihad.”
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا کہ مجھے عبایہ بن رفاعہ بن رافع ملے، انہوں نے کہا: خوش ہوجاؤ، تمہارے یہ قدم اللہ کے راستے میں ہیں، میں نے ابوعبس ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے دونوں پیر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں، انہیں جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی ۔
Yazid ibn Maryam narrated Abayah (RA) Rifa’ah ibn Rafi met me while I was walking (towards the mosque) for Friday. He said, “Good news for your steps in the path of Allah. I had heard Abu Abs say that Allah’s Messenger said, “If anyone’s feet become dusty in Allah’s path then they are forbidden to the Fire.” [Bukhari 907]
صحيح، الإرواء (1183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1632
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - ابوعبس کا نام عبدالرحمٰن بن جبر ہے، ٣ - اس باب میں ابوبکر اور ایک دوسرے صحابی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٨ (٩٠٧)، والجہاد ١٦ (٢٨١١)، سنن النسائی/الجہاد ٩ (٣١١٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٩٢)، و مسند احمد (٣/٤٧٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، (اور یہ محال ہے) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “ A man who weeps from fear of Allah will not go to Hell till the milk returns to the udder. And dust in Allah’s path and smoke of Hell will never come together (on anyone). [Nisai 3107]
١ ؎: یعنی جس طرح دنیا و آخرت ایک دوسرے کی ضد ہیں کہ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، اسی طرح راہ جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد (٣١٠٩)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٨٣)، و مسند احمد (٢/٥٠٥)، ویأتي في الزہد برقم ٢٣١١) (صحیح )
سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، شرحبیل بن سمط نے کہا: کعب بن مرہ ؓ! ہم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کیجئے اور کمی زیادتی سے محتاط رہئیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو اسلام میں بوڑھا ہوجائے، تو قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور بن کر آئے گا ۔
Saalim ibn Abu Ja’d reported from Shurahbil ibn Simt, that Sayyidina Ka’b ibn Murrah reported that Allah’s Messenger said, “He who grows old in Islam then his grey hair will be light for him on the day of resurrection.” {That is grows old while waging jihad).
١ - اس باب میں فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - کعب بن مرہ ؓ کی حدیث کو اعمش نے اسی طرح عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث منصور سے بھی آئی ہے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ہے، انہوں نے سالم اور کعب بن مرہ کے درمیان سند میں ایک آدمی کو داخل کیا ہے، ٣ - کعب بن مرہ کو کبھی کعب بن بن مرہ اور مرہ بن کعب بہزی بھی کہا گیا ہے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٢٦ (٣١٤٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٦٤)، و مسند احمد (٤/٢٣٥-٢٣٦) (صحیح )
عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوجائے قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہوگا ۔
Amr ibn Abasah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who grows old in Allah’s cause will have his hair as light for him on the Day of Resurrection.” [Nisai 3142]
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث اجر ہے، ایک وہ گھوڑا ہے جو آدمی کی (عزت و وقار) کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہے، اور ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث گناہ ہے، وہ آدمی جس کے لیے گھوڑا باعث اجر ہے وہ ایسا شخص ہے جو اس کو جہاد کے لیے رکھتا ہے، اور اسی کے لیے تیار کرتا ہے، یہ گھوڑا اس شخص کے لیے باعث اجر ہے، اس کے پیٹ میں جو چیز (خوراک) بھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اجر و ثواب لکھ دیتا ہے ، اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, The horses have good tied in their forelocks till the Day of Resurrection. The horse has three things: It is for man a reward. It is for man a screen (of defects). And it is for man a burden (which is a cause of sin and Punshment). As for the one for whom it is reward, he uses it for Allah’s cause, pwpares it for that so it is for him a reward. Nothing will go in its belly but Allah will record for him a reward. [Bukhari 2860]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1636
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک بن انس نے بطریق: «زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابن ابی الحسین (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو ، آپ نے فرمایا: تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں ۔
