اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی طرح مروی ہے، اور راوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ «نعی» موت کے اعلان کا نام ہے ۔
Sa’eed ibn Abdur Rahman Makhzumi reported in like manner from Abdullah ibn Walid Adni, from Sufyan Thawri, from Abu Hamzah, from Ibrahim, from Alqamah and he from Abdullah a non-marfu hadith without the words.
ضعيفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 985
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، ٣- ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں، یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٤- بعض اہل علم نے «نعی» کو مکروہ قرار دیا ہے، ان کے نزدیک «نعی» یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ فلاں مرگیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کو اس کے مرنے کی خبر دی جائے، ٦- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کو اس کے اپنے کسی قرابت دار کے مرنے کی خبر دی جائے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمے کے وقت ہو ١ ؎۔
Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger said, “Patience is at the beginning of the shock.” [Ahmed12319, Bukhari 1302, Muslim 926, Abu Dawud 3124, Nisai 1865] --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ صدمے کا پہلا جھٹکا جب دل پر لگتا ہے اس وقت آدمی صبر کرے اور بےصبری کا مظاہرہ، اپنے اعمال و حرکات سے نہ کرے تو یہی صبر کامل ہے جس پر اجر مترتب ہوتا ہے، بعد میں تو ہر کسی کو چار و ناچار صبر آ ہی جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٥ (١٥٩٦) (تحفة الأشراف: ٨٤٨) (صحیح)
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو ۔
Thabit Bunani reported from Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Patience is at the first shock.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1596)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 988
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کا بوسہ لیا - وہ انتقال کرچکے تھے - آپ رو رہے تھے۔ یا (راوی نے) کہا: آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that the Prophet ﷺ kissed the dead body of Sayyidina Uthman ibn Maz’un (RA). He wept, or his eyes were moist. [Ahmed24220, Abu Dawud 3163, Ibn e Majah 1456]
صحيح، ابن ماجة (1456)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 989
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، جابر اور عائشہ سے بھی احادیث آئی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کا بوسہ لیا ٢ ؎ اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان میت کو بوسہ لینا اور اس پر رونا جائز ہے، رہیں وہ احادیث جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ایسے رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔
ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیٹی ١ ؎ کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا: اسے طاق بار غسل دو، تین بار یا پانچ بار یا اس سے زیادہ بار، اگر ضروری سمجھو اور پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، آخر میں کافور ملا لینا ، یا فرمایا: تھوڑا سا کافور ملا لینا اور جب تم غسل سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا ، چناچہ جب ہم (نہلا کر) فارغ ہوگئے، تو ہم نے آپ کو اطلاع دی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو ۔ ہشیم کہتے ہیں کہ اور دوسرے لوگوں ٢ ؎ کی روایتوں میں، مجھے نہیں معلوم شاید ہشام بھی انہیں میں سے ہوں، یہ ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم نے ان کے بالوں کو تین چوٹیوں میں گوندھ دیا۔ ہشیم کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ان کی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ پھر ہم نے ان چوٹیوں کو ان کے پیچھے ڈال دیا ٣ ؎ ہشیم کہتے ہیں: پھر خالد نے ہم سے لوگوں کے سامنے بیان کیا وہ حفصہ اور محمد سے روایت کر رہے تھے اور یہ دونوں ام عطیہ ؓ سے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلے ان کے داہنے سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا ۔
Sayyidah Umm Atiyáh (RA) narrated : One of the daughters of the Prophet ﷺ died, so he said, “Wash her an odd number of times, three, five or more than that if you think fit. And wash her with water and lotus leaves, and put camphor, or some of it in the last bathing. When you have finished, inform me.” So, when we had finished, we informed him and he gave us his lower garment, saying, “Wrap her in it.” Hushaym narrated in another version, saying, “I do npt know but I thik that Hisham is one of them,” Umm Atiyah narrated : We braided her hair in three plaits. Hushaym said, “I think thatshe also narrated: We put them behind her back.” Hushaym said that Khalid reported from Hafsah and Muhammad and they from Umm Atiyah (RA) that she narrated : Allah’s Messenger ﷺ said to us, “Begin with the right side and the limbs on which ablution is performed.” [Ahmed27368, Muslim 939, Abu Dawud 3142, Ibn e Majah 1458]
صحيح، ابن ماجة (1458)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 990
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام عطیہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ام سلیم ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ میت کا غسل غسل جنابت کی طرح ہے، ٥- مالک بن انس کہتے ہیں: ہمارے نزدیک میت کے غسل کی کوئی متعین حد نہیں اور نہ ہی کوئی متعین کیفیت ہے، بس اسے پاک کردیا جائے گا، ٦- شافعی کہتے ہیں کہ مالک کا قول کہ اسے غسل دیا جائے اور پاک کیا جائے مجمل ہے، جب میت بیری یا کسی اور چیز کے پانی سے پاک کردیا جائے تو بس اتنا کافی ہے، البتہ میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ اسے تین یا اس سے زیادہ بار غسل دیا جائے۔ تین بار سے کم غسل نہ دیا جائے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اسے تین بار یا پانچ بار غسل دو ، اور اگر لوگ اسے تین سے کم مرتبہ میں ہی پاک صاف کردیں تو یہ بھی کافی ہے، ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا تین یا پانچ بار کا حکم دینا محض پاک کرنے کے لیے ہے، آپ نے کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، ایسے ہی دوسرے فقہاء نے بھی کہا ہے۔ وہ حدیث کے مفہوم کو خوب جاننے والے ہیں، ٧- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہر مرتبہ غسل پانی اور بیری کی پتی سے ہوگا، البتہ آخری بار اس میں کافور ملا لیں گے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ ابوالعاص بن ربیع کی بیوی زینب ؓ تھیں، ایک قول یہ ہے کہ عثمان ؓ کی اہلیہ ام کلثوم ؓ تھیں، صحیح پہلا قول ہی ہے۔ ٢ ؎: یعنی خالد، منصور اور ہشام کے علاوہ دوسرے لوگوں کی روایتوں میں۔ ٣ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے بالوں کی تین چوٹیاں کر کے انہیں پیچھے ڈال دینا چاہیئے انہیں دو حصوں میں تقسیم کر کے سینے پر ڈالنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧)، والجنائز ١٠ (١٢٥٥)، و ١١ (١٢٥٦)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن ابی داود/ الجنائز ٣٣ (٣١٤٤، ٣١٤٥)، سنن النسائی/الجنائز ٣١ (١٨٨٥)، و ٣٢ (١٨٨٦)، ( تحفة الأشراف: ١٨١٠٢، و ١٨١٠٩، و ١٨١١١، و ١٨١٢٤، ١٨١٣٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٨ (١٢٥٣)، و ٩ (١٢٥٤)، و ١٢ (١٢٥٧)، و ١٣ (١٢٥٨)، و ١٤ (١٢٦٠)، و ١٥ (١٢٦١)، و ١٦ (١٢٦٢)، و ١٧ (١٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز (المصدرالمذکور)، سنن ابی داود/ الجنائز ٣٣ (٣١٤٢، ٣١٤٦، ٣١٤٧)، سنن النسائی/الجنائز ٣٣ (٣١٤٢، ٣١٤٣، ٣١٤٦، ٣١٤٧)، سنن النسائی/الجنائز ٢٨ (١٨٨٢)، و ٣٠ (١٨٨٤)، و ٣٣ (١٨٨٧)، و ٣٤ (١٨٨٨، ١٨٨٩، ١٨٩٠)، و ٣٥ (١٨٩١، ١٨٩٢)، و ٣٦ (١٨٩٤، ١٨٩٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٨)، موطا امام مالک/الجنائز ١ (٢)، مسند احمد (٦/٤٠٧)، من غیر ہذا الوجہ۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے مشک کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ تمہاری خوشبوؤں میں سب سے بہتر خوشبو ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about musk. He said, “It i the best of your perfumes.” [Ahmed11311, Muslim 18, 19, Abu Dawud 3158]
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین خوشبو مشک ہے ۔
A similar hadith is reported by Mahmud ibn Ghaylan, Shu’bah, from Khulayd ibn Ja’far.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 991
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 992
