Sunan At-Tirmidhi 1577

جہاد کا بیان

1577Sunan At-Tirmidhi

مشرکین کے تحائف قبول کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ ؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ ، يَعْنِي: هَدَايَاهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ، وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ.

عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم ﷺ کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: کیا تم اسلام لا چکے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے ۔

Sayyidina lyad ibn Himar narrated that he presented a gift, or a camel, to the Prophet ﷺ He asked, “Have you accepted Islam?” He said, “No” So, the Prophet ﷺ said, “I am disallowed to accept gifts of the idolators.” [Abu Dawud 3057]

حسن صحيح التعليق علی الروضة الندية (2 / 164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1577
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ کے قول «إني نهيت عن زبد المشرکين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے، نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیا جاسکتا ہے، چناچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔ «واللہ اعلم »
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٣٥ (٣٠٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٥)، و مسند احمد (٤/١٦٢) (حسن صحیح )