Sayvidina Abdullah ibn Abdur Rahman ibn Abu Husayn reported that Allah s Messenger said, “Indeed, Allah will admit to paradise three men because of one arrow; The maker who has a good motive in his mind while making it, the shooter and the one who hands it to him. He said further, Shoot and ride. And, that you shoot is dearer to me than that you ride. Every thing with which a Muslim man amuses himself is void except his shooting with a how, his training of his horse and his playing with his wife for they are among the right.’ [Ibn e Majah 2811]
ضعيف، ابن ماجة (2811) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (618)، وفي صحيح ابن ماجة برقم (2267)، ضعيف أبي داود (540 / 2513)، الصحيحة (315) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1637
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٨٩١٤) (ضعیف) (اس کی سند میں دو راوی تبع تابعی اور تابعی ساقط ہیں، لیکن ” كُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلاَعَبَتَهُ أَهْلَهُ “ والا ٹکڑا اگلی سند سے تقویت پا کر صحیح ہے )
ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر مارا، وہ (ثواب میں) ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
Sayyidina Abu Najih Salami (RA) reported having heard Allah’s Messenger say, ‘If anyone throws an arrow in Allah’s cause then it is for him like setting free a slave.” [Abu Dawud 3965]
صحيح، ابن ماجة (2812)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1638
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابونجیح کا نام عمرو بن عبسہ سلمی ہے، ٣ - عبداللہ بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ العتق ١٤ (٣٩٦٥)، سنن النسائی/الجہاد ٢٦ (٣١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٨)، و مسند احمد (٤/١٣، ٣٨٦) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو ۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘(There are) two eyes that the Fire will never touch, the eye that wept from fear of Allah and the eye that stood guard in the night in Allah’s path.” [Ahmed 17211]
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہداء کی روحیں (جنت میں) سبز پرندوں کی شکل میں ہیں، جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے کھاتی چرتی ہیں ۔
Sayyidina Ka’b ibn Maalik reported that Allah’s Messenger said, “The souls of the martyrs are in green birds that rest on fruit of paradise or, trees of paradise.” [Nisai 2069]
صحيح، ابن ماجة (4271)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1641
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ ( (١٤٤٩)، والزہد ٣٢ (٤٢٧١)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٨)، وط/الجنائز ١٦ (٤٩)، و مسند احمد (٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے اوپر ان تین اشخاص کو پیش کیا گیا جو جنت میں سب سے پہلے جائیں گے: ایک شہید، دوسرا حرام سے دور رہنے والا اور نامناسب امور سے بچنے والا، تیسرا وہ غلام جو اچھی طرح اللہ کی عبادت بجا لائے اور اپنے مالکان کے لیے خیر چاہے یا ان کے حقوق بجا لائے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The first three people who will enter paradise were presented to me... a martyr, one who abstains from both the unlawful and the doubtful and a slave who perfects (his) worship of Allah and serves his master well.” [Ahmed 9491]
ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 268)، // ضعيف الجامع الصغير (3702)، المشکاة (3832) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1642
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي) وانظر: مسند احمد (٢/٤٢٥) (ضعیف) (سند میں عامر العقیلی مجہول ہیں اور ان کے والد عقبہ العقیلی مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کے وقت، اور یہاں کوئی متابع نہیں ہے، نیز یحییٰ بن ابی کثیر مدلس اور ارسال کرنے والے راوی ہیں، اور یہاں پر ان کی روایت عنعنہ سے ہے، اور ان سے روایت کرنے والے علی بن المبارک الہنائی کی یحییٰ بن ابی کثیر سے دو کتابیں تھیں ایک کتاب کا انہیں سماع حاصل تھا، اور دوسری روایت مرسل اور کوفی رواة جب علی بن المبارک سے روایت کرتے ہیں تو ان میں بعض ضعف ہوتا ہے، اور یہاں پر علی بن المبارک کے شاگرد عثمان بن عمر بصری راوی ہیں )
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں شہادت (شہید کے لیے) ہر گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: سوائے قرض کے ، نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا: سوائے قرض کے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ‘- said, “Being killed in Allah’s path atones for sin.” but Jibril (AS) interposed, “except debt.” So Allah’s Messenger said, “Except debt.”
