عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا ١ ؎۔
Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that Allah’s Messenger said, “if I live, Insha Allah. I will drive out the Jews and the Christians from the Arabian peninsula.” [Muslim 1767]
صحيح انظر ما قبله (1605)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1606
Notes · وضاحت
١ ؎: جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جاسکا، لیکن عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٢١ (١٧٦٧)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٢٨ (٣٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٩)، و مسند احمد (١/٣٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ نے ابوبکر ؓ کے پاس آ کر کہا: آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہوگا؟ انہوں نے کہا: میرے گھر والے اور میری اولاد، فاطمہ ؓ نے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ ابوبکر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہم (انبیاء) کا کوئی وارث نہیں ہوتا (پھر ابوبکر ؓ نے کہا) لیکن رسول اللہ ﷺ جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ ﷺ جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Sayyidiah Fatimah (RA) came to Sayyidina Abu Bakr (RA) and asked, “Who will inherit you?” He said, “My wife and my children.” She asked, “Then, what is with me that I do not inherit my father?” So, Abu Bakr (RA) ﷺ said, “I had heard Allah’s Messenger ﷺ say : We are not inherited. But, I will support whom Allah’s Messenger.i used to support and I will provide whom he used to provide.” [Bukhari 3092, Muslim 1759]Both of them reported from Muhammad ibn Umar, from Abu Salamah who from Abu Hurayrah [Ahmed 79]
صحيح مختصر الشمائل المحمدية (337)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1608
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے (مرفوعاً ) روایت کی ہو۔ (ترمذی کہتے ہیں: ہاں) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عمر، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ ؓ ابوبکر اور عمر ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: میرا کوئی وارث نہیں ہوگا ، فاطمہ ؓ بولیں: اللہ کی قسم! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چناچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: «لا أكلمکما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ (
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
) یہ حدیث کئی سندوں سے ابوبکر ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص ؓ بھی پہنچے، پھر علی اور عباس ؓ جھگڑتے ہوئے آئے، عمر ؓ نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، لوگوں نے کہا: ہاں! عمر ؓ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، ابوبکر ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر ؓ کے پاس آئے، ابوبکر ؓ نے کہا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، (عمر ؓ نے کہا) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے، نیک، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔
Maalik ibn Aws ibn Hadathani narrated : I visited Umar ibn Khattab (RA) Uthman ibn Affan (RA)Zubayr ibn Awf and Sad ibn Abu Waqqas (RA) also come there. Suddenly, Ali and Abbas came quarelling over something. Umar (RA) asked them, “I call upon you by Allah with Whose permission the heavens and earth exist do you know that Allah’s Messenger ﷺ said "We have no heirs and whatever we leave behind is sadaqah?” They affirmed, “Yes” Umar said, “When Allah’s Messenger died, Abu Bakr (RA) had said, ‘I am the custodian of Allah’s Messenger ﷺ And, you and he came to Abu Bakr, and you demanded your inheritance from the son of your brother, and he the inheritance of his wife from her father.-But, Abu Bakr (RA) told you that Allah’s Messenger ﷺ had said: We leave no heirs and what we leave behind is sadaqah. And Allah knows that he was true, righteous and an observer of truth.” {The hadith has a long account here). [Bukhari 3094, Muslim 1757]
صحيح مختصر الشمائل (341)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1610
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث میں تفصیل ہے، یہ حدیث مالک بن اوس ١ ؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی کے نسخوں میں «مالک بن أنس» ظاہر ہے کہ یہاں تفرد «مالک بن أوس» کا عمر بن خطاب سے، جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس لیے صواب «مالک بن أوس» ہے۔
حارث بن مالک بن برصاء ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Harith ibn Maalik ibn Barsa (RA) narrated: I heard the Prophet ﷺ say on the day of conquest of Makkah, There will be no battle against it after today till the IastHour.’ {It will never be a war area and land of the disblievers}. [Ahmed 19042]
صحيح، الصحيحة (2427)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1611
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مکہ اب دارالحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہوگا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
نعمان بن مقرن ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ (قتال سے) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے، پھر جہاد (شروع) کرتے۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں۔
Sayyidina Nu’man ibn Muqarrin narrated: I participated with the Prophet ﷺ ‘ in battles. When it was dawn, he stopped (fighting) till the sun rose. When the sun had risen, he began fighting. At the declination of the sun, he ceased (fighting) till the sun had passed the meridian, when the sun passed over the meridian, he resumed fighting till asr when he ceased (it) till he had prayed the asr. Then he resumed fighting. It was said about this hour that the helping wind blew and the Believers, in their salah, prayed for their armies.
