دیت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 16 · 41 hadiths · Page 2 of 2

1406Sunan At-Tirmidhi

مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا، فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي، وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلُوا، أَوْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَيْضًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا، وَرُوِي عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَلَهُ أَنْ يَقْتُلَ، أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ . وَذَهَبَ إِلَى هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ابوشریح کعبی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکہ کو اللہ نے حرمت والا (محترم) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، (اب) اگر کوئی (خونریزی کے لیے) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال کیا گیا تھا (تو اس کا یہ استدلال باطل ہے) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے؟ اے خزاعہ والو! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، (سن لو) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہوگا: یا تو وہ (اس کے بدلے) اسے قتل کردیں، یا اس سے دیت لے لیں ۔

Sayyidina Abu Shurayh Ka’bi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Indeed, Allah has made Makkah sacred. The people have not made it so. He who believes in Allah and the Last Day must not shed blood here, nor uproot a tree. If anyone cites (my conquest of Makkah) as a leave saying that it was made lawful for Allah’s Messenger ﷺ then Allah made it lawful for me and He did not make it lawful for the people and it was made lawful for me only for a part of the day. Thereafter, it is forbidden till the Day of Resurrection. Then, you, O company of Khuza’ah killed this man of Hudhayl. I am his aaqil (that is, I will pay his blood wit). If, after today, anyone’s man is killed then his people have the choice of two things, either to kill or take bloodwit.” [Bukhari 1832, Muslim 1354]

صحيح، الإرواء (2220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1406
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ٣ - اور یہ (حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ (اور یہ دونوں ایک ہی ہیں) اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے ، ٤ - بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٨٠٩ (صحیح )
1407Sunan At-Tirmidhi

مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى وَلِيِّهِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ قَوْلُهُ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ ، فَخَلَّى عَنْهُ الرَّجُلُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، قَالَ: فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، قَالَ: فَكَانَ يُسَمَّى: ذَا النِّسْعَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالنِّسْعَةُ حَبْلٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی قتل کردیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی (وارث) کے سپرد کردیا گیا، قاتل نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار! اگر وہ (قاتل) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ١ ؎، چناچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ (رسی یا تسمے والا) رکھ دیا گیا۔

Sayyidina Abu Huraryrah (RA) reported that a man killed someone in the era of Allah’s Messenger ﷺ . He was handed over to the guardian of the slain man. The murderer pleaded, “O Messenger of Allah ﷺ , by Allah! I had no intention to kill him.” Allah’s Messenger ﷺ said, “Know that if he is true and you kill him (in retaliation) then you will go to the Fire.” So, he forgave him. His hands were bound at the back with laces and he came out pulling at them. So, he came to be called dhun nis’ah (one with laces). [Abu Dawud 4498, Nisai 4736, Abu Dawud 2690]

صحيح، ابن ماجة (2690)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1407
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور «نسعہ»: رسی کو کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قاتل اپنے دعویٰ میں اگر سچا ہے تو اسے قتل کردینے کی صورت میں ولی کے گناہ گار ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے اس کا نہ قتل کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٣ (٤٤٩٨)، سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٢٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٤ (٢٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٧) (صحیح )
1408Sunan At-Tirmidhi

مثلہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، فَقَالَ: اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ، وَسَمُرَةَ، وَالْمُغِيرَةِ، وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْمُثْلَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چناچہ آپ نے فرمایا: اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ١ ؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو ، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ٢ ؎۔

Sulayman ibn Buraydah reported on the authority of his father who said that when Allah’s Messenger ﷺ sent anyone as amir over an army, he instructed him, about himself, to fear Allah, and about the Muslims with him, to consider their welfare. He would (also) say, ‘Go ahead in jihad in the name of Allah and in the path of Allah. Fight those who disbelieve in Allah.’ Wage jihad. And do not be unfaithful about the booty, do not be unfaithful to your promise, do not mutilate and do not kill children.” And there is a narrative in the hadith. [Muslim 1731, Abu Dawud 2612]

صحيح، ابن ماجة (2858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1408
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، شداد بن اوس، عمران بن حصین، انس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابوایوب سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم نے مثلہ کو حرام کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مردہ کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎؎: پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٢ (١٧٢١)، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٠ (٢٦١٢)، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٨ (٢٨٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩)، و مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٨)، وسنن الدارمی/السیر (٢٤٨٣) (صحیح )
1409Sunan At-Tirmidhi

مثلہ کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ: شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ.

