گھوڑوں کے گھلے میں گھنٹیاں لٹکانا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The angels do not join the company that has a dog or a bell. [Muslim 2113]
صحيح، الصحيحة (4 / 494)، صحيح أبي داود (2303)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1703
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے کتے جو شکار یا نگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہوجاتی ہے، اس لیے اسے ناپسند کیا گیا، اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٧ (٢١١٣)، سنن ابی داود/ الجہاد ٥١ (٢٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٣)، و مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣١١، ٣٢٧، ٣٤٣، ٣٨٥، ٣٩٢، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٧٦)، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٤ (٢٧١٨) (صحیح )