Sunan At-Tirmidhi 1658

جہاد کا بیان

1658Sunan At-Tirmidhi

کون سا عمل افضل ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ، أَوْ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ ؟ قَالَ: الْجِهَادُ سَنَامُ الْعَمَلِ ، قِيلَ: ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے، یا کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ، پوچھا گیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: جہاد، وہ نیکی کا کوہان ہے ۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: حج مبرور (مقبول) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: Allah’s Messenger was asked, “Which of the deeds is most excellent? And which of the deeds is the best? He said, ‘Belief in Allah and His Messenger ﷺ He was asked, O What, next? He said, “Jihad is the most excellent deed. He was asked, ‘What after that, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Next is the Hajj that is accepted (into Allahs grace).’ [Ahmed 8693, Bukhari 26, Muslim 83, Nisai 4995]

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1658
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٥٠٦٠) (حسن صحیح) (وراجع: صحیح البخاری/الإیمان ١٨ (٢٦)، والحج ٤ (١٥١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٣٦ (٨٣)، سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٥)، والجھاد ١٧ (٣١٣٢)، و مسند احمد (٢/٢٨٧ )