Sunan At-Tirmidhi 1670

جہاد کا بیان

1670Sunan At-Tirmidhi

اہل عذر کو جہاد میں عدم شرکت کی اجازت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ، فَكَتَبَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ: هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، هَذَا الْحَدِيثَ.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس «شانہ» (کی ہڈی) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ١ ؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن (مجاہدین کے) برابر نہیں ہوسکتے ہیں نابینا صحابی ، عمرو ابن ام مکتوم ؓ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چناچہ (آیت کا) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» ، (معذورین کے) ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, Get me a shoulder piece or a slate.” Then he (had) inscribed on. “The holders back from among the believers” (Surah Nisa 95), Hazrat Umer ibn Umme Maktum inquired “ Is there a leave for me” hence it was revealed “not having any injury “. [Bukhari 4594, Muslim 1898]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1670
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تختیوں اور ذبح شدہ جانوروں کی ہڈیوں پر گرانی آیات و سورة کا لکھنا جائز ہے اور مذبوح جانوروں کی ہڈیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣١ (٢٨٣١)، وتفسیر سورة النساء ١٨ (٤٥٩٣)، وفضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨)، سنن النسائی/الجہاد ٤ (٣١٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٥٩)، و مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٩٠، ٣٣٠)، سنن الدارمی/الجہاد ٢٨ (٢٤٦٤) (صحیح )