Sunan At-Tirmidhi 1607

جہاد کا بیان

1607Sunan At-Tirmidhi(1606)

یہود نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ .

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا ١ ؎۔

Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab reported that Allah’s Messenger said, “if I live, Insha Allah. I will drive out the Jews and the Christians from the Arabian peninsula.” [Muslim 1767]

صحيح انظر ما قبله (1605)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1606
Notes · وضاحت
١ ؎: جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جاسکا، لیکن عمر ؓ نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٢١ (١٧٦٧)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٢٨ (٣٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٩)، و مسند احمد (١/٣٢) (صحیح)