دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 5 of 12

3453Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جب کوئی برا خواب دیکھے تو کیا کہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ، فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِمَا رَأَى، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُهُ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ . وفي الباب، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَابْنُ الْهَادِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ الْمَدِينِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ وَالنَّاسُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے جب کوئی اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو سمجھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور جو دیکھا ہوا سے لوگوں سے بیان کرے، اور جب خراب اور ناپسندیدہ چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے پھر اللہ سے اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، تو یہ چیز اسے کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔

Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “If one of you sees a dream that he likes, it is from Allah. So he must praise Allah for that and narrate what he has seen (to others). But, if he sees something other than that-which he disilkes, then it is from the devil, So, let him seek refuge in Allah from its evil and he must not mention it to anyone. Then it will not harm him.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 262)، صحيح الجامع (549 - 550)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3453
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ٢- ابن الہاد کا نام یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد مدینی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ان سے امام مالک اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابوقتادہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٣ (٦٩٨٥)، و ٤٦ (٧٠٤٥) (تحفة الأشراف: ٤٠٩٢) (صحیح)
3454Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جب کوئی نیا پھل دیکھے تو کیا کہے

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثِمَارِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَأَنَا أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگ جب کھجور کا پہلا پھل دیکھتے تو اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس (توڑ کر) لاتے، جب اسے رسول اللہ ﷺ لیتے تو فرماتے «اللهم بارک لنا في ثمارنا وبارک لنا في مدينتنا وبارک لنا في صاعنا ومدنا اللهم إن إبراهيم عبدک وخليلک ونبيك وإني عبدک ونبيك وإنه دعاک لمكة وأنا أدعوک للمدينة بمثل ما دعاک به لمكة ومثله» اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے پھلوں میں برکت دے، اور ہمارے لیے ہمارے شہر میں برکت دے، ہمارے صاع میں برکت دے، ہمارے مد میں برکت دے، اے اللہ! ابراہیم (علیہ السلام) تیرے بندے ہیں، تیرے دوست ہیں تیرے نبی ہیں، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، انہوں نے دعا کی تھی مکہ کے لیے میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مدینہ کے لیے، اسی طرح کی دعا جس طرح کی دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لیے کی تھی، بلکہ اس کے دوگنا (برکت دے) ، ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: پھر آپ کو جو کوئی چھوٹا بچہ نظر آتا جاتا آپ اسے بلاتے اور یہ (پہلا) پھل اسے دے دیتے۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that when peoople saw the first fruit (grow) they brought it to Allah’s Messenger . He said: O Allah, bless us in our fruits and bless us in our city and bless us in our sa’ and our mudd0. O Allah, surely Ibrahim was Your slave and Your friend and Your Prophet, and I am Your slave and Your Prophet. He had prayed to You for Makkah and I pray to You for Madinah like he had prayed to You for Makkah, and as much of it again. Then he called the youngest child that he couldfind (around) and gave him that fruit. [Ahmed 8381, Ibn e Majah .229] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3329)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3454
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المناسک ٨٥ (١٣٧٣)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٥ (٣٣٢٢) (تحفة الأشراف: ١٢٧٤) (صحیح)
3455Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ جب کوئی کھائے تو کیا کہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَلَى مَيْمُونَةَ فَجَاءَتْنَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا عَلَى يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَلَى شِمَالِهِ، فَقَالَ لِي: الشَّرْبَةُ لَكَ، فَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ أُوثِرُ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ الطَّعَامَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَمْرُو بْنُ حَرْمَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید ؓ (دونوں) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے، وہ ایک برتن لے کر ہم لوگوں کے پاس آئیں، اس برتن میں دودھ تھا میں آپ کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا اور خالد آپ کے بائیں طرف تھے، آپ نے دودھ پیا پھر مجھ سے فرمایا: پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن تم چاہو تو اپنا حق (اپنی باری) خالد بن ولید کو دے دو ، میں نے کہا: آپ کا جو ٹھا پینے میں اپنے آپ پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے اللہ کھانا کھلائے، اسے کھا کر یہ دعا پڑھنی چاہیئے: «اللهم بارک لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا ، اور جس کو اللہ دودھ پلائے اسے کہنا چاہیئے «اللهم بارک لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت اور مزید اس سے اچھا کھلا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے (دونوں) کی جگہ کھانے و پینے کی ضرورت پوری کرسکے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: I and Khalid ibn Walid went with Allah’s Messenger ﷺ to the house of Maymunah (his wife). She brought us a bowl of milk. Allah’s Messenger drank from it. It was to his right and Khalid to his left. He said to me, “The drink is for you, but if you will relinquish (your right) for Khalid.” I said, “I shall not do it for anyone over the left-over of Allah’s Messenger. Then he said, “He to whom Allah feeds food must say: O Allah bless us in this and feed us better than this. And he to whom Allah gives to drink, must say: O Allah bless us in this and give us more of it. And he also said, “There is nothing besides milk that will suffice as food and drink.” [Abu Dawud 3730, Ahmed 1904] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (3322)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3455
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض محدثین نے یہ حدیث علی بن زید سے روایت کی ہے، اور انہوں نے عمر بن حرملہ کہا ہے۔ جب کہ بعض نے عمر بن حرملہ کہا ہے اور عمرو بن حرملہ کہنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ٢١ (٣٧٣٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٣٥ (٣٣٢٢) (تحفة الأشراف: ٦٢٩٨)، و مسند احمد (١/٢٢٥) (حسن) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود رقم ٢٣٢٠، والصحیحة ٢٣٢٠، وتراجع الألبانی ٤٢٦)
3456Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ کھانے سے فراغت پر کیا کہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه غير مودع ولا مستغنی عنه ربنا» اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ روزی ہے، بابرکت روزی ہے، یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب ہم اس سے کبھی بےنیاز نہ ہوں ۔

Sayyidma Abu Umamah (RA) narrated: When the dining mat was removed from before him, Allah’s Messenger ﷺ used to pray: Praise belongs to Allah-praise, abundant, pure and blessed. We take it away not because we do not need it nor do we show our indifference to it, our Lord! [Ahmed 22364, Bukhari 5458, Abu Dawud 3849, Ibn e Majah 3284]

صحيح، ابن ماجة (3284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3456
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٥٤ (٥٤٥٨)، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥٣ (٣٨٤٩)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٤) (تحفة الأشراف: ٤٨٥٦)، و مسند احمد (٥/٣٤٩)، وسنن الدارمی/الأطعمة ٣ (٢٠٦٦) (صحیح)
3457Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ کھانے سے فراغت پر کیا کہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ، قَالَ حَفْصٌ: عَنْ ابْنِ أَخِي أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ .

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھا پی چکتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that when the Prophet ﷺ rii ate or drank something, he would say: Praise belongs to Allah who gave us to eat and drink and caused us to be Muslims. [Ibn e Majah 3283, Ahmed 11276]

ضعيف، ابن ماجة (3283)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3457
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٣) (تحفة الأشراف: ٤٤٤٢) (ضعیف) (سند میں ” حجاج بن ارطاة “ متکلم فیہ راوی ہیں، اور ” ابن اخی سعید “ مجہول ہیں)
3458Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ کھانے سے فراغت پر کیا کہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ.

معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone who has eaten something says: All praise belongs to Allah who fed me this and provided it to me without my possession power or ability (to acquire it), then he is forgiven all his past sins. [Ahmed 15632] --------------------------------------------------------------------------------

حسن، ابن ماجة (3285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3458
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور ابو مرحوم کا نام عبدالرحیم بن میمون ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللباس ١ (٤٠٢٣)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٥) (تحفة الأشراف: ١١٢٩٧)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٥ (٢٧٣٢) (حسن) (سنن ابی داود میں: وما تأخر آخر میں آیا ہے، جو صحیح نہیں ہے)
3459Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ گدھے کی آواز سن کر کیا کہا جائے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب اسے کوئی فرشتہ نظر آتا ہے، اور جب گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ اس وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

Sayyidma Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “When you hear the hen crow, ask Allah for His favours, for it has seen an angel. When you hear the braying of the donkey, seek refuge in Allah from the accursed devil, for it has seen the devil.’ [Ahmed 9414, Bukhari 3301, Muslim 2729, Abu Dawud 5102, Nisai 949]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3459
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٠ (٢٧٢٩)، سنن ابی داود/ الأدب ١١٥ (٥١٠٢) (تحفة الأشراف: ١٣٦٢٩)، و مسند احمد (٢/٣٢١) (صحیح)
3460Sunan At-Tirmidhi

تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تمحید کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَلَى الْأَرْضِ أَحَدٌ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا كُفِّرَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَيُقَالُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَحَاتِمٌ وَ يُكَنَّى أبَا يُونُسْ القُشَيرِي.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین پر جو کوئی بھی بندہ: «لا إله إلا اللہ والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت ، اس کے (چھوٹے چھوٹے) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح (بہت زیادہ) ہوں ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none on the surface of earth who says: There is no God but Allah. And Allah is the greatest. And there is no might and no power except with Allah, but his sins are forgiven though they may be like the foam of the ocean. [Ahmed 6489]

حسن، التعليق الرغيب (2 / 249) حسن، التعليق الرغيب (2 / 249)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3460 اس سند سے حاتم بن ابی صغیرہ سے، حاتم نے ابوبلج سے، ابوبلج نے عمرو بن میمون سے، عمرو بن میمون نے عبداللہ بن عمرو کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی، اور حاتم کی کنیت ابو یونس قشیری ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3460
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٤٩ (١٢٢) (تحفة الأشراف: ٨٩٠٢) (حسن) انظر ماقبلہ (حسن)
3461Sunan At-Tirmidhi

تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تمحید کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلَا غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ، وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ إِنَّمَا يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتادوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔

Sayyidina Abu Musa Ashary (RA)narrated: We accompanied Allah’s Messenger ﷺ in a battle. When we returned and were near Madinah, the people called the takbir (Aflahu Akbar), raising their voices with it, Allah’s Messenger ﷺ said, “Your Lord is not deaf and not absent. He is amongst you and over the necks of your beasts.” Then he said, “O Abduflah ibn Qays, shall I not teach you about a treasure of the treasures of paradise?” (It is): There is no power and no might except with Allah. [Ahmed 19624]

صحيح، ابن ماجة (3824)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3461
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ٣- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ٤- آپ ﷺ کے قول «بينكم وبين رءوس رحالکم » سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٣٧٤ (صحیح)
3462Sunan At-Tirmidhi

تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تمحید کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . قَالَ: وفي الباب، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا، ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتادینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے ١ ؎ اور اس کی باغبانی: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر» سے ہوتی ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Mas’ud i reported that Allah’s Messenger ﷺ said: I met Ibrahim on the night of miraj (ascension to the heavens) and he said to me, “O Muhammad ﷺ ! convey to your ummah salaam from me and inform them that paradise has an excellent soil and sweet water, and is an even plain and its trees are: Glorified be Allah and praise be to Allah and there is no God but Allah, and Allah is the Greatest.

حسن، التعليق الرغيب (2 / 245 و 256)، الکلم الطيب (15 / 6)، الصحيحة (106)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن مسعود ؓ کی روایت ہے اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوایوب انصاری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں درخت ہی درخت ہیں، جنت کے معنی ہوتے ہی باغات ہیں تو پھر خالی پڑی ہوئی ہے کا کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اس کے درخت بندوں کے اعمال ہی کا ثمرہ ہیں، اللہ کو اپنی غیب دانی سے یہ معلوم ہے کہ کون کون بندے اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوں گے، سو اس نے ان کے اعمال کے بقدر وہاں درخت اگا دیئے ہیں، یا اگا دے گا، اس لحاظ سے گویا جنت درختوں سے خالی ایک میدان ہے۔ ٢ ؎: یعنی: بندہ جتنی بار کلمات کو کہتا ہے، اتنے ہی درخت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٣٦٥) (حسن)
3463Sunan At-Tirmidhi

تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تمحید کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجُلَسَائِهِ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ: يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ تُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ وَتُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ سَيِّئَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے؟ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا (یعنی سبحان اللہ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی ۔

Sayyidina Sad (RA) reported that Allah’s Messenger said to those seated with him, “Is one of you unable to earn a thousand pious deeds?” One of them asked, “How can any of us earn a thousand pious deeds?” He said, “Let him glorify Allah (with a hundred times so that a thousand good deeds are credited to him and a thousand evil deeas are deleted from his record.’ [Muslim 2698, Ahmed 1496]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3463
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٨) (تحفة الأشراف: ٣٩٣٣) (صحیح)
3464Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے: «سبحان اللہ العظيم وبحمده» کہا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا ۔

Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone says: Glorified be Allah the Mighty and with His praise, then a tree is planted for him in Paradise.

