Sunan At-Tirmidhi 1871

پینے کے ابواب

1871Sunan At-Tirmidhi

مشک میں نبیذ بنانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ تُوكَأُ فِي أَعْلَاهُ لَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً وَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کردیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah said, ‘We used to prepare nabiz for Allah’s Messenge ﷺ in a waterskin. We would tie shut its higher opening; it also had a small lower opening. If we soaked it in the morning, he drank it in the evening and if we soaked it in the evening he drank it in the morning.” [Muslim 2005]

صحيح، ابن ماجة (3398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - عائشہ ؓ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣ - اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غرضیکہ نبیذ کو اس کے برتن میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا تھا مبادا اس میں کہیں نشہ نہ پیدا ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٩ (١٠٠٥)، سنن ابی داود/ الأشربة ١٠ (٣٧١١)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٣٩٨)، (تحفة الأشراف: ٧٨٣٦) (صحیح )