Sunan At-Tirmidhi 1414

دیت کا بیان

1414Sunan At-Tirmidhi

جو اپنے غلام کو قتل کردے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِلَى هَذَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قِصَاصٌ فِي النَّفْسِ، وَلَا فِيمَا دُونَ النَّفْسِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا قَتَلَ عَبْدَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ عَبْدَ غَيْرِهِ قُتِلَ بِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کردیں گے اور جو اپنے غلام کا کان، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان، ناک کاٹیں گے ۔

Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone kills his slave then we will execute him (in retaliation) and if anyone maims his slave then we will maim him.” [Abu Dawud 4515, Nisai 4751, Ibn e Majah 2663, Ahmed 20152]

ضعيف، ابن ماجة (2663)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1414
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں، ٣ - بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے، (نہ قتل کرنے میں، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے) میں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٧ (٤٥١٥)، سنن النسائی/القسامة ١٠ (٤٧٥١)، و ١١ (٤٧٥٢)، و ١٧ (٤٧٦٧)، و ١٧ (٤٧٦٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٦)، و مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حدیث عقیقہ کے سوا دیگر احادیث کے حسن کے سمرہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے )