دباغت کے بعد مردار جانور کی کھال
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَاتَتْ شَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِهَا: أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ .
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے بکری والے سے کہا: تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when a sheep died, (a natural death) the Prophet ﷺ I said to its owners, “Why did you not remove its skin. You could have tanned it and benefitted from it.”
صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1727
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٩٦٩)، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢)، والبیوع ١٠١ (٢٢٢١)، والذبائح ٣٠ (٥٥٣١، ٥٥٣٢)، صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣-٣٦٥)، سنن ابی داود/ اللبا ٤١ (٤١٢١)، سنن النسائی/الفرع ٤ (٤٢٤٠-٤٢٤٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠)، وط/الصید ٦ (١٦)، مسند احمد (١/٢٣٧)، ٣٢٧، ٣٣٠، ٣٦٥، ٣٦٦، ٣٧٢)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٢٨) (صحیح )