طیرہ کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ: الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ١ ؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: اچھی بات ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no infection and no evil omen (in Islam). But, I love a good omen.” They said, “O Messenger of Allah, and what is a good omen.” He said, “A good word.” [Muslim 2224]