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسے مستمر بن ریان نے بھی بطریق: «أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مستمر بن ریان ثقہ ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- اور بعض اہل علم نے میت کے لیے مشک کو مکروہ قرار دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٥ (٢٢٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ٤٢ (١٩٠٦)، والزینة ٣ (٥١٢٢)، و ٧٤ (٥٢١٦)، ( تحفة الأشراف: ٤٣١١) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/المصدرالمذکور، سنن ابی داود/ الجنائز ٣٧ (٣١٥٨)، سنن النسائی/الجنائز ٤٢ (١٩٠٧)، مسند احمد (٣/٣٦، ٤٠، ٤٦، ٦٢) من غیر ہذا الوجہ۔
انظر ما قبلہ (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میت کو نہلانے سے غسل اور اسے اٹھانے سے وضو ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “There is bath after bathing the dead and ablution after carrying him.” [Ahmed7693, Abu Dawud 3161]
صحيح، ابن ماجة (1463)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 993
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- ابوہریرہ ؓ سے یہ موقوفاً بھی مروی ہے، ٣- اس باب میں علی اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو میت کو غسل دے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب کوئی کسی میت کو غسل دے تو اس پر غسل ہے، ٥- بعض کہتے ہیں: اس پر وضو ہے۔ مالک بن انس کہتے ہیں: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا میرے نزدیک مستحب ہے، میں اسے واجب نہیں سمجھتا ١ ؎ اسی طرح شافعی کا بھی قول ہے، ٦- احمد کہتے ہیں: جس نے میت کو غسل دیا تو مجھے امید ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔ رہی وضو کی بات تو یہ سب سے کم ہے جو اس سلسلے میں کہا گیا ہے، ٧- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: وضو ضروری ہے ٢ ؎، عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس نے میت کو غسل دیا، وہ نہ غسل کرے گا نہ وضو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے باب کی حدیث کو استحباب پر محمول کیا ہے کیونکہ ابن عباس کی ایک روایت میں ہے «ليس عليكم في غسل ميتكم غسل إذا اغسلتموه إن ميتكم يموت طاهرا وليس بنجس، فحسبکم أن تغسلوا أيديكم» جب تم اپنے کسی مردے کو غسل دو تو تم پر غسل واجب نہیں ہے، اس لیے کہ بلاشبہ تمہارا فوت شدہ آدمی ( یعنی عورتوں، مردوں، بچوں میں سے ہر ایک ) پاک ہی مرتا ہے، وہ ناپاک نہیں ہوتا تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ دھو لیا کرو لہٰذا اس میں اور باب کی حدیث میں تطبیق اس طرح دی جائے کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو استحباب پر محمول کیا جائے، یا یہ کہا جائے کہ غسل سے مراد ہاتھوں کا دھونا ہے، اور صحیح قول ہے کہ میت کو غسل دینے کے بعد نہانا مستحب ہے۔ ٢ ؎: انہوں نے باب کی حدیث کو غسل کے وجوب پر محمول کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٦٣) (تحفة الأشراف: ١٧٢٦) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Dress yourselves in your white garments, for, they are the best of your garments, and shroud your dead in them.” [Ahmed2479, Abu Dawud 3878, Ibn e Majah 1472]
صحيح، ابن ماجة (1472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 994
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سمرہ، ابن عمر اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اہل علم اسی کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں: میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ آدمی انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں وہ نماز پڑھتا تھا، ٤- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: کفنانے کے لیے میرے نزدیک سب سے پسندیدہ کپڑا سفید رنگ کا کپڑا ہے۔ اور اچھا کفن دینا مستحب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں امر استحباب کے لیے ہے اس امر پر اجماع ہے کہ کفن کے لیے بہتر سفید کپڑا ہی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ١٦ (٤٠٦١)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٢) (تحفة الأشراف: ٥٥٣٤)، مسند احمد (١/٣٥٥) (صحیح)
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے بھائی کا (کفن کے سلسلے میں) ولی (ذمہ دار) ہو تو اسے اچھا کفن دے ۔
Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you is the guardian of his (dead) brother, he must give him the best shroud.”
