اس بارے میں کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کچھ لینا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone takes away anything from the spoils before they aredistributed then he is not one of us.” [Ah14357]
صحيح، المشکاة (2947 / التخريج الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1601
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی معصوم کے مال کو اس کی اجازت و رضا مندی کے بغیر ڈاکہ زنی کر کے لینا حرام ہے، اور اگر کوئی یہ کام حلال سمجھ کر کر رہا ہے تو وہ کافر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٧٩)، وانظر مسند احمد (٣/١٤٠، ١٩٧، ٣١٢، ٣٢٣، ٣٨٠، ٣٩٥) (صحیح )