Sunan At-Tirmidhi 1830

کھانے کا بیان

1830Sunan At-Tirmidhi

تکیہ لگا کر کھانے کی کراہت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے: ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

Sayyidina Abu Juhayfah reported that Allah’s Messenger s4id, “As for me, I do not recline while eating.” [Bukhari 5398]

صحيح، ابن ماجة (3262)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1830
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: ( ١ ) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، ( ٢ ) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ١٧ (٣٧٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٦ (٣٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٠١)، و مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح )