Sunan At-Tirmidhi 966

جنازوں کا بیان

966Sunan At-Tirmidhi

بیماری کا ثواب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا حَزَنٍ وَلَا وَصَبٍ حَتَّى الْهَمُّ يَهُمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: لَمْ يُسْمَعْ فِي الْهَمِّ أَنَّهُ يَكُونُ كَفَّارَةً إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کو جو بھی تکان، غم، اور بیماری حتیٰ کہ فکر لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Nothing afflicts a Believer like fatigue, grief, chronic illness or worry that worries him but Allah expiates with that his sins.” [Bukhari 5641, Muslim 2573]

حسن صحيح، الصحيحة (2503)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 966
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضي اللہ عنه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- وکیع کہتے ہیں: اس حدیث کے علاوہ کسی حدیث میں «همّ» فکر کے بارے میں نہیں سنا گیا کہ وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ مومن کو دنیا میں جو بھی آلام و مصائب پہنچتے ہیں اللہ انہیں اپنے فضل سے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب مومن صبر کرے، اور اگر وہ صبر کے بجائے بےصبری کا مظاہرہ اور تقدیر کا رونا رونے لگے تو وہ اس اجر سے تو محروم ہو ہی جائے گا، اور خطرہ ہے کہ اسے مزید گناہوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المرضی ١ (٥٦٤١، ٥٦٤٢)، صحیح مسلم/البروالصلة ١٤ (٢٥٧٣)، ( تحفة الأشراف: ٤١٦٥)، مسند احمد (٣/٤، ٢٤، ٣٨) (حسن صحیح)