Sunan At-Tirmidhi 1590

جہاد کا بیان

1590Sunan At-Tirmidhi

ہجرت کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، نَحْوَ هَذَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said on the day of liberation of Makkah, “There is no hijrah0after the conquest (liberation), but (there are) jihad and intention. If you are summoned for jihad then hasten (to join).” [Bukhari 1834, Muslim 1353]

صحيح، ابن ماجة (2773)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1590
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ سے خاص طور پر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں ہے کیونکہ مکہ اب دارالسلام بن گیا ہے، البتہ دارالکفر سے دارالسلام کی طرف ہجرت تاقیامت باقی رہے گی جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے سبب جس خیر و بھلائی سے لوگ محروم ہوگئے اس کا حصول جہاد اور صالح نیت کے ذریعہ ممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٠ (١٨٣٤)، والجہاد ١ (٢٧٨٣)، و ٢٧ (٢٨٢٥)، و ١٩٤ (٣٠٧٧)، والجزیة ٢٢ (٣١٨٩)، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٣)، والإمارة ٢٠ (١٣٥٣/٨٥)، سنن ابی داود/ المناسک ٩٠ (٢٠١٨)، (إشارة) والجہاد ٢ (٢٤٨٠)، سنن النسائی/البیعة ١٥ (٤١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٨)، و مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٦، ٣١٦، ٣٥٥)، وسنن الدارمی/السیر ٦٩ (٢٥٥٤) (صحیح )