Sunan At-Tirmidhi 1648

جہاد کا بیان

1648Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ١ ؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina SahI ibn Sad Sa’idi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, A morning expedition in the path of Allah is better than the world and what it contains and the space of a whip in paradise is better than the world and all that it has.” [Bukhari 2794, Muslim 1880]

صحيح، ابن ماجة (2756)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1648
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کوڑے کا ذکر خاص طور پر کیا گیا، کیونکہ شہسوار کی عادت میں سے ہے کہ سواری سے اتر نے سے پہلے زمین پر کوڑا پھینک کر اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے، گویا اس سے وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جگہ اب میرے لیے خاص ہوگئی ہے، کوئی دوسرا اس کی جانب سبقت نہ لے جائے۔ اور دوسرے یہاں کوڑے جتنی مقدار ومسافت بتلا کر جنت کی فضیلت اور اس کی قیمت بتلانا مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٤)، و ٧٣ (٢٨٩٢)، وبدء الخلق ٨ (٣٢٥)، والرقاق ٢ (٦٤١٥)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٨٨١)، سنن النسائی/الجہاد ١١ (٣١٢٠)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٧٥٦)، والزہد ٣٩ (٤٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٤)، و مسند احمد (٣/٤٣٣)، و (٥/٣٣٠، ٣٣٧، ٣٣٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٩ (٢٤٤٣) (صحیح )