صحيح، الروض النضير (243)، الصحيحة (64)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3464
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اور ہم اسے صرف ابوالزبیر کی روایت سے جسے وہ جابر کے واسطے سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٥٨ (١٥٢) (تحفة الأشراف: ٢٦٨٠)، و مسند احمد (١/١٨٠) (صحیح)
3465Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص: «سبحان اللہ العظيم وبحمده» کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا ۔

Sayyidina Jabir reported that the Prophet ﷺ said, “For him who says: Glorified be Allah, the Mighty, and with His praise a tree is planted in paradise.] This hadith is hasan gharib.

صحيح انظر ما قبله (3464)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3465
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ٢٦٩٦) (صحیح)
3466Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سو بار: «سبحان اللہ وبحمده» کہے گا اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کی طرح ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) eported that Allah’s Messenger ﷺ said: If anyone says a hundred times: Glorified be Allah and with his praise his sins will be forgiven even if they are as many as the foam of the ocean. [Bukhari 6405, Ibn e Majah 3812, Ahmed 10688]

صحيح، ابن ماجة (3812)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3466
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٦٥ (٦٤٠٥)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩١) (في آخرہ)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٦ (٣٨١٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥٧٨) (صحیح)
3467Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (آسانی سے ادا ہوجاتے ہیں) مگر میزان میں بھاری ہیں (تول میں وزنی ہیں) رحمن کو پیارے ہیں (وہ یہ ہیں) «سبحان اللہ وبحمده سبحان اللہ العظيم»۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are two expressions light on the tongue but heavy in the scale and dear to the Compassionate. (They are): Glorified is Allah, the mighty. And, glorified is Allah with His praise. [Bukhari 6406, Muslim 2694, Ibn e Majah 3806, Ahmed 7170]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3467
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٦٥ (٦٤٠٦)، والأیمان والنذور ١٩ (٦٦٨٢)، والتوحید ٥٨ (٧٥٦٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٦ (٣٨٠٦) (تحفة الأشراف : ١٤٨٩٩) (صحیح)
3468Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو بار کہا: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير» ١ ؎، تو اس کو دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ہوگا، اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور یہ چیز اس کے لیے شام تک شیطان کے شر سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گی، اور قیامت کے دن کوئی اس سے اچھا عمل لے کر نہ آئے گا سوائے اس شخص کے جس نے یہی عمل اس شخص سے زیادہ کیا ہو۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said about one who says a hundred times in a day: There is no God but Allah Who is Alone and has no partner, To Him belongs the dominion and for Him is all praise. He gives life and He causes death and He is Omnipotent. He said that this person will have a reward for setting free ten slaves, a hundred blessings will be credited to his record, a hundred evil deeds will be removed from his record, and it will be a shield for him against the devil for that day till evening. And none will bring auything more excellent than what he brings unless he does more than this person has done. (of the same thing). Through the same sand, it is reported from the Prophet ﷺ If anyone says a hundred times: Glorified be Allah, and with His praise, then his sins are deleted from his record even if they exceed the foam of the occan. [Bukhari 6403, Muslim 2691, Ahmed 8014] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح دون قوله يحيي ويميت الکلم الطيب ص (26 / التحقيق الثاني) صحيح دون قوله يحيي ويميت الکلم الطيب ص (26 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3468 اسی سند کے ساتھ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: جس نے سو مرتبہ: «سبحان اللہ وبحمده» کہا اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3468
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ اکیلے کے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہے ہر طرح کی تعریف، وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٩٣)، والدعوات ٦٤ (٦٤٠٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩١)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٤ (٣٧٩٨) (تحفة الأشراف: ١٢٥٧١)، مسند احمد (٢/٣٠٢، ٣٦٠، ٣٧٥) (صحیح) (صحیحین میں یحییٰ ویمیت کا لفظ نہیں ہے) انظر حدیث رقم ٣٤٦٦ (صحیح)
3469Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْسُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح و شام میں سو (سو) مرتبہ: «سبحان اللہ وبحمده» کہے، قیامت کے دن کوئی شخص اس سے اچھا عمل لے کر نہیں آئے گا، سوائے اس شخص کے جس نے وہی کہا ہو جو اس نے کہا ہے یا اس سے بھی زیادہ اس نے یہ دعا پڑھی ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said about one who says in the morning and in the evening a hundred times: Glorified be Allah and with His praise. He said that no one will come on the day of Resurrection with a better deed except one who said as he did and one who said it more than him. [Muslim 2692, Abu Dawud 5091, Ahmed 8844]

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 226)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3469
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٢)، سنن ابی داود/ الأدب ١١٠ (٥٠٩١) (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٠)، و مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح)
3470Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: قُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ، مَنْ قَالَهَا مَرَّةً كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا، وَمَنْ قَالَهَا عَشْرًا كُتِبَتْ لَهُ مِائَةً، وَمَنْ قَالَهَا مِائَةً كُتِبَتْ لَهُ أَلْفًا، وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: «سبحان اللہ وبحمده» کہا کرو، جس نے یہ کلمہ ایک بار کہا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے دس بار کہا اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جس نے سو بار کہا اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی، اور جو زیادہ کہے گا اللہ اس کی نیکیوں میں بھی اضافہ فرما دے گا، اور جو اللہ سے بخشش چاہے گا اللہ اس کو بخش دے گا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that one day Allah’s Messenger said to his sahabah i that they should say: Glorified be Allah, with his praise. a hundred times (He said), “if anyone says that once, ten pious deeds are recorded for him; and if he says that ten times, a hundred pious deeds are recorded for him; and if he says that a hundred times, a thousand pious deeds are recorded for him. And if anyone increases on that, Allah will increase (the reward) for him. And, if anyone seeks Allah’s forgiveness then Allah will forgive him.”

ضعيف جدا، الضعيفة (4067) // ضعيف الجامع الصغير (4119) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3470
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٦٢ (١٦٠) (تحفة الأشراف: ٨٤٤٦) (ضعیف جداً ) (سند میں مطر الوراق بہت زیادہ غلطیاں کیا کرتے تھے، اور داود بن زبرقان متروک راوی ہے)
3471Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ مَرَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ وَمَنْ هَلَّلَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بِأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهِ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَى مَا قَالَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سو بار صبح اور سو بار شام تسبیح پڑھی (یعنی «سبحان الله» کہا) تو وہ سو حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہوجاتا ہے۔ اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام میں اللہ کی حمد بیان کی (یعنی «الحمدللہ» کہا) اس نے تو ان فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے سو گھوڑے فراہم کئے (راوی کو شک ہوگیا یہ کہا یا یہ کہا) تو ان اس نے سو جہاد کئے، اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو اللہ کی تہلیل بیان کی (یعنی «لا إلہ الا اللہ» ) کہا تو وہ ایسا ہوجائے گا تو ان اس نے اولاد اسماعیل میں سے سو غلام آزاد کئے اور جس نے سو بار صبح اور سو بار شام کو «اللہ اکبر» کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہوگا، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہوگا یا اس کے برابر کہا ہوگا ۔

Amr ibn Shuayb reported from his father who from his grand father that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone glorifies Allah (saying Subhan Allah) a hundred times in the morning and a hundred times in the evening then he is like one who performed a hundred Hajj (pilgrimages). And, he who praises Allah (saying Alhamdulillah) a hundred times in the morning and a hundred times in the evening, is like one who gave a hundred warriors horses to ride in the path of Allah” or, he said; as though he participated in a hundred battles. And he who declared Allah’s unity (saying La ilaha illAllah) a hundred times in the morning and a hundred times in the evening, is as though he emancipated a hundred slaves, who were descendants of Isma’il. And, he who extolled Allah (saying Allahu Akbar) a hundred times in the morning and a hundred times in the evening (should know that), none would bring that day more than what he brought unless he said as this person said or increased upon it.” --------------------------------------------------------------------------------

منكر، الضعيفة (1315)، المشکاة (2312 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (1 / 229) // ضعيف الجامع الصغير (5619) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3471
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧١٩) (منکر) (سند میں ” ضحاک بن حمرہ “ سخت ضعیف ہے، اور یہ حدیث اصول اسلام کے خلاف ہے کہ اس میں معمولی نیکیوں پر حد سے زیادہ اجر وثواب ملنے کا تذکرہ ہے)
3472Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الأَسْوَدِ الْعِجْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: تَسْبِيحَةٌ فِي رَمَضَانَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ تَسْبِيحَةٍ فِي غَيْرِهِ.

زہری کہتے ہیں کہ رمضان میں ایک بار سبحان اللہ کہنا غیر رمضان میں ہزار بار سبحان اللہ کہنے سے زیادہ بہتر ہے۔

Husayn ibn Aswad al-ljli al-Baghdadi reported from Yahya ibn Adan, from Hasan ibn Salih, from Abu Bishr, from Zuhri, He said, “One tasbih (saying Subhan Allah) in Ramadan is better than one thousand tasbih at other times.’

ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3472
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٠٥٦) (ضعیف) (سند میں ” خلیل بن مرہ “ ضعیف راوی ہیں)