Sunan At-Tirmidhi 2111

فرائض کے ابواب

2111Sunan At-Tirmidhi

میراث وارثوں کے لئے اور دیت عصبہ کے ذمہ ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بارے میں جس کا حمل ساقط ہو کر بچہ مرگیا تھا ایک «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، (حمل گرانے والی مجرمہ ایک عورت تھی) پھر جس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ (بطور دیت) غرہ (غلام) دے، مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر میں تقسیم ہوگی، اور اس پر عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہوگی ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ gave judgment that compensation should be paid---a male or a female slave---when a woman of Banu Lihyan had miscarriage, and she bore a still-born child. Then the woman against whom he had given this judgment also died. So, Allah’s Messenger ruled that her legacy should go to her sons and her husband while blood money should be paid by her relatives on her father’s side (asbah). [Bukhari 6909] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (2205)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یونس نے یہ حدیث «عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی روایت کی ہے، ٢ - مالک نے یہ حدیث «عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کی سند سے روایت کی ہے، اور مالک نے «عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے جو حدیث روایت کی ہے وہ مرسل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفرائض ١١ (٦٧٤٠)، والدیات ٢٦ (٦٩٠٩، ٦٩١٠)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ١١ (١٦٨١)، سنن ابی داود/ الدیات ٢١ (٤٥٧٧)، سنن النسائی/القسامة ٣٩ (٤٨٢١) (تحفة الأشراف: ١٣٢٢٥)، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٥٣٩) (وانظر ماتقدم برقم ١٤١٠) (صحیح )