جہاد کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 21 · 185 hadiths · Page 2 of 9

1567Sunan At-Tirmidhi

قیدیوں کو قتل کرنا اور فدیہ لینا۔

حَدَّثَنَا أبو عُبَيْدَةَ بن أبي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْعَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ جِبْرَائِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: خَيِّرْهُمْ، يَعْنِي: أَصْحَابَكَ، فِي أُسَارَى بَدْرٍ، الْقَتْلَ أَوِ الْفِدَاءَ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ، قَالُوا: الْفِدَاءَ، وَيُقْتَلُ مِنَّا ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْعَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَرَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ اسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا: اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں، چاہیں تو فدیہ لیں، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے، ان لوگوں نے کہا: فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں ١ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger said, that Jibril came and said, ‘Give authority to your sahabah to either execute or receive ransom from the captives of Badr on condition that in the following year a like number of them should be killed. They said, ‘(We choose) ransom and that some of us may be killed (next year).’

صحيح، المشکاة (3973 / التحقيق الثاني)، الإرواء (5 / 48 - 49)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1567
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ابواسامہ نے بسند «هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - ابن عون نے بسند «ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوبرزہ، اور جبیر بن مطعم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صحابہ کی یہ دلی خواہش تھی کہ یہ قیدی مشرف بہ اسلام ہوجائیں اور مستقبل میں اپنی جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کرلیں (حدیث کی سند اور معنی دونوں پر کلام ہے؟ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ ) (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٤) (صحیح )
1568Sunan At-Tirmidhi

قیدیوں کو قتل کرنا اور فدیہ لینا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنَ الْأُسَارَى، وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ، وَيَفْدِي مَنْ شَاءَ، وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سورة محمد آية 4، نَسَخَتْهَا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ سورة البقرة آية 191، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِذَا أُسِرَ الْأَسِيرُ، يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا، قَالَ إِسْحَاق: الْإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَيَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا، فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دو مسلمان مردوں کو چھڑوایا ١ ؎۔

Sayyidina lmran ibn Husan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had got two Muslim men released against one idolator from captivity. [Ahmed 19848]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1568
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے، ٣ - اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اور جسے چاہے قتل کرے، اور جن سے چاہے فدیہ لے، ٤ - بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیار کیا ہے، ٥ - امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت «فإما منا بعد وإما فداء» منسوخ ہے اور آیت: «واقتلوهم حيث ثقفتموهم» اس کے لیے ناسخ ہے، ٦ - اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا: آپ کے نزدیک کیا بہتر ہے جب قیدی گرفتار ہو تو اسے قتل کیا جائے یا اس سے فدیہ لیا جائے، انہوں نے جواب دیا، اگر وہ فدیہ لے سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انہیں قتل کردیا جائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، ٧ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہتر ہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي فی الکبریٰ ) (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٧) (صحیح )
1569Sunan At-Tirmidhi

عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ: رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی، تو آپ ﷺ نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a woman was found slain during an expedition of Allah’s Messenger ﷺ .He disliked that and disallowed that women and, children should be killed. [B3014, Muslim 1744]

صحيح، ابن ماجة (2841)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1569
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، رباح، ان کو رباح بن ربیع بھی کہتے ہیں، اسود بن سریع ابن عباس اور صعب بن جثامہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام سمجھتے ہیں، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ٤ - کچھ اہل علم نے رات میں ان پر چھاپہ مارنے کی اور اس میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی رخصت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان دونوں نے رات میں چھاپہ مارنے کی رخصت دی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورت کے قتل کرنے کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے، ہاں! اگر وہ شریک جنگ ہو کر لڑے تو ایسی صورت میں عورت کا قتل جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٧ (٣٠١٤)، و ١٤٨ (٣٠١٥)، صحیح مسلم/الجہاد ٨ (١٧٤٤)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٢١ (٢٦٦٨)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٠ (٢٨٤١)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٨)، وط/الجہاد ٣ (٩)، سنن الدارمی/السیر ٢٥ (٢٥٠٥) (صحیح )
1570Sunan At-Tirmidhi

عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ خَيْلَنَا أُوطِئَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادِهِمْ، قَالَ: هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sa’b ibn Jaththamah asked, “O Messenger of Allah, our horses trampled over the women and children of the idolators.” He said, They are (of the same stock) as their ancestors.’ [Bukhari 3013, Muslim 1745]

حسن، ابن ماجة (2839)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1570
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس حالت میں یہ سب اپنے بڑوں کے حکم میں تھے اور یہ مراد نہیں ہے کہ قصداً ان کا قتل کرنا مباح تھا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو پامال کئے بغیر ان کے بڑوں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ بڑوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ سب مقتول ہوئے، ایسی صورت میں ان کا قتل جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٤٦ (٣٠١٢)، صحیح مسلم/الجہاد ٩ (١٧٨٥)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٢١ (٢٦٧٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٠ (٢٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٣٩)، و مسند احمد (٤/٣٨، ٧١، ٧٢، ٧٣) (صحیح )
1571Sunan At-Tirmidhi

عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا، فَاقْتُلُوهُمَا ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، بَيْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پاؤ تو انہیں جلا دو ، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دو حالانکہ آگ سے صرف اللہ ہی عذاب دے گا اس لیے اب اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated : Allah’s Messenger sent us with an army. He said, “If you find so-and-so-and so-and-so, two men, then burn them in the fire.” As we were about to depart, he said, “I had ordered you to burn so-and-so and so-and-so in the fire, but no one punishes by burning in the fire except Allah. So if you find them, slay them.” [Bukhari 3016]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1571
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ٢ - محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کیا ہے، کئی اور لوگوں نے لیث کی روایت کی طرح روایت کی ہے، لیث بن سعد کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٤ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٩ (٣٠١٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨١) (صحیح )
1572Sunan At-Tirmidhi

مال غنیمت میں خیانت

حَدَّثَنِي أبو رجاء قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مرگیا اور تین چیزوں یعنی تکبر (گھمنڈ) ، مال غنیمت میں خیانت اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who dies while he is free from pride from cheating in spoils of war, and from debt, will enter paradise.’ [Ahmed 22432]

صحيح، ابن ماجة (2412)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1572
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما یأتي (تحفة الأشراف: ٢٠٨٥)، و مسند احمد (٢٧٦٥، ٢٨٢) (صحیح )
1573Sunan At-Tirmidhi

مال غنیمت میں خیانت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكَنْزِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: الْكَنْزُ ، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: الْكِبْرُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.

ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہوگا ١ ؎۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الکنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الکبر» بیان کیا ہے، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے۔

Sayyidina Thawban reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If the soul of a person parts from his body while he is free from three things : from kanz (wealth on which zakah is payable but he did not pay), unfaithfulness in spoils of war, and debt then he will enter paradise like this’ { While Sa’eed said kanz, Abu Awanah said kibr (pride) in his hadith and he did not mention Madan. The hadith of Sa’eed is (more) sahih). [Nisai 8764]

شاذ بهذه اللفظة، الصحيحة (2785)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1573
Notes · وضاحت
١ ؎: «کنز»: وہ خزانہ ہے جو زمین میں دفن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ «غلول»: مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٢ (٢٤١٢)، و مسند احمد (٥/٢٨١ (تحفة الأشراف: ٢١١٤)، (صحیح) (الکنز کا لفظ شاذ ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم ٢٧٨٥ )
1574Sunan At-Tirmidhi

مال غنیمت میں خیانت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ، قَالَ: كَلَّا، قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا، قَالَ: قُمْ يَا عُمَرُ، فَنَادِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ، ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں آدمی شہید ہوگیا، آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں، میں نے اس عباء (کپڑے) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا ، آپ نے فرمایا: عمر! کھڑے ہوجاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے (اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے) ۔

Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) narrated Someone said, “O Messenger of Allah! ﷺ So-and-so is martyred.’ He said, “Certainly not! I have seen him in the fire for stealing a robe from the spoils. He said further, Get up. O Umar! And proclaim None but the believers will enter paradise.’ Three times,

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1574
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٤٨ (١١٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٧) (صحیح )
1575Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کی جنگ میں شرکت۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، يَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصار کی چند عورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے، وہ پانی پلاتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to take along Sayyidah Umm Sulaym (RA) and some Ansar women in the battles that they might serve water and attend to the wounded. [Muslim 1810, Abu Dawud 2531]

صحيح، صحيح أبي داود (2284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1575
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جہاد عورتوں پر واجب نہیں ہے، لیکن حدیث میں مذکور مصالح اور ضرورتوں کی خاطر ان کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حج مبرور ان کے لیے سب سے افضل جہاد ہے، جہاد میں انسان کو سفری صعوبتیں، مشقتیں، تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، مال خرچ کرنا پڑتا ہے، حج و عمرہ میں بھی ان سب مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لیے عورتوں کو حج و عمرہ کا ثواب جہاد کے برابر ملتا ہے، اسی بنا پر حج و عمرہ کو عورتوں کے لیے جہاد قرار دیا گیا ہے گویا جہاد کا ثواب اسے حج و عمرہ ادا کرنے کی صورت میں مل جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٤٧ (١٨١٠)، سنن ابی داود/ الجہاد ٣٤ (٢٥٣١)، (تحفة الأشراف: ٢٦١)، (وانظر المعنی عند: صحیح البخاری/الجہاد ٦٥ (٢٨٨٠)، ومناقب الأنصار ١٨ (٣٨١١)، والمغازي ١٨ (٤٠٦٤) (صحیح )
1576Sunan At-Tirmidhi

مشرکین کے تحائف قبول کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ كِسْرَى أَهْدَى لَهُ فَقَبِلَ، وَأَنَّ الْمُلُوكَ أَهْدَوْا إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُمْ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کرلیا، (کچھ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے۔

Sayyidina Ali reported about the Prophet ﷺ that the Kisra (Chosroes) sent him a gift and he accepted it. And when the (other) kings sent gifts, he accepted them from them.

ضعيف جدا التعليق علی الروضة الندية (2 / 163 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1576
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - راوی ثویر ابوفاختہ کے بیٹے ہیں، ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے اور ثویر کی کنیت ابوجہم ہے، ٣ - اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠١٠٩) (ضعیف جدا) (سند میں ” ثویر بن علاقہ ابی فاختہ “ سخت ضعیف اور رافضی ہے )
1577Sunan At-Tirmidhi

مشرکین کے تحائف قبول کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ ؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ، يَعْنِي: هَدَايَاهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ، وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ.

عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم ﷺ کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسلام لا چکے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے ۔

Sayyidina lyad ibn Himar narrated that he presented a gift, or a camel, to the Prophet ﷺ He asked, “Have you accepted Islam?” He said, “No” So, the Prophet ﷺ said, “I am disallowed to accept gifts of the idolators.” [Abu Dawud 3057]

حسن صحيح التعليق علی الروضة الندية (2 / 164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1577
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ کے قول «إني نهيت عن زبد المشرکين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے، نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیا جاسکتا ہے، چناچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٣٥ (٣٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٥)، و مسند احمد (٤/١٦٢) (حسن صحیح )
1578Sunan At-Tirmidhi

سجدہ شکر۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ، فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ، وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گرگئے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that when the Prophet ﷺ was conveyed a good news with which he was pleased, he bowed down in prostration. [Abu Dawud 2774, Ibn e Majah 1394]

حسن، ابن ماجة (1394)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1578
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں، ٤ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کعب بن مالک ؓ کا سجدہ شکر بجا لانا صحیح روایات سے ثابت ہے، اور مسیلمہ کذاب کے قتل کی خبر سن کر ابوبکر ؓ بھی سجدہ میں گرگئے تھے، گویا ایسی خبر جس سے دل کو خوشی و مسرت حاصل ہو اس پر سجدہ شکر بجا لانا مشروع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٧٤ (٢٧٧٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٢ (١٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩٨) (حسن )
1579Sunan At-Tirmidhi

عورت اور غلام کا کسی کو امان دینا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَأْخُذُ لِلْقَوْمِ ، يَعْنِي: تُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَكَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ قَدْ سَمِعَ مِنْ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان عورت کسی کو پناہ دے سکتی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah .iii reported that the Prophet ﷺ said, “Woman has a right to get from the Muslims protection for someone.

(حديث أبي هريرة) حسن، (حديث أم هانئ) صحيح (حديث أبي هريرة)، المشکاة (3978 / التحقيق الثاني)، (حديث أم هانئ)، صحيح أبي داود (2468)، الصحيحة (2049)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1579
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، ٣ - کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ ؓ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں، ٤ - اس باب میں ام ہانی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایات میں ہے کہ مسلمانوں کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، اس حدیث اور ام ہانی کے سلسلہ میں آپ کا فرمان: «قد أجرنا من أجرت يا أم هاني» سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان عورت بھی کسی کو پناہ دے سکتی ہے، اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کسی مسلمان کے لیے توڑ ناجائز نہیں۔ ٢ ؎: یعنی مسلمانوں میں سے کوئی ادنی شخص کسی کو پناہ دے تو اس کی دی ہوئی پناہ سارے مسلمانوں کے لیے قبول ہوگی کوئی اس پناہ کو توڑ نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٩) (حسن )
1580Sunan At-Tirmidhi

عہد شکنی۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَال: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ ، قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ اور اہل روم کے درمیان (کچھ مدت تک کے لیے) عہد و پیمان تھا، معاویہ ؓ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کردیں، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر: اللہ اکبر! تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی ، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ ؓ تھے، تو معاویہ ؓ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہوجائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے ، معاویہ ؓ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے۔

Sulaym ibn Aamir reported that a peace treaty existed between Mu’awiyah (RA) and the people of Rome. He advanced towards them with the intention to attack them the moment the treaty expired. Suddenly, a rider on a beast or, horse rider came rushing and calling out, ‘Allahu Akbar! Faithfulness, not betrayal.” He was Amr ibn Abasah Mu’awiyah asked him about it and he said, “1 had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone has a covenant with a people then it is not lawful for him to violate it or alter it till its expiry, or he should throw it towards them that they may know that it is rescinded.’ So, Mu’awiyah retreated. [Abu Dawud 2759, Ahmed 17012]

صحيح، صحيح أبي داود (2464)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1580
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٦٤ (٢٧٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٣)، و مسند احمد (٤/١١١) (صحیح )
1581Sunan At-Tirmidhi

قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘On the day of Resurrection, the unfaithful will have a standard pitched for him (as a sign of disgrace). [Bukhari 3188,Muslim 1735]

صحيح، صحيح أبي داود (2461)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1581
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے علی ؓ سے اور علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہوگا ، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ٢٢ (٣١٨٨)، والأدب ٩٩ (٦١٧٧)، والحیل ٩ (٦٩٦٦)، والفتن ٢١ (٧١١١)، صحیح مسلم/الجہاد ٤ (١٧٣٦)، سنن ابی داود/ الجہاد ١٦٢ (٢٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ٧٦٩٠)، و مسند احمد ٢/١٤٢) (صحیح )
1582Sunan At-Tirmidhi

کسی کے حکم پر پورا اترنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَتَرَكَهُ، فَنَزَفَهُ الدَّمُ، فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ ، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ ؓ کو تیر لگا، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل (بازو کی ایک رگ) کاٹ دی، رسول اللہ ﷺ نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا، پھر خون بہنے لگا، چناچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ ؓ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ (کی ہلاکت اور ذلت سے) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہوجائے، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ ؓ کے حکم پر (قلعہ سے) نیچے اترے، رسول اللہ ﷺ نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد چار سو تھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے ٢ ؎۔

Sayyidina Jabir reported that, during the Battle of Trenches, Sa’d ibn Mu’adh (RA) was shot by an arrow that severed his artery in the middle of his forearm. The Prophet ﷺ ‘ branded the wound but his hand swelled. So, he stopped and blood flowed from it. He branded him again, but it swelled again. When he saw that, he prayed, ‘O Allah, do not take away my soul till my eyes are cooled with Banu Qurayzah,” Blood ceased to flow from his wound and not even a drop came out. Then they chose Sad ibn Mu’adh (RA) as an arbitrator. He was sent for and he judged that their men should be put to death and their women should be spared so that the Muslims might get them to help them. Allah’s Messenger said, ‘You have decided like Allah’s Judgement in their case.” They were four hundred people when he had finished their execution, his wound opened again and blood flowed out, and he died. [Bukhari 463, Muslim 1769]