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل ١ ؎ کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہارے ہر آدمی کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ٢ ؎۔

Sayyidina Shaddad ibn Aws reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed Allah has decreed kindness over every thing. So, when you kill, do it in good way. And when you slaughter, show kindness to the animal; let every one of you sharpen his knife that he may give little pain to his animal.” [Muslim 1955]

صحيح، ابن ماجة (3170)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1409
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انسان کو ہر چیز کے ساتھ رحم دل ہونا چاہیئے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف انسانوں کے ساتھ بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی احسان اور رحم دلی کی تعلیم دی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم جب کسی شخص کو بطور قصاص قتل کرو تو قتل کے لیے ایسا طریقہ اپناؤ جو آسان ہو اور سب سے کم تکلیف کا باعث ہو، اسی طرح جب کوئی جانور ذبح کرو تو اس کے ساتھ بھی احسان کرو یعنی ذبح سے پہلے چھری خوب تیز کرلو، بہتر ہوگا کہ چھری تیز کرنے کا عمل جانور کے سامنے نہ ہو اور نہ ہی ایک جانور دوسرے جانور کے سامنے ذبح کیا جائے، اسی طرح اس کی کھال اس وقت اتاری جائے جب وہ ٹھنڈا پڑجائے۔ ٢ ؎: حدیث میں قتل سے مراد موذی جانور کا قتل ہے یا بطور قصاص کسی قاتل کو قتل کرنا اور میدان جنگ میں دشمن کو قتل کرنا ہے، ان تمام صورتوں میں قتل کی اجازت ہے، لیکن دشمنی کے جذبات میں ایذا دیدے کر مارنے کی اجازت نہیں ہے، جیسے اسلام سے پہلے مثلہ کیا جاتا تھا، پہلے ہاتھ کاٹتے پھر پیر پھر ناک پھر کان وغیرہ، اسلام نے اس سے منع فرما دیا اور کہا کہ تلوار کے ایک وار سے سر تن سے جدا کرو تاکہ کم سے کم تکلیف ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥)، سنن ابی داود/ الضحایا ١٢ (٢٨١٥)، سنن النسائی/الضحایا ٢٢ (٤٤١٠)، و ٢٧ (٤٤١٩)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٣ (٣١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٤١٧)، و مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥)، و سنن الدارمی/الأضاحي ١٠ (٢٠١٣) (صحیح )
1410Sunan At-Tirmidhi(1411)

حمل ضائع کردینے کی دیت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ . قَالَالْحَسَنُ، وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ، وقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ دو عورتیں سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ (گھونٹی) سے مارا، تو اس کا حمل ساقط ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ١ ؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah narrated: Two women quarreled with one another. One of them struck the other with a stone or the pole of a tent. This caused her miscarriage. So, Allah’s Messenger ﷺ gave judgement about the fetus that a slave male or female, should be given. He made this obligatory on the relatives of the killer woman. [Muslim 1682, Abu Dawud 4568]

صحيح، الإرواء (2206)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1411
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قتل کی دوسری قسم شبہ عمد کے سلسلہ میں اصل ہے، شبہ عمد: وہ قتل ہے جس میں قتل کے لیے ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عموماً قتل واقع نہیں ہوتا جیسے: لاٹھی اور اسی جیسی دوسری چیزیں، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے، یہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی، اس دیت کی ذمہ داری قاتل کے عصبہ پر ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو باپ کی جہت سے قاتل کے قریبی یا دور کے رشتہ دار ہیں، خواہ اس کے وارثین میں سے نہ ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩٠٤ - ٦٩٠٨)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود)، ١١ (١٦٨٢)، سنن ابی داود/ الدیات ٢١ (٤٥٦٨)، سنن النسائی/القسامة ٣٩ (٤٨٢٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٠)، و مسند احمد (٤/٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩)، و سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) (صحیح )
1411Sunan At-Tirmidhi(1410)