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- ابن مبارک کہتے ہیں کہ سلام بن ابی مطیع آپ کے قول «وليحسن أحدکم كفن أخيه» اپنے بھائی کو اچھا کفن دو کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، اس سے قیمتی کپڑا مراد نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٢ (١٤٧٤) (تحفة الأشراف: ١٢١٢٥) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید ١ ؎ یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا ٢ ؎ نہ ان میں قمیص ٣ ؎ تھی اور نہ عمامہ۔ لوگوں نے عائشہ ؓ سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو ام المؤمنین عائشہ نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے واپس کردیا تھا، آپ کو اس میں نہیں کفنایا گیا تھا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said: The Prophet ﷺ was shrouded in three white Yamani garments, neither a shirt nor a turban was among them. She was reminded of their (people’s) saying that there were two garments and a stripped cloak. She said, “A cloak was brought, but returned and he was not shrouded in it.” [Ahmed26008, Bukhari 1271, Muslim 941, Abu Dawud 3152, Ibn e Majah 1469]
صحيح، ابن ماجة (1469)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 996
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تین سفید کپڑوں سے مراد تین بڑی چادریں ہیں اور بعض کے نزدیک کفنی، تہ بند اور بڑی چادر ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کفن تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ ( پگڑی ) جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے سراسر بدعت ہے رہی ابن عباس کی روایت جس میں ہے «كفن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ثلاثة أثواب بحرانية: الحلة، ثوبان، وقميصه الذي مات فيه» تو یہ منکر ہے اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، اسی طرح عبادہ بن صامت کی حدیث «خير الکفن الحلة» بھی ضعیف ہے اس کے راوی نسي مجہول ہیں۔ ٣ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کفن میں قمیص مستحب نہیں جمہور کا یہی قول ہے، لیکن مالکیہ اور حنفیہ استحباب کے قائل ہیں، وہ اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس میں احتمال یہ ہے کہ دونوں ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ شمار کی گئی چیز کی نفی ہو یعنی قمیص اور عمامہ ان تینوں میں شامل نہیں تھے بلکہ یہ دونوں زائد تھے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ پہلا احتمال ہی صحیح ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کفن میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن ابی داود/ الجنائز ٣٤ (٣١٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ٣٩ (٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١١ (١٤٦٩)، ( تحفة الأشراف: ١٦٧٨٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، و ٢٣ (١٢٧١)، و ٢٤ (١٢٧٢)، و ٩٤ (١٣٨٧)، صحیح مسلم/الجنائز (المصدرالمذکور)، الجنائز (٣١٥١)، سنن النسائی/الجنائز ٣٩ (١٨٩٨ و ١٨٩٩)، موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد (٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥، ٢٣١) من غیر ہذا الوجہ۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمزہ بن عبدالمطلب ؓ کو ایک ہی کپڑے میں ایک چادر میں کفنایا۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ shrouded Sayyidina Hamzah ibn Abdul Muttalib in one woollen garment.
حسن الأحكام (59 - 60)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 997
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ کے کفن کے بارے میں مختلف احادیث آئی ہیں۔ اور ان سبھی حدیثوں میں عائشہ والی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، ٣- اس باب میں علی ١ ؎، ابن عباس، عبداللہ بن مغفل اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل عائشہ ہی کی حدیث پر ہے، ٥- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی کو تین کپڑوں میں کفنایا جائے۔ چاہے ایک قمیص اور دو لفافوں میں، اور چاہے تین لفافوں میں۔ اگر دو کپڑے نہ ملیں تو ایک بھی کافی ہے، اور دو کپڑے بھی کافی ہوجاتے ہیں، اور جسے تین میسر ہوں تو اس کے لیے مستحب یہی تین کپڑے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنایا جائے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علی کی روایت کی تخریج ابن ابی شیبہ، احمد اور بزار نے «كفن النبي صلی اللہ عليه وسلم في سبعة أثواب» کے الفاظ کے ساتھ کی ہے لیکن اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل ہیں جو سئی الحفظ ہیں ان کی حدیث سے استدلال درست نہیں جب وہ ثقات کے مخالف ہو۔ ٢ ؎: اس کی دلیل لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ ؓ کی حدیث ہے جس کی تخریج احمد اور ابوداؤد نے کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں، لیلیٰ کہتی ہیں: «کنت فیمن غسل أم کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم عندو فاتہا، فکان أوّل ما أعطانا رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم الحقاء، ثم الدرع ثم الخمار، ثم الملحفۃ، ثم أدرجت بعد فی الثوب الآخر، قالت: و رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم جالس عندالباب معہ کفنہا یناولناہا ثوباً ثوباً» لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس کے راوی نوح بن حکیم ثقفی مجہول ہیں۔
