Sunan At-Tirmidhi 952

حج کا بیان

952Sunan At-Tirmidhi

محرم اگر آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو صَبِر ( ایلوے) کالیپ کرے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ اشْتَكَى عَيْنَيْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، فَقَالَ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَيَذْكُرُهَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کرلو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان ؓ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ان پر ایلوے کا لیپ کرلو ١ ؎۔

Nubayh ibn Wahb reported that Umar ibn Ubaydullah ibn Ma’mar had eye trouble while he was a muhrjm. He asked Aban ibn Uthman who said, “Give them a dressin with aloes. For, I had heard Uthman ibn Affan mention that Allah’s Messenger ﷺ said : Dress that with aloes.” [Muslim 1204, Abu Dawud 1838, Nisai 2707]

صحيح، صحيح أبي داود (1612)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 952
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایلوے، یا اس جیسی چیز جس میں خوشبو نہ ہو سے آنکھوں میں لیپ لگانا جائز ہے، اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، رہیں ایسی چیزیں جن میں خوشبو ہو تو بوقت ضرورت و حاجت ان سے بھی لیپ کرنا درست ہوگا، لیکن اس پر فدیہ دینا ہوگا، علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ بوقت ضرورت محرم کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے، اس سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا، البتہ زینت کے لیے سرمہ لگانے کو امام شافعی وغیرہ نے مکروہ کہا ہے، اور ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے، امام احمد اور اسحاق کی بھی یہی رائے ہے کہ زینت کے لیے سرمہ لگانا درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٢ (١٢٠٤)، سنن ابی داود/ المناسک ٣٧ (١٨٣٨)، سنن النسائی/المناسک ٤٥ (٢٧١٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٧٧)، مسند احمد (١/٦٠، ٦٥، ٦٨، ٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٣ (١٩٤٦) (صحیح)