Sunan At-Tirmidhi 1651

جہاد کا بیان

1651Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں صبح و شام چلنے کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ يَدِهِ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ١ ؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہوجائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A walk in the path of Allah in the morning or in the evening is better than the world and what it contains. And the space in paradise equal to the bow of one of you, or to his hand, is better than the world and that which it has. And if a woman of the women of paradise were to come down to earth then she would illuminate whatever (space) is between heaven and earth and fill what is between them with fragrance. And, indeed, her scarf on her head is better than the world and what is in it.” [Ibn e Majah 2757, Nisai 3218]

صحيح، ابن ماجة (2757)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1651
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر کسی کو دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں حاصل ہوجائیں، پھر وہ انہیں اطاعت الٰہی میں رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کر دے، اس خرچ کے نتیجہ میں اسے جو ثواب حاصل ہوگا اس سے مجاہد فی سبیل اللہ کا ثواب کہیں زیادہ بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٥ (٢٧٩٢)، و ٦ (٢٧٩٦)، والرقاق ٥١ (٦٥٥٨)، صحیح مسلم/الإمارة ٣٠ (١٧٧٠)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢ (٢٧٥٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٧)، و مسند احمد (٣/١٢٢، ١٤١، ١٥٣، ١٥٧، ٢٠٧، ٢٦٣، ٢٦٤) (صحیح )