صحيح، الإرواء (1196)، غاية المرام (351)، تخريج مشكلة الفقر (67)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1640
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو ابی بکر کی روایت سے صرف اسی شیخ (یعنی یحییٰ بن طلحہ) کے واسطے سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: میرا خیال ہے یحییٰ بن طلحہ نے حمید کی حدیث بیان کرنا چاہی جس کو انہوں نے انس سے، انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: شہید کے علاوہ کوئی ایسا جنتی نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہے ، ٣ - اس باب میں کعب بن عجرہ، جابر، ابوہریرہ اور ابوقتادہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨١٨) (صحیح) (عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث (عند مسلم) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے جس کی صراحت مؤلف نے کر سنن الدارمی/ ہے )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مرنے والا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کے لیے اللہ کے پاس ثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس کی خاطر لوٹنا چاہتا ہو۔ سوائے شہید کے، اس لیے کہ وہ شہادت کا مقام و مرتبہ دیکھ چکا ہے، چناچہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ شہید ہو (کر آئے) ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “No one who dies and finds blessings for him with Allah, will wish to return to the earth even if he is given the earth and what it contains. But the martyr. ..because of the honour he sees will love to return to the world and he killed once more.” [Ahmed 12265, Bukhari 2817, Muslim 1877]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1643
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: شہید چار طرح کے ہیں: پہلا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن سے مقابلہ اور اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے، یہی وہ شخص ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ اس طرح آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے اور (راوی فضالہ بن عبید نے اس کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کہا) اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ٹوپی (سر سے) گرگئی ، راوی ابویزید خولانی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم فضالہ نے عمر ؓ کی ٹوپی مراد لی یا نبی اکرم ﷺ کی، آپ نے فرمایا: دوسرا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن کا مقابلہ اس طرح کرے تو ان بزدلی کی وجہ سے اس کی جلد (کھال) «طلح» (ایک بڑا خاردار درخت) کے کاٹے سے زخمی ہوگئی ہو، پیچھے سے (ایک انجان) تیر آ کر اسے لگے اور مار ڈالے، یہ دوسرے درجہ میں ہے، تیسرا وہ مومن جو نیک عمل کے ساتھ برا عمل بھی کرے، جب دشمن سے مقابلہ کرے تو اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے (یعنی بہادری سے لڑتا رہے) یہاں تک کہ شہید ہوجائے، یہ تیسرے درجہ میں ہے، چوتھا وہ مومن شخص جو اپنے نفس پر ظلم کرے (یعنی کثرت گناہ کی وجہ سے، اور بہادری سے لڑتا رہے) یہاں تک کہ شہید ہوجائے، یہ چوتھے درجہ میں ہے ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There are four kinds of martyrs: -------------------------------------------------------------------------------- (1) A believing man, strong in faith, meets the enemy, hoping for reward from Allah, till he is slain, for him, men will raise their eyes on the day of resurrection like this and he raised his head till his cap fell off. I do not know Umar’s (RA) cap or the Prophet ﷺ “ (2) A believing man of firm faith, meets the enemy but fearing him as though he is pricked by thorns. A sudden arrow strikes him and kills him. He is in the second category. (3) A believing man who has mingled (his) good deeds with evil deeds. He meets the enemy, hoping for reward from Allah till he is killed. This one is in the third category. (4) A believing man who has wronged his self (with sin), meets the enemy, hoping for reward from Allah till he is killed. This one is in the fourth category.” [Ahmed 146]
ضعيف، المشکاة (3858 / التحقيق الثاني)، الضعيفة (2004) // ضعيف الجامع الصغير (3446) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1644
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عطاء بن دینار ہی کی روایت سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ حدیث سعید بن ابی ایوب نے عطاء بن دینار سے روایت کی ہے اور انہوں نے خولان کے مشائخ سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابویزید کا ذکر نہیں کیا، اور عطاء بن دینار نے کہا: (کہ اس حدیث میں) کچھ حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٣) (ضعیف) (سند میں ” ابویزید الخولانی “ مجہول ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بنت ملحان کے گھر جب بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں، ام حرام ؓ عبادہ بن صامت ؓ کے عقد میں تھیں، ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر میں جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں، آپ سو گئے، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، ام حرام ؓ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ آپ نے (جواب میں) فرمایا: میرے سامنے میری امت کے کچھ مجاہدین پیش کئے گئے، وہ اس سمندر کے سینہ پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ملوک علی الأسرة» کہا، یا «مثل الملوک علی الأسرة» میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے، چناچہ آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی، آپ پھر اپنا سر رکھ کر سو گئے، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ فرمایا: میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کئے گئے ، آپ نے اسی طرح فرمایا جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ مجھے ان لوگوں میں کر دے، آپ نے فرمایا: تم (سمندر میں) پہلے (جہاد کرنے) والے لوگوں میں سے ہو ۔ انس ؓ کہتے ہیں: معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے زمانہ میں ام حرام ؓ سمندری سفر پر (ایک جہاد میں) نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گرگئیں اور ہلاک ہوگئیں۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger used to visit Sayyidah Umm Haram bint Milhan. She used to cook food for her. She was the wife of Sayyidina Ubadahh ibn Samit. So, one day he went to her and she fed him and delayed him so that she could examine his head for lice. He went to sleep. When he woke up, he laughed. She asked, “What has made you laugh. O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Some people of my ummah were shown to me waging battle in Allah’s cause riding on planks as kings” or he said, “Like kings sitting on planks.” Sayyidah Umm Haram submited, “O Messenger of Allah, pray to Allah that. He may cause me to be among them.” He prayed for her. After that, he put down his head and went to sleep. Again, he awoke laughing. She asked him, “What makes you laugh, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Some people of my ummah were presented to me fighting a bathe in Allah’s cause,” and he said like what he had said before. She said, “O Messenger of Allah, pray to Allah that he should make me one of them.” He said, “You are among the first ones.” Thus Sayyidah Umm Haram sailed the sea in the times of Sayyidina Mu’awiyah ibn Abu Sufyan (RA) 1 hut when she came out, she fell down from her riding beast (and was martyred). [Bukhari 2788, Muslim 1912]
صحيح، ابن ماجة (2776)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1645
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ام حرام بنت ملحان، ام سلیم کی بہن اور انس بن مالک کی خالہ ہیں، (اور نبی اکرم ﷺ کے ننہال میں سے قریبی رشتہ دار تھیں) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣ (٢٧٨٨)، و ٨ (٢٧٩٩)، و ٦٣ (٢٨٧٧)، و ٧٥ (٢٨٩٤)، والاستئذان ٤١ (٦٦٢٨٢)، والتعبیر ١٢ (٧٠٠١)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٩ (٢٩١٢)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٠ (٢٤٩٠)، سنن النسائی/الجہاد ٤٠ (٣١٧٣)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٠ (٢٧٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٩٩) و موطا امام مالک/الجہاد ١٨ (٣٩)، و مسند احمد (٣/٢٦٤)، و انظر أیضا: ٦/٣٦١، ٤٢٣، ٤٣٥) (صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: ایک آدمی اظہار شجاعت (بہادری) کے لیے لڑتا ہے، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے، وہ اللہ کے راستے میں ہے ۔
Sayyidina Abu Musa narrated: Allah’s was asked about a man who fights for (his) bravery (to be seen) and one who fights to earn fame. “So, which of them is on Allah’s path?” He said, “He who fights that the word of Allah may be raised high, for he is on the path of Allah.” [Bukhari 2810, Muslim 1904]
صحيح، ابن ماجة (2783)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1646
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چناچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے مانی جائے گی اور جس نے حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab reported that Allah’s Messenger said, ‘Deeds revolve round the intention behind them. And (reward) for a man is what he intends. [hu,if a mans migration is for Allah and His Messenger then his migration is (recorded) for them; but, if his migration is for the world to earn it or for a woman to marry her then his migration is focussed on that for which he has migrated.” [Bukhari 1,54, Muslim 1907]
صحيح، ابن ماجة (4227)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1647
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک بن انس، سفیان ثوری اور کئی ائمہ حدیث نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید انصاری ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ہمیں اس حدیث کو ہر باب میں رکھنا چاہیئے۔