دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 4 of 12

3433Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ مجلس سے کھڑا ہو تو کیا کہے

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہوجائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك» پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کردی جاتی ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone sits in a company and indulges in much idle talk but before leaving them says: O Allah, You are without blemish and with Your praise, I testify that there is no God but You. I seek Your forgiveness and I repent to You, then he will be forgiven what happened in that gathering. [Abu Dawud 4859, Ahmed 10420]

صحيح، المشکاة (2433)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3433
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٧ (٣٩٧/م) ( تحفة الأشراف: ١٢٧٥٢) (صحیح)
3434Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ مجلس سے کھڑا ہو تو کیا کہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ يُعَدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةُ مَرَّةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَقُومَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو سو مرتبہ: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے ، گنا جاتا تھا۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made this prayer before arising from every company and he repeated it a hundred times: O Lord, forgive me and relent towards me. Surely, You are. The Relenting, The Forgiving. [Ahmed 4726, Bukhari 618, Abu Dawud 1516, Muslim 3814] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3814)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3434
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥١٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٧ (٣٨١٤) (تحفة الأشراف: ٨٤٢٢) (صحیح)
3435Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ پریشانی کے وقت کیا پڑھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْحَكِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمُ .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا اللہ الحليم الحکيم لا إله إلا اللہ رب العرش العظيم لا إله إلا اللہ رب السموات والأرض ورب العرش الکريم» کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب (مالک) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when he was in distress, the Prophet ﷺ made this supplication: There is no God but Allah. The Clement, The Wise. There is no God but Allah, the Lord of the mighty throne. There is no God but Allah, the Lord of the heavens and the Lord of the glorious throne.

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
3436Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ پریشانی کے وقت کیا پڑھے

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَهَمَّهُ الْأَمْرُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ، قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی مشکل معاملے سے دوچار ہوتے تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر کہتے: «سبحان اللہ العظيم» اللہ پاک و برتر ہے اور جب جی جان لگا کر دعا کرتے تو کہتے: «يا حي يا قيوم» اے زندہ ذات! اے کائنات کا نظام چلانے والے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when the Prophet ﷺ was worried about some affair, he would raise his head towards the heaven and say: Glorified is Allah, the mighty. And when he was assiduous about the prayer, he would say: O The Ever-Living, O the Self-Subsisting. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا الکلم الطيب (119 / 77)، // ضعيف الجامع الصغير (4356) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3436
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٩٤١) (ضعیف جداً ) (سند میں ابراہیم بن فضل مخزومی متروک الحدیث ہے)
3437Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جب کسی جگہ ٹھہرے تو کیا دعا پڑھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، وَيَقُولُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ خَوْلَةَ، قَالَ: وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَجْلَانَ.

خولہ بنت حکیم سلمیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی منزل پر اترے اور یہ دعا پڑھے: «أعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق» میں اللہ کے مکمل کلموں کے ذریعہ اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس کی ساری مخلوقات کے شر سے ، تو جب تک کہ وہ اپنی اس منزل سے کوچ نہ کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی ۔

Sayyidah Khawlah bint Hakim Sulamiyah (RA) reported that Allah’s ﷺ said, “If anyone haltat at a place during his journey and says: I seek refuge in the perfect words of Allah from the evil of that which He created, then no harm will befall him till he moves ahead from that halt. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3547)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3437
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- مالک بن انس نے یہ حدیث اس طرح روایت کی کہ انہیں یہ حدیث یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے پہنچی ہے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ (یعنی: مالک نے یہ حدیث بلاغاً روایت کی ہے) ٣- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے اور انہوں نے یعقوب بن عبداللہ بن اشج سے روایت کی ہے، البتہ ان کی روایت میں «عن سعيد بن المسيب عن خولة» ہے، ٤- لیث کی حدیث ابن عجلان کی روایت کے مقابل میں زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٦ (٢٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٦ (٣٥٤٧) (تحفة الأشراف: ١٥٨٢٦) (صحیح)
3438Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سفر میں جاتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ قَالَ بِأُصْبُعِهِ وَمَدَّ شُعْبَةُ بِأُصْبُعهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحِكَ وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: كُنْتُ لَا أَعْرِفُ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، حَتَّى حَدَّثَنِي بِهِ سُوَيْدٌ. حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے:«اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا بنصحک واقلبنا بذمة اللهم ازو لنا الأرض وهون علينا السفر اللهم إني أعوذ بک من وعثاء السفر وکآبة المنقلب» اے اللہ! تو ہی رفیق ہے سفر میں، اور تو ہی خلیفہ ہے گھر میں، (میری عدم موجودگی میں میرے گھر کا دیکھ بھال کرنے والا، نائب) اپنی ساری خیر خواہیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ میں رہ، اور ہمیں اپنے ٹھکانے پر اپنی پناہ و حفاظت میں لوٹا (واپس پہنچا) ، اے اللہ! تو زمین کو ہمارے لیے سمیٹ دے اور سفر کو آسان کر دے، اے اللہ! میں سفر کی مشقتوں اور تکلیف سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور پناہ مانگتا ہوں ناکام و نامراد لوٹنے کے رنج و غم سے (یا لوٹنے پر گھر کے بدلے ہوئے برے حال سے) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when AIlahs Messenger ﷺ mounted on his beast to set out on a journey, he gestured with his finger (towards heaven) - and Shubah too stretched his finger (while reling this hadith) and he said: O Allah, You are the Companion in the journey and the Guardian of the family. O Allah, be with us with Your Goodness and return us with protection. O Allah, shrink the distance for us and make the journey easy for us. O Allah, I seek refuge in You from the rigours of the journey and a sad return. I did not know this except as Hadtih of Ibn Abu Adi till Suwayd narrated it to me. Sawayd reported from Nasr, from Abdullah ibn Mubarak, from Shubah through this sanad like that in meaning. [Nisai 5511]

صحيح، صحيح أبي داود (2339)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3438
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- میں اسے نہیں جانتا تھا مگر ابن ابی عدی کی روایت سے یہاں تک کہ سوید نے مجھ سے یہ حدیث (مندرجہ ذیل سند سے) سوید بن نصر کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبداللہ بن مبارک نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ١ ؎، ٢- یہ حدیث ابوہریرہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعبہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ابن ابی عدی کے علاوہ شعبہ سے ابن مبارک نے بھی روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3439Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سفر میں جاتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرَ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَمِنْ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ أَيْضًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ أَوِ الْكَوْرِ وَكِلَاهُمَا لَهُ وَجْهٌ يُقَالُ: إِنَّمَا هُوَ الرُّجُوعُ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْكُفْرِ، أَوْ مِنَ الطَّاعَةِ إِلَى الْمَعْصِيَةِ، إِنَّمَا يَعْنِي مِنَ الرُّجُوعِ مِنْ شَيْءٍ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الشَّرِّ.

عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو کہتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا اللهم إني أعوذ بک من وعثاء السفر وکآبة المنقلب ومن الحور بعد الکون ومن دعوة المظلوم ومن سوء المنظر في الأهل والمال» اے اللہ! تو ہمارے سفر کا ساتھی ہے، تو ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نائب و خلیفہ ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ ہمارے اس سفر میں تو ہمارا نائب و خلیفہ بن جا ہمارے گھر والوں میں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی تکلیف و تھکان سے اور ناکام نامراد لوٹنے کے غم سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور مال اور اہل خانہ میں واقع شدہ کسی برے منظر سے (بری صورت حال سے) ۔