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ جب جعفر طیار کے مرنے کی خبر آئی ١ ؎ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاؤ، اس لیے کہ آج ان کے پاس ایسی چیز آئی ہے جس میں وہ مشغول ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Ja’far i said : When news arrived of the martyrdom of (Sayyidina) Ja’far (RA) the Prophet ﷺ said, “Prepare meal for the family of Jafar, for, they have heard what occupies them.” [Ahmed1751, Abu Dawud 3132, Ibn e Majah 1610]
حسن، ابن ماجة (1610)، المشکاة (1739)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 998
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم میت کے گھر والوں کے مصیبت میں پھنسے ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں کچھ بھیجنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے، ٣- جعفر بن خالد کے والد خالد سارہ کے بیٹے ہیں اور ثقہ ہیں۔ ان سے ابن جریج نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جعفر بن ابی طالب ؓ کی شہادت ٨ ھ میں غزوہ موتہ میں ہوئی تھی، ان کی موت یقیناً سب کے لیے خاص کر اہل خانہ کے لیے رنج و غم لے کر آئی۔ ٢ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانا بھیج دیں۔ مگر آج کے مبتدعین نے معاملہ الٹ دیا، تیجا، قل، ساتویں اور چالیسویں جیسی ہندوانہ رسمیں ایجاد کر کے میت کے ورثاء کو خوب لوٹا جاتا ہے، «العیاذ باللہ من ہذہ الخرافات»۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ١ ؎ ہم میں سے نہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “He is not of us who tears the front of his garment and beats his cheeks and cries out the cries of the jahiliyah.’ [Ahmed4111, Bukhari 3519, Muslim 103, Nisai 1860, Ibn e Majah 1584]
صحيح، ابن ماجة (1584)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 999
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جاہلیت کی ہانک پکارنے سے مراد بین کرنا ہے، جیسے، ہائے میرے شیر! میرے چاند، ہائے میرے بچوں کو یتیم کر جانے والے عورتوں کے سہاگ اجاڑ دینے والے! وغیرہ وغیرہ کہہ کر رونا۔ ٢ ؎: یعنی ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کے غیر مسلموں جیسے جزع و فزع کے طور طریقے دیکھ کر اس حدیث کی صداقت کس قدر واضح ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٥ (١٢٩٤)، والمناقب ٨ (٣٥١٩)، سنن النسائی/الجنائز ١٩ (١٨٦٣)، و ٢١ (١٨٦٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٢ (١٥٨٤) (تحفة الأشراف: ٩٥٥٩)، مسند احمد (١/٣٨٦، ٤٤٢) (صحیح) ووأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٣٨ (١٢٩٧)، و ٣٩ (١٢٩٨)، والمناقب ٨ (٣٥١٩)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٤ (١٠٣)، سنن النسائی/الجنائز ١٧ (١٨٦١)، مسند احمد (١/٤٦٥) من غیر ہذا الوجہ۔
علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں کہ انصار کا قرظہ بن کعب نامی ایک شخص مرگیا، اس پر نوحہ ١ ؎ کیا گیا تو مغیرہ بن شعبہ ؓ آئے اور منبر پر چڑھے۔ اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: کیا بات ہے؟ اسلام میں نوحہ ہو رہا ہے۔ سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس پر نوحہ کیا گیا اس پر نوحہ کیے جانے کا عذاب ہوگا ٢ ؎۔
Rabi’ah Asadi narrated : A man of the Ansars, Qarazah ibn Ka’b, died. The people wailed over him. Mughirah ibn Shu’bah climbed on the pulpit, praised and glorified Allah and said, “What has wailing to do in Islam? I had heard Allah’s Messenger ﷺ say If anyone is wailed over then he will be punished.” [Ahmed18265, Bukhari 1291, Muslim 933]
صحيح الأحكام (28 - 29)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1000
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مغیرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، ابوموسیٰ، قیس بن عاصم، ابوہریرہ، جنادہ بن مالک، انس، ام عطیہ، سمرہ اور ابو مالک اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میت پر اس کی خوبیوں اور کمالات بیان کر کے چلاّ چلاّ کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎: یہ عذاب اس شخص پر ہوگا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے گیا ہو، یا اس کا اپنا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٣ (١٢٩١)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣٣)، ( تحفة الأشراف: ١١٥٢٠)، مسند احمد (٤/٢٤٥، ٢٥٢)، (بزیادة في السیاق) (صحیح) وانظر: مسند احمد (٢/٢٩١، ٤١٤، ٤١٥، ٤٥٥، ٥٢٦، ٥٣١)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں، لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا، حسب و نسب میں طعنہ زنی، اور بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کا عقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہنا کہ ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی اور اس نے سو اونٹ میں کھجلی پھیلا دی تو آخر پہلے اونٹ کو کھجلی کیسے لگی؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا۔ مثلاً فلاں اور فلاں نچھتر (ستارے) کے سبب ہم پر بارش ہوئی ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said. Four things of the jahiliyah, people of my ummah will not abandon: wailing taking pride over line of descent, believing that infection and mangy camel cause hundred to get the same so who infected the first, and that it rains because of movement of stars.” [Ahmed9376]