نعمان بن مقرن ؓ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے جو موصول ہے، قتادہ کی ملاقات نعمان سے نہیں ہے، نعمان بن مقرن کی وفات عمر بن خطاب ؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف: ١١٦٤٩)، (ضعیف الإسناد) (قتادہ کی نعمان بن مقرن ؓ سے لقاء نہیں اس لیے اس سند میں انقطاع ہے، اگلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )
معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نعمان بن مقرن ؓ کو ہرمز ان کے پاس بھیجا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی، نعمان بن مقرن ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (کسی غزوہ میں) حاضر ہوا، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا۔
Hasan ibri Ali Khallal reported from Affan ibn Muslim and Hajjaj ibn Minhal, both of whom from Hammad ibn Salamah, from Abu Imran Jawni, from Alqamah ibn Abduilah Muzani, from Ma’qil ibn Yasar that Sayyidina Umar (RA) sent Nu’man ibn Muqarrin to Hurmuzan. Then he narrated a lengthy hadith. Nu’rnan ibn Muqarrin reported that he was present at fighting along with Allah’s Messenger and (he observed that) if he did not wage war at the day’s commencement, he waited till the sun’s decline, the blowing of winds and the arrival of (Divine) help. [Bukhari 3160]
صحيح، صحيح أبي داود (2385)، المشکاة (3933 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1613
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدفالی شرک ہے ١ ؎۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کردیتا ہے۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “To take evil omens is polytheism. There is none among us who does not get it, but Allah removes it by trust in Him. [Abu Dawud 3910, Ahmed 4194, Ibn e Majah 3538]
صحيح، ابن ماجة (3538)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1614
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے،
٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولکن اللہ يذهبه بالتوکل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، حابس تمیمی، عائشہ، ابن عمر اور سعد ؓ سے بھی روایتیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اعتقاد رکھنا کہ «طیرہ» یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر «لا إله إلا الله» پڑھنا بہتر ہوگا، کیونکہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٢٤ (٣٩١٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٣ (٣٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٧) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ١ ؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھی بات ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no infection and no evil omen (in Islam). But, I love a good omen.” They said, “O Messenger of Allah, and what is a good omen.” He said, “A good word.” [Muslim 2224]
صحيح، ابن ماجة (3537)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1615
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٤٤ (٥٧٥٦)، و ٥٤ (٥٧٧٦)، صحیح مسلم/السلام ٣٤٢ (٢٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨)، و مسند احمد (٣/١١٨) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Maalik reported obout the Prophet ﷺ that when he went out for his work, he loved to hear: (O rightly guided one!) (O sucessful one!).
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کرلو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو: ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو، اور ان کو بتادو کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتادو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں: مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، (اس کے خلاف نہ کرنا) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں ، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ١ ؎۔
Sulayman ibn Buraydah reported on the authority of his father (Sayyidina Buraydah that when Allah’s Messenger ﷺ sent a commander with an army, he instructed him to fear Allah himself particularly and be mindful of the good of the Muslims with him. He would also say. Go fight in the name of Allah and in His path. Fight those who disbelieve in Allah. Do not be unfaithful regarding the spoils, do not be treacherous and do not mutilate anyone and do not kill children. When you meet your enemy among the polytheists, invite them to one of the three things, and whichever of these they agree, accept that from them and refrain (to fight) from them. Invite them to Islam and to migrate from their areas to the regions of the Muhajirs and inform them that if they do that then for them is that which is for the Muhajirs, and the same responsibilities as for the Muhajirs. If they refuse to migrate then inform them that they will he like the Muslims of the deserts and the same injunctions will apply to them as to the desert Muslims, and they will have no share in booty or fai unless they participate in jihad. But, if they refuse then seek Allah’s help against them and fight them. So, if you surround a fort and they seek the protection of Allah and His Messenger then do not give it to them, but give them your protection and the profection of your friends, for, if you retract from your protection and the protection of your friends then that is better than your violating the protection of Allah and His Messenger . And if you have beseiged the people in a fort and they wish you to judge according to Allah’s commands then do not do it, but decide within your orbit because you do not know what the command of Allah is and whether you follow Allah’s commands or not in deciding the matter.” [Muslim 1731, Abu Dawud 2612, Ibn e Majah 2858, Ahmed 23039]
صحيح، ابن ماجة (2858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1617
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں نعمان بن مقرن ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر کفار و مشرکین غیر مشروط طور پر بغیر کسی معین شرط اور پختہ عہد کے اپنے آپ کو امیر لشکر کے حوالہ کرنے پر تیار ہوں تو بہتر، ورنہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق امیر سے معاملہ کرنا چاہیں تو امیر کو ایسا نہیں کرنا ہے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے، یہ حدیث اصول جہاد کے بڑے معتبر اصولوں پر مشتمل ہے جو معمولی سے غور وتامل سے واضح ہوجاتے ہیں۔ حدیث میں موجود نصوص کو مطلق طور پر اپنانا بحث و مباحثہ میں جانے سے کہیں بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٢ (١٧٣١)، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٠ (٢٦١٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٨ (٢٨٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩)، و مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٨)، سنن الدارمی/السیر ٥ (٣٤٨٣) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز فجر کے وقت ہی حملہ کرتے تھے، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا: «الله أكبر اللہ أكبر»، آپ نے فرمایا: فطرت (دین اسلام) پر ہے، جب اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہا، تو آپ نے فرمایا: تو جہنم سے نکل گیا ۔ حسن کہتے ہیں: ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے حماد بن سلمہ نے اسی سند سے اسی کے مثل بیان کیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ launched an attack only at the time of the salah of fajr. If he heard the adhan, he checked himself; otherwise he attacked. One day, he heard (it) and when the Mu’adhdhin called out Allahu Akbar, Aflahu Akbar, he said, “That is innate (to man).” When he said : (I bear witness that there is no God but Allah), he said, “You have come out of the Fire.” [Muslim 382, Abu Dawud 2634, Ahmed 12353]
صحيح، صحيح أبي داود (2368)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1618
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کہا گیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل (اجر و ثواب میں) جہاد کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہر مرتبہ کہتے: تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اور روزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا (یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that someone asked, ‘O Messenger of Allah, which deed is equivalent to jihad?’ He said, “You (people) are incapable of that,” The question was repeated twice or thrice and he said every time, “You are incapable of that,” The third time, he said, “The example of a warr.or in Allah’s cause is like one who lasts and stands in salah and does not allow any shortcoming to mar his salah and his fast till the warrior returns from (jihad in) Allah’s cause.” [Muslim 1877]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1619
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں شفاء، عبداللہ بن حبشی، ابوموسیٰ، ابوسعید، ام مالک بہز یہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح اللہ کی عبادت میں ہر آن اور ہر گھڑی مشغول رہنے والے روزہ دار اور نمازی کا ثواب برابر جاری رہتا ہے، اسی طرح اللہ کی راہ کے مجاہد کا کوئی وقت ثواب سے خالی نہیں جاتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٢٩ (١٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٩١)، و مسند احمد (٢/٤٢٤، ٤٣٨، ٤٦٥) (صحیح) (وانظر أیضا: صحیح البخاری/الجہاد ٢ ٢٧٨٧)، و سنن النسائی/الجہاد ١٤ (٣١٢٦ )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے (اس کے گھر) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said that Allah says, “The mujahid (warrior) in My path is My respocsibility. If I seize him (his soul), I make him an heir of paradise. And, if I return him then I send him back with a reward and a booty.”
فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کردیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ١ ؎۔
Sav’idina Fadalah ibn Ubayd (RA) reported from Allahs Messenger that he said, ‘Every dying person has his deeds sealed except one who dies guarding the frontiers in Allah s path. His deed is grown for him till the Day of Resurrection, and he is safe from the trial of the gra’e.” He also said that he heard Allah’s Messenger say, A muahid (warrior) is one who fights (or endeavours) against his own self. [Abu Dawud 2500]
صحيح، المشکاة (34 / التحقيق الثانی و 3823)، التعليق الرغيب (2 / 150)، الصحيحة (549)، صحيح أبي داود (1258)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1621
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - فضالہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عقبہ بن عامر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نفس امارہ جو آدمی کو برائی پر ابھارتا ہے، وہ اسے کچل کر رکھ دیتا ہے، خواہشات نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں، ان پر صبر کرتا ہے، یہی جہاد اکبر ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا ١ ؎۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ستر برس کہا ہے اور دوسرے نے چالیس برس ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, As for him who fasts one day in AlIahs path (during jihad), Allah will keep him away from the fire by a distance of seventy years. One of the narrators said, Seventy, while another said, Forty. [Nisai 2243]
صحيح باللفظ الأول، التعليق الرغيب (2 / 62)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1622
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے، ٣ - اس باب میں ابوسعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد کرتے وقت روزہ رکھنے کی فضیلت کے حامل وہ مجاہدین ہیں جنہیں روزہ رکھ کر کمزوری کا احساس نہ ہو، اور جنہیں کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو وہ اس فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤٤ (٢٢٤٦، ٢٢٤٨)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٤ (١٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨٦)، و مسند احمد (٢/٣٠٠، ٣٥٧) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” ابن لہیعہ “ ضعیف ہیں )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ جہاد میں کوئی بندہ ایک دن بھی روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک جہنم کی آگ کو دور کر دے گا ۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone fasts for a day while engaged (in Jihad) in Allahs path then He removes the fire from him to a distance of seventy years. [Bukhari 2840]
صحيح، ابن ماجة (1717)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1623
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣٦ (٢٨٤٠)، صحیح مسلم/الصوم ٣١ (١١٥٣)، سنن النسائی/الصیام ٤٤ (٢٢٤٧)، ٢٢٤٩-٢٢٥٢)، و ٤٥ ٢٢٥٣-٢٢٥٥)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٧)، (تحفة الأشراف: ٤٣٨٨)، و مسند احمد (٣/٢٦، ٤٥، ٥٩، ٨٣)، سنن الدارمی/الجہاد ١٠ (٢٤٠٤) (صحیح )
ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے ۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔
Savyidina Abu Umamah Bahili reported that the Prophet ﷺ said, “if anyone keeps fast for a day during jihad then Allah will cause a trench between him and the Fire a wide as the distance between the heaven and earth.
حسن صحيح، الصحيحة (563)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1624
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ٤٩٠٤) (حسن صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے، ورنہ ” ولید “ اور ان کے شیخ میں قدرے کلام ہے، دیکھیے الصحیحة رقم ٥٦٣ )
خریم بن فاتک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے (جہاد) میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا (ثواب) لکھ لیا گیا ۔
Sayyidina Khuraym ibn Fati (RA) reported that Allahs Messenger said. If anyone donates something (in Jihad) in Allahs path then it will be recorded for him seven hundred times.’ [Ahmed 19058]
عدی بن حاتم طائی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں (کسی مجاہد کو) غلام کا عطیہ دینا یا (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، یا اللہ کے راستے میں جوان اونٹنی دینا ۔
Sayyidina Adi ibn Hatim Tai reported that he asked Allah’s Messenger , “ Which sadaqah is excellent?” He said, Providing a slave in Allah’s cause, or the shade of a tent, or a young camel in Allah’s cause.
١ - معاویہ بن صالح سے یہ حدیث مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - بعض اسناد (طرق) میں زید (بن حباب) کی مخالفت کی گئی ہے، اس حدیث کو ولید بن جمیل نے قاسم ابوعبدالرحمٰن سے، قاسم نے ابوامامہ سے، اور ابوامامہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ہم سے اس حدیث کو زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