Sayyidina Abdullah ibn Sarjis ﷺ reported that the Prophet ﷺ would say when he set out on a journey: O Allah, You are the Companion in the journey and the Guardian of the family. O Allah, be with us in our journey and represent us at our family. O Allah, I seek refuge in You from the rigours of the journey and a sad return, from poverty after abundance from the curse of the oppressed, and from an evil sight in my family and wealth. [Muslim 1343, Ibn e Majah 3888, Nisai 5508, Ahmed 20802] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3888)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3439
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «الحور بعد الکون» کی جگہ «الحور بعد الکور» بھی مروی ہے، اور «الحور بعد الکور» یا «الحور بعد الکون» دونوں کے معنی ایک ہی ہیں، کہتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ایمان سے کفر کی طرف لوٹنے سے یا طاعت سے معصیت کی طرف لوٹنے سے، مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد خیر سے شر کی طرف لوٹنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٧٥ (١٣٤٣)، سنن النسائی/الاستعاذة ٤١ (٥٥٠٠)، و ٤٢ (٥٥٠٢)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢٠ (٣٨٨٨) (تحفة الأشراف: ٥٣٢٠)، و مسند احمد (٥/٨٢، ٨٣) (صحیح)
3440Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سفر سے واپسی پر کیا کہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ: آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ، وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» (ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے) واپس آنے والے ہیں، ہم (اپنے رب کے حضور) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ made this supplication when he returned from the journey: We have returned from the journey. We repent frm sins. We are obedient and worshipful and praise our Lord. [Ahmed 18503, Nisai 552] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح صحيح أبي داود تحت الحديث (2339)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3440
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ٣- اس باب میں ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٧١ (٥٥٠) (تحفة الأشراف: ١٧٥٥)، و مسند احمد (٤/٢٩٨) (صحیح)
3441Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدْرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر سے واپس لوٹتے اور مدینہ کی دیواریں دکھائی دینے لگتیں تو آپ اپنی اونٹنی (سواری) کو (اپنے وطن) مدینہ کی محبت میں تیز دوڑاتے ١ ؎ اور اگر اپنی اونٹنی کے علاوہ کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے بھی تیز بھگاتے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that when the Prophet ﷺ returned from a journey and he saw the walls of Madinah, he hastened his she-camel; and even if he was on another animal, he hastened it . [Ahmed 12619, Bukhari 1802]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3441
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ محبت مدینہ کے ساتھ خاص بھی ہوسکتی ہے، نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے وطن ( گھر ) سے محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی وجہ سے کوئی بھی انسان اپنے گھر جلد پہنچنے کی چاہت میں اسی طرح جلدی کرے جس طرح نبی اکرم ﷺ اپنے گھر پہنچنے کے لیے کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمرة ١٧ (١٨٠٢)، وفضائل المدینة بعد ١٠ (١٨٨٦) (تحفة الأشراف: ٥٧٤) (صحیح)
3442Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ کسی کو رخصت کرتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السُّلَيْمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: اسْتَوْدِعِ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ١ ؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع اللہ دينک وأمانتک وآخر عملک» میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that when the Prophet ﷺ bid someone farewell, he took him by his hand and would not let go till the man himself withdrew his hand. He would then say: To Allah, entrust your faith, your trust and the consequences of your deed. [Ahmed 4524, Ibn e Majah 2826]

صحيح، الصحيحة (16 - 2485)، الکلم الطيب (169 - 122 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3442
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر ؓ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے رخصت کے وقت بھی مصافحہ ثابت ہوتا ہے، معلوم نہیں لوگوں نے کہاں سے مشہور کر رکھا ہے کہ رخصت کے وقت مصافحہ ثابت نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر: سنن ابی داود/ الجھاد ٨٠ (٢٦٠٠)، وسنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٤ (٢٨٢٦) (تحفة الأشراف: ٧٤٧١) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن یزید مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم ١٤، ١٦، ٢٤٨٥)
3443Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ کسی کو رخصت کرتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا: ادْنُ مِنِّي أُوَدِّعْكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا، فَيَقُولُ: أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر ؓ اس سے کہتے: میرے قریب آؤ میں تمہیں اسی طرح سے الوداع کہوں گا جس طرح رسول اللہ ﷺ ہمیں الوداع کہتے اور رخصت کرتے تھے، آپ ہمیں رخصت کرتے وقت کہتے تھے: «أستودع اللہ دينک وأمانتک وخواتيم عملک»۔

Saalim reported that Ibn Umar (RA) said to a man who intended to set on a journey, “Come closer that I may bid you farewell in the same way as Allah’s Messenger bade adieu to us. He would say: I place in the safe custody of Allah your faith, trust, honesty and the finale of your deeds. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (16 و 2485)، الکلم الطيب (169 / 122 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3443
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے جو سالم بن عبداللہ ؓ سے آئی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٦١ (٥٢٣)، (وانظر أیضا الأرقام: ٥٠٩-٥٥٢) (تحفة الأشراف: ٦٧٥٢)، و مسند احمد (٢/٧) (صحیح)
3444Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي، قَالَ: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى ، قَالَ: زِدْنِي، قَالَ: وَغَفَرَ ذَنْبَكَ ، قَالَ: زِدْنِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں، تو آپ مجھے کوئی توشہ دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: اللہ تجھے تقویٰ کا زاد سفر دے ، اس نے کہا: مزید اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے ، اس نے کہا: مزید کچھ اضافہ فرما دیجئیے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے فرمایا: جہاں کہیں بھی تم رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر (بھلائی کے کام) آسان کر دے ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that a man came to Allah’s Messenger and said, “O Messenger of Allah, I intend to set on a journey. So, give me provision.” He said, “May Allah give you provision of taqwa (righteousness).” He said, “Give me more.” Allah’s Messenger said, “And, may He forgive your sins.” He said, “Give me more, may my parents be ransomed to you.” He said, “And may He make the goodness easy for you wherever you are.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح الکلم الطيب (170 / 123 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3444
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٤) (حسن صحیح)
3445Sunan At-Tirmidhi

اسی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي، قَالَ: عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر پر نکلنے کا ارادہ کر رہا ہوں تو آپ مجھے کچھ وصیت فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: میں تجھے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں کہیں بھی اونچائی و بلندی پر چڑھو اللہ کی تکبیر پڑھو، (اللہ اکبر کہتے رہو) پھر جب آدمی پلٹ کر سفر پر نکلا تو آپ نے فرمایا: «اللهم اطو له الأرض وهون عليه السفر» اے اللہ! اس کے لیے مسافت کی دوری کو لپیٹ کر مختصر کر دے اور اس کے لیے سفر کو آسان بنا دے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that a man said to Allah’s Messenger ﷺ Messenger of Allah, I intend to travel. Do give me some advice.” He said, “You must adopt taqwa-a God-fearing life-and call the takbir (Allahu Akbar Allah is the Greatest) at every incline.” When he turned to go, Allah’s Messenger ﷺ prayed for him: O Allah, shrink the distance for him and make the journey easy for him. [Ahmed 8317, Ibn e Majah 2771] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (2771)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3445
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٨ (٢٧٧١) (حسن)
3448Sunan At-Tirmidhi

مسافر کی دعا کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ ،حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُقَالُ لَهُ: أَبُو جَعْفَرٍ الْمُؤَذِّنُ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ غَيْرَ حَدِيثٍ، وَلَا نَعْرِفُ اسْمَه.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین طرح کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، اور باپ کی بد دعا اپنے بیٹے کے حق میں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, Three prayers are answered-the supplication of the oppressed, the supplication of the traveller and the supplication of the father for his son.” [Ahmed 7513, Ibn e Majah 3862]

حسن، الصحيحة (598 - 1797) حسن، الصحيحة (598 - 1797)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3448 ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی جیسی حدیث روایت کی، انہوں نے اس حدیث میں «ثلاث دعوات مستجابات» کے الفاظ بڑھائے ہیں، (یعنی بلاشبہہ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3448
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے۔ ٢- اور ابو جعفر رازی کا نام میں نہیں جانتا، (لیکن) ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٩٠٥ (حسن) انظر ماقبلہ (حسن)
3446Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14 سورة الزخرف آية 13-14 ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، سُبْحَانَكَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، ثُمَّ ضَحِكَ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی ؓ کے پاس موجود تھا، انہیں سواری کے لیے ایک چوپایہ دیا گیا، جب انہوں نے اپنا پیر رکاب میں ڈالا تو کہا: «بسم اللہ» میں اللہ کا نام لے کر سوار ہو رہا ہوں اور پھر جب پیٹھ پر جم کر بیٹھ گئے تو کہا: «الحمد للہ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، پھر آپ نے یہ آیت: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما کنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے قابو میں کیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے جو اسے ناتھ پہنا سکتے، لگام دے سکتے، ہم اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانے والے ہیں ، پڑھی، پھر تین بار «الحمد للہ» کہا، اور تین بار «اللہ اکبر» کہا، پھر یہ دعا پڑھی: «سبحانک إني قد ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» پاک ہے تو اے اللہ! بیشک میں نے اپنی جان کے حق میں ظلم و زیادتی کی ہے تو مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی ظلم معاف کرنے والا نہیں ہے ، پھر علی ؓ ہنسے، میں نے کہا: امیر المؤمنین کس بات پر آپ ہنسے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے ویسا ہی کیا جیسا میں نے کیا ہے، پھر آپ ہنسے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا رب اپنے بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور ذات نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کرسکے ۔

Ali ibn Rabi’ah narrated: I observed Sayyidina Ali (RA) being brought his mount that he night ride it. When he put his foot in the stirrup, he said: (In the name of Allah). When he was seated on its back, he said: (All praise belongs to Allah.) Then he said: Glorified be He who has subjected (all) this to us and we ourselves were not capable to do it. And surely to our Lord we shall return. (43: 13-14) Then he said ((praise be to Allah)) three times ((Allah is The greatest)) three times, and: Glorified are You. Surely, I have wronged myself. So, forgive me, for, there is no one to forgive sins except you. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الکلم الطيب (172 / 126)، صحيح أبي داود (2342)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3446
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صرف اونٹنی کے ساتھ خاص نہیں ہے، کسی بھی سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنی مسنون ہے، خود باب کی دونوں حدیثوں میں اونٹنی کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ دوسری حدیث میں تو سواری کا لفظ ہے، کسی بھی سواری پر صادق آتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ٨١ (٢٦٠٢) (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٨) (صحیح) (سند میں ابواسحاق مختلط راوی ہیں، اس لیے اس کی روایت میں اضطراب کا شکار بھی ہوئے ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود رقم ٢٣٤٢)
3447Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا، وَيَقُولُ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ 13 وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ 14 سورة الزخرف آية 13-14، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا مِنَ الْبِرِّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا الْمَسِيرَ وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَ الْأَرْضِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا ، وَكَانَ يَقُولُ: إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ: آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سفر فرماتے تو اپنی سواری پر چڑھتے اور تین بار «اللہ اکبر» کہتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے: «سبحان الذي سخر لنا هذا وما کنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون» ١ ؎ اس کے بعد آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألک في سفري هذا من البر والتقوی ومن العمل ما ترضی اللهم ہوں علينا المسير واطو عنا بعد الأرض اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم اصحبنا في سفرنا واخلفنا في أهلنا» اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا طالب ہوں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جس سے تو راضی ہو، اے اللہ تو اس سفر کو آسان کر دے، زمین کی دوری کو لپیٹ کر ہمارے لیے کم کر دے، اے اللہ تو سفر کا ساتھی ہے، اور گھر میں (گھر والوں کی دیکھ بھال کے لیے) میرا نائب و قائم مقام ہے، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ ہمارے سفر میں رہ، اور گھر والوں میں ہماری قائم مقامی فرما ، اور آپ جب گھر کی طرف پلٹتے تو کہتے تھے: «آيبون إن شاء اللہ تائبون عابدون لربنا حامدون» ہم لوٹنے والے ہیں اپنے گھر والوں میں ان شاء اللہ، توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، حمد بیان کرنے والے ہیں ۔

صحيح، صحيح أبي داود (2339)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3447
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٧٥ (١٣٤٤)، سنن ابی داود/ الجھاد ٧٩ (٢٥٩٩) (تحفة الأشراف: ٧٣٤٨)، و مسند احمد (٢/١٤٤)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٤٢ (٢٧١٥) (صحیح)
3449Sunan At-Tirmidhi

آندھی کے وقت پڑھنے کی دعا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وفي الباب، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «اللهم إني أسألک من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بک من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: When the Prophet ﷺ observed a strong wind blowing, he would say: O Allah, I ask You for the good of this (wind), and the good of what is in it and the good of what it is sent with. And I seek refuge in You from the evil of it, and the evil of what is in it, and the evil of what it is sent with [Muslim 899, Ibn e Majah 3846, Ahmed 25073] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (2757)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الاستسقاء ٣ (٨٩٩/١٥) (تحفة الأشراف: ١٧٣٨٥) (صحیح)
3450Sunan At-Tirmidhi

اسبارے میں کہ بادل کی آواز سن کر کیا کہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبک ولا تهلكنا بعذابک وعافنا قبل ذلك» اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ heard a thunderclap and the thunderbolt, he would say: “ O Allah, do not slay us with Your anger and do not destroy us with Your punishment, but forgive us before that.” [Ahmed 5767]

ضعيف، الضعيفة (1042)، الکلم الطيب (158 / 111) // ضعيف الجامع الصغير (4421)، المشکاة (1521) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3450
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٦٩ (٩٢٧) (تحفة الأشراف: ٧٠٤١)، و مسند احمد (٢/١٠٠) (ضعیف) (سند میں ابو مطر مجہول راوی ہیں)
3451Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ چاند دیکھ کر کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: «اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربک الله» اے اللہ! مبارک کر ہمیں یہ چاند، برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند! ) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے ۔

Sayyidina Talhah ibn Ubaydullah reported that when the Prophet ﷺ saw the new moon, he would say: O Allah! cause this moon to rise on us with peace, faith, safety and Islam, My Lord and your Lord (O moon) is Allah. [Ahmed 1397] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (1816)، الکلم الطيب (161 / 114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3451
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠١٥) (صحیح)
3452Sunan At-Tirmidhi

اس متعلق کہ غصہ کے وقت کیا پڑھے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عُرِفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِ أَحَدِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ غَضَبُهُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، وفي الباب، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، مَاتَ مُعَاذٌ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَقُتِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ، هَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَرَآهُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى يكنى أبا عيسى، وأبو ليلى اسمه يسار، وروي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: أَدْرَكْتُ عِشْرِينَ وَمِائَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپس میں گالی گلوچ کیا ان میں سے ایک کے چہرے سے غصہ عیاں ہو رہا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر وہ اس کلمے کو کہہ لے تو اس کا غصہ کافور ہوجائے، وہ کلمہ یہ ہے: «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں راندے ہوئے شیطان سے ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal narated: Two men revilled one another in the presence of the Prophet ﷺ In fact, signs of anger were visible on the face of one of them. The Prophet ﷺ said, “I know an expression which if he utters. his anger will vanish: I seek refuge in Allah from the accursed devil. [Ahmed 4780]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3452 عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی، ٣- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ بن جبل سے نہیں سنا ہے، معاذ بن جبل کا انتقال عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوا ہے، اور عمر بن خطاب ؓ جب شہید ہوئے ہیں اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے تھے ٤- اسی طرح شعبہ نے بھی حکم کے واسطہ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے، ٥- عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کی ہے، اور ان کو دیکھا ہے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی کنیت ابوعیسیٰ ہے اور ابی لیلیٰ کا نام یسار ہے، اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ایک سو بیس صحابہ کو پایا ہے اور دیکھا ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں سلیمان بن سرد سے بھی روایت ہے، اور یہ حدیث مرسل (منقطع) ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٤ (٤٧٨٠) (تحفة الأشراف: ١١٣٤٢)، و مسند احمد (٥/٢٤٠) (حسن) (عبد الرحمن بن ابی لیلی کا معاذ ؓ سے سماع نہیں ہے، نسائی نے یہ حدیث بسند عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ عن ابی بن کعب روایت کی ہے، جو متصل سند ہے، نیز یہ حدیث جیسا کہ ترمذی نے ذکر کیا، سلیمان بن صرد سے آئی ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، اور سلیمان بن صرد کی حدیث متفق علیہ ہے۔ صحیح البخاری، بدء الخلق: ١١/٣٢٨٢ و الأدب: ٧٦/ ٦١١٥، و مسلم، البر والصلة ٢٦١٠ (١٠٩، ١١٠)، وابوداؤد ٤٧٨١، نسائی فی عمل الیوم واللیلة ٣٩٣ والکبریٰ ١٠٢٢٥)