اسی سے متعلق
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ، وَيَقُولُ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ کافی نہیں ہے ١ ؎۔
Saalim ﷺ reported from his father that he denied placing condition in (the resolve of) Hajj, saying, “Is not the sunnah of your Prophet ﷺ ?nough for you?
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دراصل ابن عمر ؓ نے یہ بات ابن عباس ؓ کی تردید میں کہی تھی جو شرط لگانے کا فتوی دیتے تھے، ان کو ضباعہ ؓ والی حدیث نہیں پہنچی تھی ورنہ ایسی بات نہ کہتے، اور آپ کا اشارہ صلح حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کے عمرہ سے روک دیئے جانے کی طرف تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر ٢ (١٨١٠)، سنن النسائی/الحج ٦١ (٢٧٧٠) (تحفة الأشراف: ٦٩٣٧)، مسند احمد (٢/٣٣) (صحیح)