بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر ؓ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔
Bajalah narrated: Umar it did not take the jizyah from the Majusis till Abdur Rahman ibn Awf informed him that the Prophet ﷺ used to take the jizyah from the Majusis of Hajar. The hadith is lengthier.
صحيح انظر ما قبله (1586)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1587
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو، تو زبردستی لے لو ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that he said “O Messenger of Allah ﷺ we pass by a people who do not receive us as guests and do not give us our right of hospitality, nor do we take anything from them. Allah’s Messenger said, “If they refuse then take from them ,rcibly.” [Muslim 1727]
صحيح، ابن ماجة (3676)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1589
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے (جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے) ، ٣ - اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے، کہ قیمت سے خریدیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر وہ (کھانا) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو، ٤ - ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے، عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد، شوکانی اور صاحب تحفہ الاحوذی کے مطابق یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے، اس کی کوئی تاویل بلا دلیل ہے، جیسے: یہ زمن نبوت کے ساتھ خاص تھا، یا یہ کہ یہ ان اہل ذمہ کے ساتھ خاص تھا جن سے مسلمان لشکریوں کی ضیافت کرنے کی شرط لی گئی تھی، وغیرہ وغیرہ۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said on the day of liberation of Makkah, “There is no hijrah0after the conquest (liberation), but (there are) jihad and intention. If you are summoned for jihad then hasten (to join).” [Bukhari 1834, Muslim 1353]
صحيح، ابن ماجة (2773)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1590
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ سے خاص طور پر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں ہے کیونکہ مکہ اب دارالسلام بن گیا ہے، البتہ دارالکفر سے دارالسلام کی طرف ہجرت تاقیامت باقی رہے گی جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے سبب جس خیر و بھلائی سے لوگ محروم ہوگئے اس کا حصول جہاد اور صالح نیت کے ذریعہ ممکن ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے آیت کریمہ: «لقد رضي اللہ عن المؤمنين إذ يبايعونک تحت الشجرة» اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ۔ (الفتح: ١٨ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA)reported concerning Allah’s words: (Allah was certainly well pleased with the Believers when they swore fealty to you under the tree). (48:18) He said, “We swore fealty not to flee but did not pledge allegiance to die.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1591
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ ؓ کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع ؓ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ١ ؎۔
Yazid ibn Abu Ubayd narrated: I asked Salamab ibn Akwa (RA) ‘‘On what did you people pledge allegiance to Allah’s Messenger on the day of Hudaybiyah.” He said, ‘To die. [Bukhari 2960, Muslim 1860]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: جتنا تم سے ہو سکے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “We used to give oath of allegiance to Allah’s Messenger ﷺ to listen and obey, and he used to say to us, ‘To the limits of ability.’ [Muslim 1867, Nisai 4188]
صحيح، صحيح أبي داود (2606)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1593
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع ؓ دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، (ان میں تعارض نہیں ہے) بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا: ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کردیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا: ہم نہیں بھاگیں گے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے (چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہوجائے) ۔
Sayyidina Jabir (RA) said, “We did not pledge allegiance with Allah’s Messenger to die, but our pledge was only that we shall not flee.” [Bukhari 212, Muslim 1856]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1594
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے (اس کی مرضی کے مطابق) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are three people to whom Allah will not speak on the day of Resurrection, and not purify them, and for them is a severe chastisement. (One of them is) a man who pledges allegiance to his imam, and if he gives him something, he obeys him; if he does not give him anything then he does not honour the pledge. [Muslim 108]
صحيح، ابن ماجة (2207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1595
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: باقی دو آدمی جن کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جس کے پاس لمبے چوڑے صحراء میں اس کی ضرورتوں سے زائد پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کرلیا حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم ﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آگیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے اسے بیچ دو ، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) narrated that a slave came to the Prophet ﷺ and offered pledge of allegiance on hijrah (migration). The Prophet ﷺ did not perceive that he was a slave. His master came, and the Prophet ﷺ said to him, “Sell him to me.” So, he bought him against two black slaves and thereafter he did not accept anyone’s pledge of allegiance till he had asked if he was a slave. [Muslim 1602]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1596
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید و فروخت بصورت نقد ہو، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے، کیونکہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
تقدم في البیوع برقم ١٥٩١ (تحفة الأشراف: ٢٧٦٣) (صحیح )
امیمہ بنت رقیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، آپ نے ہم سے فرمایا: اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو ، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے بیعت لیجئے (سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے ١ ؎۔
Sayyidah Umaymah bint Ruqayqah (RA) reported that she offered the oath of allegiance to Allah’s Messenger with many women. He said to them, “To the best of your ability and strength.” She said, “Allah and His Messenger are more merciful to us than we are to ourselves.” She also said, “O Messenger of Allah, Accept our pledgeofallegiance.”Sufyansaid, “She means handshake.” Allah’s Messenger said, “My word to a hundred women is like my word to one woman. (That is, “There is no need for a handshake, my word is enough).” [Nisai 4187]
صحيح، ابن ماجة (2874)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1597
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں، ٣ - امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث آئی ہے۔ ٤ - اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زبان ہی سے بیعت لینا عورتوں کے لیے کافی ہے مصافحہ کی ضرورت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٨٦)، و ٢٤ (٤١٩٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٣ (٢٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨١)، وط/البیعة ١ (٢)، و مسند احمد (٦/٣٥٧) (صحیح )
براء ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔
Sayyidina Bara (RA) said: We used to relate that the companions (RA) at Badr were as the number of the companions of Talut: three hundred and thirteen. [Bukhari 3958]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1598
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) ادا کرو،
Sayyidina Ibn Abbas (RA) u(RA) reported that the Prophet ﷺ ‘ said to the delegates of Abdul Qays, “I command you to pay one-fifth of the spoils of war that you collect. [Bukhari 53]
صحيح مختصر البخاري (40)، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1)
صحيح مختصر البخاري (40)، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1599
اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1599
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تفصیل کے لیے دیکھئیے صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب الایمان۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے (کھانے پکانے کی چیزیں) جلدی لیا اور (تقسیم سے پہلے اسے) پکانے لگے، رسول اللہ ﷺ ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ١ ؎۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) narrated : We were on an expedition with Allah’s Messenger ﷺ The speedier ones overtook us and made haste in (taking something from) the spoils and began to cook, while Allah’s Messenger ﷺ was among those people who were overtaken. He passed by the cooking pots and commanded that they should be overturned. Then, he divided (the spoils) among them and placed one camel as equal to ten sheep. [Bukhari 2488]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone takes away anything from the spoils before they aredistributed then he is not one of us.” [Ah14357]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہوجائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Do not take the initiative in offering salaam (greetings) to the Jews and the Chirstians. And, if you meet one of them on the path then compel him to the narrower side.” [Ahmed 7621, Muslim 2167]
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، انس ؓ اور ابو بصرہ غفاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو (بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہوجانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہوگی (جو صحیح نہیں ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی رو سے مسلمان کا یہود و نصاریٰ اور مجوس وغیرہ کو پہلے سلام کہنا حرام ہے، جمہور کی یہی رائے ہے۔ راستے میں آمنا سامنا ہونے پر انہیں تنگ راستے کی جانب مجبور کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ چھوٹے لوگ ہیں۔ اور یہ غیر اسلامی حکومتوں میں ممکن نہیں اس لیے بقول ائمہ شر وفتنہ سے بچنے کے لیے جو محتاط طریقہ ہو اسے اپنانا چاہیئے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام عليک» (یعنی تم پر موت ہو) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو (یعنی تم پر موت ہو) ۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When one of the Jews greets you, he only says as-saam alayka, so respond with alayka.” [Bukhari 2928, Muslim 2164]
جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا، (کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آخر کیوں؟ آپ نے فرمایا: (مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ) وہ دونوں ایک دوسرے (کے کھانا پکانے) کی آگ نہ دیکھ سکیں ١ ؎۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent an expedition to Khath’am. Some people prostrated and sought refuge, so the Muslims hurried to slay them, When the Prophet ﷺ learnt of it, he commanded that half of bloodwit should be paid for them. He said, “I am absolved of all the Muslims who reside among the polytheists”. They said, “O Messenger of Allah ﷺ why?” He said, “Let them not see the fire of one another.” (This is how far the Muslims must stay from them). [Abu Dawud 2645]
صحيح دون الأمر بنصف العقل، الإرواء (1207)، صحيح أبي داود (2377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1604
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسلمان کفار کے درمیان مقیم ہوں اور مجاہدین کے ہاتھوں ان کا قتل ہوجائے تو مجاہدین پر اس کا کوئی گناہ نہیں، اور دونوں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق مشرکین کے گھروں اور علاقوں سے ہجرت کرنا ضروری ہے کیونکہ اسلام اور کفر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آدھی دیت کا حکم اس لیے دیا کیونکہ باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بطور سزا ساقط ہوگئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٥ (٢٦٤٥)، سنن النسائی/القسامة ٢٦ (٤٧٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٧) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، دیکھئے: الارواء: رقم ١٢٠٧ )
عبدہ نے یہ حدیث بطریق: «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں (عبدہ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔
Hannad reported like the hadith of Abu Muawiyah from Abdah, from Isma’il ibn Abu Khalid, from Qays ibn AbuHazim, but he did not mention Jarir.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1605
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ٢ - اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بطریق: «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» (مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرسل ہے، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا، ٣ - اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) said that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “I will expel the Jews and the Christians from the Arabian Peninsula. There will not remain here any save Muslims.” [Ahmed 14722]
صحيح، الصحيحة (1134)، صحيح أبي داودصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1607