سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ، أَنَّحُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ ؓ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کرچکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ١ ؎، بیشک رسول اللہ ﷺ نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے ۔
Hakam reported having heard Ibn Abu Layla say that Huzayfah (RA) asked for water. Someone brought it in a silver vessel. He threw it away, saying, “I had forbidden him but he refused to cease. Indeed, Allah’s Messenger disallowed us to drink from vessels of gold and silver, to don silk and brocade, saying that these are for them (the infidels) in this world and for you (Muslims), in the next.” [Bukhari 5426, Muslim 2067]