حسن، الصحيحة (735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1001
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
Saalim ibn Abdullah reported on the authority of his father that Sayyidina Umar ibn Khattab reported Allah’s Messenger as saying, “The dead is punished because of the weeping over him of his folks.” [Ahmed386, Bukhari 1292, Muslim 927, Nisai 1849, Ibn e Majah 1593]
صحيح، ابن ماجة (1593)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1002
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے میت پر رونے کو مکروہ (تحریمی) قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میت کو اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور وہ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، ٤- اور ابن مبارک کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ اگر وہ (میت) اپنی زندگی میں لوگوں کو اس سے روکتا رہا ہو تو اس پر اس میں سے کچھ نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٥١) (تحفة الأشراف: ١٠٥٢٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٧)، و ٣٣ (١٢٩٠، ١٢٩١)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٢٧)، سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٩)، و ١٥ (١٨٥٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٤ (١٥٩٣)، ( تحفة الأشراف: ٩٠٣١)، مسند احمد (١/٢٦، ٣٦، ٤٧، ٥٠، ٥١، ٥٤)، من غیر ہذا الوجہ۔ و راجع أیضا مسند احمد (٦/٢٨١)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی بھی مرجائے پھر اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہے: ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار یا اس جیسے الفاظ کہے تو اسے دو فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے، وہ اسے گھونسے مارتے ہیں (اور کہتے جاتے ہیں) کیا تو ایسا ہی تھا؟ ۔
Musa ibn Abu Musa Ash’ary reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone dies and his mourner gets up and says, ‘O the mountains, O the chief’, or something like that then two angels are put over the dead whO beat him on the chest asking him if he was like that.” [Ahmed19737, Ibn e Majah 1594]
حسن، ابن ماجة (1594)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1003
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٥٤ (١٥٩٤) (تحفة الأشراف: ٩٠٣١) (حسن)
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے سنا اور ان سے ذکر کیا گیا تھا کہ ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میت پر لوگوں کے رونے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے (عائشہ ؓ نے کہا) اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے۔ سنو، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا۔ بلکہ ان سے بھول ہوئی ہے یا وہ چوک گئے ہیں۔ بات صرف اتنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک یہودی عورت کے پاس سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے ۔
Amrah narrated that Sayyidah Ayshah (RA) was told that Ibn Umar (RA) said, The dead will be punished for the weeping of the survivors.” She (Sayyidah Ayshah) said, “May Allah forgive Abu Abdur Rahman. Surely he has not lied, but has forgotten or is mistaken. Only that Allah’s Messenger ﷺ had passed by a Jewess (dead) over whom they were weeping. He had said : They are weeping while she is being punished in her grave.” [Ahmed24812]
صحيح الأحكام (28)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1006
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میت کو اپنے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے ، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: اللہ (ابن عمر) پر رحم کرے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا، انہیں وہم ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو یہ بات اس یہودی کے لیے فرمائی تھی جو مرگیا تھا: میت کو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The dead is punished because of the weeping of his family over him. Sayyidah Ayshah (RA) said, “May Allah have mercy on him. The dead is not punished, but he has misunderstood. Allah’s Messenger ﷺ only said about a Jew who had died that the dead is being punished and his folk are weeping over him.” [Ahmed288, Bukhari 1286, Muslim 928, Nisai 1853]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1004
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عائشہ ؓ سے مروی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس، قرظہ بن کعب، ابوہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم اسی جانب گئے ہیں اور ان لوگوں نے آیت: «ولا تزر وازرة وزر أخری» کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، کا مطلب بھی یہی بیان کیا ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٥٦٤ و ١٧٦٨٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المغازي ٨ (٣٩٧٨)، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٢٨-٩٢٩)، سنن ابی داود/ الجنائز ٢٩ (٣١٢٩)، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٦)، مسند احمد (٢/٣٨)، و (٦/٣٩، ٥٧، ٩٥، ٢٠٩)، من غیر ہذا الطریق، وانظر أیضا (رقم: ١٠٠٦)