نبی اکرم ﷺ کا ترکہ۔
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي لَا أُورَثُ ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى: مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي: فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فاطمہ ؓ ابوبکر اور عمر ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: میرا کوئی وارث نہیں ہوگا ، فاطمہ ؓ بولیں: اللہ کی قسم! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چناچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں: «لا أكلمکما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ (