Sunan At-Tirmidhi 1848

کھانے کا بیان

1848Sunan At-Tirmidhi(1849)

کدو کھانا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أَحَبَّكِ إِلَيَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ ﷺ تجھے پسند کرتے تھے۔

Abu Talut said that when he went to Anas ibn Maalik (RA) he was eating pumpkin, saying the while, “O Tree’ How much I loved you, for Allah’s Messenger ﷺ loved for you.’

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: ١٧١٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے )