جانوروں کو لڑانا اور چہرہ داغنا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) said that the Prophet ﷺ forbade branding on the face. and striking on it. [Muslim 2116]
صحيح، الإرواء (2185)، صحيح أبي داود (2310)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٦)، و مسند احمد (٣/٣١٨، ٣٧٨) (صحیح )