حمل ضائع کردینے کی دیت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ، أَيُعْطَى مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ: بَلْ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ . وَفِي الْبَاب، عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْغُرَّةُ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «جنين» (حمل) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی (دینے) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہوجاتا ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ١ ؎، «جنين» (حمل گرا دینے) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ gave his verdict that the woman who caused miscarriage should give a slave, male or female. So, he against whom he had passed the judgement complained, “Are we to pay bloodwit for one who neither drank nor ate nor cried? The blood of such is useless.” The Prophet ﷺ said, “He speaks like a poet. Yes. There is a slave, male or female as diyat.” [Bukhari 5759, Muslim 1681]

صحيح، ابن ماجة (2639)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1410
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤ - غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ٥ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ اس آدمی نے ایک شرعی حکم کو رد کرنے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے بتکلف قافیہ دار اور مسجع بات کہی، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی مذمت کی، اگر مسجع کلام سے مقصود یہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، رسول اللہ ﷺ کا بعض کلام مسجع ملتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ایسا آپ کی زبان مبارک سے اتفاقاً بلاقصد و ارادہ نکلا ہے۔ ٢ ؎: یہ اس صورت میں ہوگا جب بچہ پیٹ سے مردہ نکلے اور اگر زندہ پیدا ہو پھر پیٹ میں پہنچنے والی مار کے اثر سے وہ مرجائے تو اس میں دیت یا قصاص واجب ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨)، والفرائض ١١ (٥٧٥٩)، والدیات ٢٥ (٦٩٠٤)، و ١٠ ٦٩٠٩، ٦٩١٠)، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١)، سنن ابی داود/ الدیات ٢١ (٤٥٧٦)، القسامة ٣٩ (٤٨٢٢)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥١٠٦)، و موطا امام مالک/العقول ٧ (٥)، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٤، ٤٣٨، ٤٩٨، ٥٣٥، ٥٣٩)، وانظر ما یأتي برقم: ٢١١١ (صحیح)
1412Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ سَوْدَاءُ فِي بَيْضَاءَ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عَلِمْتُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ: الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْمُعَاهِدِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ سے پوچھا کیا ١ ؎: امیر المؤمنین! کیا آپ کے پاس کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی ایسی تحریر ہے جو قرآن میں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا! میں سوائے اس فہم و بصیرت کے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کے سلسلہ میں آدمی کو نوازتا ہے اور اس صحیفہ میں موجود چیز کے کچھ نہیں جانتا، میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا ہے؟ کہا: اس میں دیت، قید یوں کے آزاد کرنے کا ذکر اور آپ کا یہ فرمان ہے: مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ٢ ؎۔

Sha’hi reported on the authority of Abu Juhayfh that he asked Sayyidina Ali “O commander of the Faithful! Do you have anything written down that is not in the Quran?” He said, By Him Who split the seed and created the soul, I am not aware of anything that is not in the Quran. However, we are given the understanding of the Qur’an that Allah grants to any human being. Some things are written down with us.” He asked what they were and he said, ‘Diyat, release of captives and that a Muslim must not be killed for a disbeliever.” [Nisai 4758, Ibn e Majah 2658] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2658)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1412
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: مومن کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: ذمی کے بدلے بطور قصاص مسلمان کو قتل کیا جائے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ سے ابوجحیفہ کے سوال کرنے کی وجہ سے بعض شیعہ کہتے ہیں کہ اہل بیت بالخصوص علی ؓ کے پاس نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی کچھ ایسی باتیں ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں، کچھ اسی طرح کا سوال علی ؓ سے قیس بن عبادہ اور اشتر نخعی نے بھی کیا تھا، اس کا ذکر سنن نسائی میں ہے۔ ٢ ؎: رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم عام ہے ہر کافر کے لیے خواہ حربی ہو یا ذمی، لہٰذا مومن کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا، ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذمی کے بدلے ایک مسلمان کے قتل کا حکم دیا، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، اس کا صحیح ہونا اگر ثابت بھی ہوجائے تو یہ منسوخ ہوگی اور «لايقتل مسلم بکافر» والی روایت اس کے لیے ناسخ ہوگی، کیونکہ آپ کا یہ فرمان فتح مکہ کے سال کا ہے جب کہ ذمی والی روایت اس سے پہلے کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١١)، والجہاد ١٧١ (٣٠٤٧)، والدیات ٢٤ (٦٩٠٣)، و ٣١ (٦٩١٥)، سنن النسائی/القسامة ١٣، ١٤ (٤٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٣١١)، و مسند احمد (١/٧٩)، وسنن الدارمی/الدیات ٥ (٢٤٠١) (وانظر ما یأتي برقم ٢١٢٧) (صحیح )
1413Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، وحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دِيَةُ عَقْلِ الْكَافِرِ، نِصْفُ دِيَةِ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ إِلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ، وَبِهَذَا يَقُولُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ. وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ: أَرْبَعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ الْمَجُوسِيِّ: ثَمَانُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا ، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے ۔

Amr ibn Shuayb reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A Muslim may not be killed for an infidel.’ It is also reported through the same sanad that the diyat of a disbeliever is half that of a Believer. [Nisai 4821, Ahmed 6702]

حسن صحيح، ابن ماجة (2659) حسن صحيح، ابن ماجة (2659)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1413 عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی آٹھ سو درہم ہے۔ ( امام ترمذی کہتے ہیں:) ١ - مالک بن انس، شافعی اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٢ - بعض اہل علم کہتے ہیں: یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمانوں کی دیت کے برابر ہے، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1413
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم ﷺ سے مروی حدیث کے موافق ہے، ٣ - عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٨٦٦١) (صحیح) سنن النسائی/القسامة ٣٧ (٤٨١٠)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٤٤)، (تحفة الأشراف:)، و مسند احمد (٢/١٨٣، ٢٢٤) (صحیح )
1414Sunan At-Tirmidhi

جو اپنے غلام کو قتل کردے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِلَى هَذَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قِصَاصٌ فِي النَّفْسِ، وَلَا فِيمَا دُونَ النَّفْسِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا قَتَلَ عَبْدَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ عَبْدَ غَيْرِهِ قُتِلَ بِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کردیں گے اور جو اپنے غلام کا کان، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان، ناک کاٹیں گے ۔

Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kills his slave then we will execute him (in retaliation) and if anyone maims his slave then we will maim him.” [Abu Dawud 4515, Nisai 4751, Ibn e Majah 2663, Ahmed 20152]

ضعيف، ابن ماجة (2663)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1414
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں، ٣ - بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے، (نہ قتل کرنے میں، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے) میں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٧ (٤٥١٥)، سنن النسائی/القسامة ١٠ (٤٧٥١)، و ١١ (٤٧٥٢)، و ١٧ (٤٧٦٧)، و ١٧ (٤٧٦٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٦)، و مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حدیث عقیقہ کے سوا دیگر احادیث کے حسن کے سمرہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے )
1415Sunan At-Tirmidhi

بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے ترکہ ملے گا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر ؓ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ١ ؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو ٢ ؎۔

Sayyidina Sa’eed ibn Musayyib (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) used to say that diyat (blood-money) is payable by aaqilah (tribe nearest to murderer in relation) and a woman has no share in it (inheritance from diyat) till Sayyidina Dahhak ibn Sufyan Kilabi .r told him that Allah’s Messenger ﷺ had written to him, “Give share of inheritance to the wife of Ashyam Dababi from his diyat.” [Abu Dawud 2927, Ibn e Majah 2642, Ahmed 15736]

صحيح، ابن ماجة (2642 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1415
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیت کے باب میں «عقل»، «عقول» اور «عاقلہ» کا ذکر اکثر آتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے: عقل دیت کا ہم معنی ہے، اس کی اصل یہ ہے کہ قاتل جب کسی کو قتل کرتا تو دیت کی ادائیگی کے لیے اونٹوں کو جمع کرتا، پھر انہیں مقتول کے اولیاء کے گھر کے سامنے رسیوں میں باندھ دیتا، اسی لیے دیت کا نام «عقل» پڑگیا، اس کی جمع «عقول» آتی ہے، اور «عاقلہ» باپ کی جہت سے قاتل کے وہ قریبی لوگ ہیں جو قتل خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ٢ ؎: سنن ابوداؤد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ پھر عمر ؓ نے اپنے اس قول بیوی شوہر کی دیت سے میراث نہیں پائے گی سے رجوع کرلیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفرائض ١٨ (٢٩٢٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٢ (٢٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٣)، و مسند احمد (٣/٤٥٢) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سعید بن المسیب کے عمر ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، ملاحظہ ہو صحیح ابی داود رقم: ٢٥٩٩ )
1416Sunan At-Tirmidhi

قصاص کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لَا دِيَةَ لَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45. قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ١ ؎۔

Sayyidina lmran ibn Husayn narrated that a man bit another’s hand. He pulled his hand away and two of the biter’s teeth came off. They went to the Prophet ﷺ and he said, “One of you bites his brother as a camel bites. There is no diyat for you.” The verse was revealed after that: (and for wounds a like retaliation). (5 :45) [Bukhari 6892, Muslim 1673]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1416
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمران بن حصین ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ (المائدہ: ٤٥ )، لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیا جائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدیات ١٨ (٦٨٩٢)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٤ (١٦٧٣)، سنن النسائی/القسامة ١٨ (٤٧٦٢-٤٧٦٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٢٣)، و مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٣٠، ٤٣٥) (صحیح )
1417Sunan At-Tirmidhi

تہمت میں قید کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بَهْزٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

معاویہ بن حیدہ قشیری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو تہمت ١ ؎ کی بنا پر قید کیا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اس کو رہا کردیا۔

Bahz ibn Hakim reported from his father on the authority of his grand father that the Prophet ﷺ imprisoned a man on an accusation. Afterwards, he let him go. [Abu Dawud 3630, Nisai 4891]

حسن، المشکاة (3785)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢ - بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ٣ - اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس تہمت اور الزام کے کئی سبب ہوسکتے ہیں: اس نے جھوٹی گواہی دی ہوگی، یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہوگا، یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہوگا، پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کردیا گیا ہوگا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید و بند کرنا ایک شرعی امر ہے۔ ٢ ؎: پوری حدیث کے لیے دیکھئیے سنن ابی داود حوالہ مذکور۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٢٩ (٣٦٣٠)، سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٢) (حسن )
1418Sunan At-Tirmidhi

اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ سَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَزَادَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَعْمَرٌ: بَلَغَنِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ، زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، ، وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ١ ؎ اور جس نے ایک بالشت بھی زمین چرائی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔

Sa’eed ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl narrated that the Prophet ﷺ said. “If anyone is killed in defence of his property then he is a martyr. And he who usurps (another’s) land will be garlanded with seven earths on the day of resurrection.” [Ahmed 1628, Bukhari 2452, Abu Dawud 4772, Muslim 1610, Ibn e Majah 2580]

صحيح، ابن ماجة (4580)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1418
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث میں حاتم بن سیاہ مروزی نے اضافہ کیا ہے، معمر کہتے ہیں: زہری سے مجھے حدیث پہنچی ہے، لیکن میں نے ان سے نہیں سنا کہ انہوں نے اس حدیث یعنی «من قتل دون ماله فهو شهيد» جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے میں کچھ اضافہ کیا ہو، اسی طرح شعیب بن ابوحمزہ نے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد اللہ عن عبدالرحمٰن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز سفیان بن عیینہ نے بطریق: «الزهري عن طلحة بن عبد اللہ عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں سفیان نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی جان، مال، اہل و عیال اور عزت و ناموس کی حفاظت اور دفاع ایک شرعی امر ہے، ایسا کرتے ہوئے اگر کسی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے تو اسے شہادت کا درجہ نصیب ہوگا، لیکن یہ شہید میدان جہاد کے شہید کے مثل نہیں ہے، اسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے کفن بھی دیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٣٢ (٤٧٧٢)، سنن النسائی/المحاربة ٢٢ (٤٠٩٥)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢١ (٢٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦١)، و مسند احمد (١/١٨٧، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠) ویأتي برقم: ١٤٢١ (صحیح )
1419Sunan At-Tirmidhi

اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُقَاتِلُ عَنْ مَالِهِ وَلَوْ دِرْهَمَيْنِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone intends to snatch another’s propert unjustly and fights in defence and is killed then he is a shahid (martyr).” [Al’ 4771, Nisai 4100, Ahmed 6533]

صحيح الأحكام (41)، الإرواء (1528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1419
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث حسن ہے، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ٢ - بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے، ٣ - اس باب میں علی، سعید بن زید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے شخص کا ناحق مال لینا چاہتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ مال کم ہے یا زیادہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس کا دفاع کرے، دفاع کرتے وقت غاصب اگر مارا جائے تو دفاع کرنے والے پر قصاص اور دیت میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور اگر دفاع کرنے والا مارا جائے تو وہ شہید ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٣ (٢٤٨٠)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٢ (٢٢٥)، سنن ابی داود/ السنة ٣٢ (٤٧٧١)، سنن النسائی/المحاربة ٢٢ (٤٠٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٣)، و مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٣، ١٩٤، ٢٠٥، ٢٠٦، ٢١٠، ٢١٥، ٢١٧، ٢٢١، ٢٢٤) (صحیح )
1420Sunan At-Tirmidhi

اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سُفْيَانُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔

Abdullah ibn Amr , narrated: The Prophet ﷺ said “If anyone intends to snatch another’s property unjustly, and he fights in defence and is killed then he is a martyr.” [Abu Dawud 4771]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
1421Sunan At-Tirmidhi

اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا، وَيَعْقُوبُ هُوَ: ابْنُ إبرَاهِيمَ بنِ سَعْدِ بنِ إبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ الرحمنِ بنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ.

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔

Sayyidina Sa’eed ibn Zayd (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who is killed in defence of his property is a martyr. He who is killed in self defence is a martyr. He who is killed in defence of his religion is a martyr. And, he who is killed in defence of his family is a martyr.” [Abu Dawud 4772, Nisai 4102, Ibn e Majah 2580, Ahmed 1652]

صحيح الأحكام (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1421
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابراہیم بن سعد سے کئی راویوں نے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٤١٨ (صحیح )
1422Sunan At-Tirmidhi

قسامت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ، ثُمَّ إِنَّ مُحَيِّصَةَ وَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا قَدْ قُتِلَ فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرْ لِلْكُبْرِ ، فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ، أَوْ قَاتِلَكُمْ ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ، قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ.

سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہوگئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، کسی نے ان کو قتل کردیا تھا، آپ نے انہیں دفنا دیا، پھر وہ (یعنی راوی حدیث) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے (اس معاملہ میں آپ سے) گفتگو کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، لہٰذا وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہوگئے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا، آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے (کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہوجاؤ (یا کہا) قاتل کے خون کے مستحق ہوجاؤ؟ ان لوگوں نے عرض کیا: ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہوجائیں گے ، ان لوگوں نے کہا: ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کرلیں؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت ١ ؎ خود ادا کردی۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔

Rafi’ ibn Khadij and Sahi ibn Abu Hathmah narrated that Abdullah ibn Sahi ibn Zayd and Muhayyisah ibn Mas’ud ibn Zayd went out. At Khaybar, they separated from one another. Later Muhayyisah found Abdullah ibn Sahl slain. (So, he buried him He went to Allah’s Messenger ﷺ Huwayyisah ibn Mas’ud and Abdur Rahman ibn Sahi accompained him. Abdur Rabman was the youngest and the began to speak before his, companions did. Allah’s Messeger ﷺ said to him, “Respect the elder.” So, he kept quiet and his companions spoke. Later, he joined them in the conversation. They mentioned to Allah’s Messenger ﷺ about the murder of Abdullah ibn Sahi. So he said to them, “Will you take fifty oaths naming the murderer that you may be entitled to take bloodmoney or revenge for your companion (or, he said, your slain man)?’ They submitted, “How can we swear when we have not witnessed”? He said, “The Jews will exonerate themseif by swearing fifty times.” They said, “How do we accept the oaths of a disbelieving people”? When he saw that, Allah’s Messenger ﷺ paid his bloodwit. [Bukhari 2702, Muslim 1669, Abu Dawud 4520, Nisai 4712, Ibn e Majah 2677, Ahmed 16097]

1388Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا .

نبی اکرم ﷺ نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی۔

Narrated 'Ikrimah: from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) made the blood-money twelve thousand.