صحيح، الإرواء (5 / 38 - 39)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1582
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بنو قریظہ کی عورتیں مسلمانوں کی خدمت کے لیے ان میں تقسیم کردی جائیں۔ ٢ ؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی کے فیصلہ پر دشمنوں کا راضی ہوجانا اور اس پر اترنا جائز ہے، اور ان کی بابت جو بھی فیصلہ اس مسلمان کی طرف سے صادر ہوگا دشمنوں کے لیے اس کا ماننا ضروری ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ (تحفة الأشراف: ٢٩٢٥) (صحیح )
1583Sunan At-Tirmidhi

کسی کے حکم پر پورا اترنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ، وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ ، وَالشَّرْخُ: الْغِلْمَانُ الَّذِينَ لَمْ يُنْبِتُوا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، نَحْوَهُ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مشرکین کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کے لڑکوں میں سے جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں کو چھوڑ دو ، «شرخ» وہ لڑکے ہیں جن کے زیر ناف کے بال نہ نکلے ہوں۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Slay the old men of the polytheists and spare their children who have not yet grown up.” [Abu Dawud 4404]

ضعيف، المشکاة (3952 / التحقيق الثاني)، ضعيف أبي داود (259) // (571 / 2670)، ضعيف الجامع الصغير (1063) بلفظ: واستبقوا شرخهم //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1583
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - حجاج بن ارطاۃ نے قتادہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ١٢١ (٢٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٢)، و مسند احمد (٥/١٢، ٢٠) (ضعیف) (سند میں قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
1584Sunan At-Tirmidhi

کسی کے حکم پر پورا اترنا۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الْإِنْبَاتَ بُلُوغًا، إِنْ لَمْ يُعْرَفْ احْتِلَامُهُ وَلَا سِنُّهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عطیہ قرظی ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے (زیر ناف کے) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کردیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا، چناچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔

Sayyidina Atiyah Qurazi (RA) narrated: We were presented before Allah’s Messenger ﷺ on the day of Qurayzah. Those who had grown up (had pubes) were slain and those who had not grown pubes were spared. So I was left to myself. [Abu Dawud 2670]

صحيح، ابن ماجة (2541)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1584
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ (زیر ناف کے) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ١٧ (٤٤٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ٢٠ (٣٤٦٠)، وقطع السارق ١٧ (٤٩٩٦)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٤ (٢٥٤١)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٤)، و مسند احمد (٤/٣١٠)، و ٥/٣١٢) (صحیح )
1585Sunan At-Tirmidhi

حلف (یعنی قسم)۔

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ، يَعْنِي: الْإِسْلَامَ، إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: جاہلیت کے حلف (معاہدہ تعاون) کو پورا کرو ١ ؎، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو ٢ ؎۔

Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father from his grand father that Allah’s Messenger ﷺ said during his sermon, “Fulfil the oath of jahiliyah, for it does not but give more strength to Islam. And, do not enter into new covenants in Islam.” [Ahmed 16761, Muslim 2530]

حسن، المشکاة (3983 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1585
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ام سلمہ، جبیر بن مطعم، ابوہریرہ، ابن عباس اور قیس بن عاصم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق جو عہد ہوا ہے اسے پورا کرو بشرطیکہ یہ عہد شریعت کے مخالف نہ ہو۔ ٢ ؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ اسلام آ جانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٦٩٠) (حسن )
1586Sunan At-Tirmidhi

مجوسیوں سے جزیہ لینا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ، انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر ؓ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ١ ؎۔

Bajalah ibn Abdah narrated: I was a scribe of Jaz ibn Mu’awiyah at Manazir. We received a letter from Umar (RA) saying, ‘Look at the Majusis who are in your area and receive from them the jizyah. Indeed, Abdur Rahman ibn Awf has informed me that Allah’s Messenger took jizyah from the Majusis of Hajar.” [Ahmed 16571

صحيح، الإرواء (1249)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1586
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجوسی مشرکوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٥٦)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٣١ (٣٠٤٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧١٧)، و مسند احمد (١/١٩٠) (صحیح )