تمیم الداری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دس مرتبہ (یہ دعا) «أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له إلها واحدا أحدا صمدا لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ولم يكن له کفوا أحد» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ تنہا اکیلا معبود ہے، بےنیاز ہے، اس نے نہ اپنا کوئی شریک حیات بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کے برابر ہے ، پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے چار کروڑ نیکیاں لکھتا ہے ۔
Sayyidina Tamim Dan reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone repeats ten times (the words): I bear withess that there is no God but Allah, Who is Alone, Who has no partner. The One God, only One, Independent, Who has not taken a wife nor children, and there is none co-equal with Him, then Allah will record for him forty million (40,000,000) pious deeds.
ضعيف، الضعيفة (3611) // ضعيف الجامع الصغير (5727) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3473
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- خلیل بن مرہ محدثین کے یہاں قوی نہیں ہیں اور محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص نماز فجر کے بعد جب کہ وہ پیر موڑے (دو زانوں) بیٹھا ہوا ہو اور کوئی بات بھی نہ کی ہو: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء» دس مرتبہ پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور وہ اس دن پورے دن بھر ہر طرح کی مکروہ و ناپسندیدہ چیز سے محفوظ رہے گا، اور شیطان کے زیر اثر نہ آ پانے کے لیے اس کی نگہبانی کی جائے گی، اور کوئی گناہ اسے اس دن سوائے شرک باللہ کے ہلاکت سے دوچار نہ کرسکے گا۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone says after concluding the salah of fajr while he continues to sit (as he sat in salah during tashahhud), before speaking to anyone ten times: “ There is no God but Allah, Who is Alone and Who has no partner. To Him belongs the dominion and for Him is all praise. He gives life and He gives death and He is Omnipotent. “ Then ten pious deeds are recorded for him, ten evil deeds are erased from him, ten ranks are elevated for him, and all that day he is protected from every disapproved thing and the devil is not allowed to approach him, and that day no sin will ruin him apart from associating partner with Allah. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 166) // ضعيف الجامع الصغير (5738) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3474
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٤٩ (تحفة الأشراف: ١١٩٦٣) (حسن) (سند میں ” شہر بن حوشب “ ضعیف ہیں، لیکن ابوا ما مہ اور عبدالرحمن بن غنم کے شاہد سے تقویت پا کر حسن ہے، تراجع الالبانی ٩٨) الصحیحة ١١٤، صحیح الترغیب والترہیب ٤٧٤، ٤٧٥)
بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ان کلمات کے ساتھ: «اللهم إني أسألک بأني أشهد أنك أنت اللہ لا إله إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له کفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں بایں طور کہ میں تجھے گواہ بناتا ہوں اس بات پر کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا (معبود) ہے تو بےنیاز ہے، (تو کسی کا محتاج نہیں تیرے سب محتاج ہیں) ، (تو ایسا بےنیاز ہے) جس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہوا ہے ، دعا کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: قسم ہے اس رب کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلے سے مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی گئی ہے اس نے وہ دعا قبول کی ہے، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی گئی ہے اس نے دی ہے ۔ زید (راوی) کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث کئی برسوں بعد زہیر بن معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے یہ حدیث ابواسحاق نے مالک بن مغول کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ زید کہتے ہیں: پھر میں نے یہ حدیث سفیان ثوری سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث مالک کے واسطے سے بیان کی۔
Sayyidina Buraydah Aslami narrated: The Prophet ﷺ heard a man make a supplication, saying: O Allah, I ask You by virtne of my testimony that You, indeed You are Allah. There is no God besides You Who are The One, The Independent Who does not beget nor was begotten, and there is none co-equal with Him. He said, By Him Who has my soul in His hand, he has, indeed, asked Allah by virtue of His is azam (great name) by which if He is called, He replies and if He is asked by it, gives.” Zayd said that he mentioned this hadith to Zuhayr ibn Mu’awiyah after many years and he confirmed that Abu Ishaq had narrated it to him on the authority of Maalik ibn Mighwal. Then Zavd mentioned it to sufyan and he narrated it from Maalik. [Abu Dawud 1493, Ibn e Majah 3857, Ahmed 23103]
صحيح، ابن ماجة (3857)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3475
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- شریک نے یہ حدیث ابواسحاق سے، ابواسحاق نے ابن بریدہ سے، ابن بریدہ نے اپنے والد (بریدہ ؓ ) سے روایت کی ہے، حالانکہ ابواسحاق ہمدانی نے یہ حدیث مالک بن مغول سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٣)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٧) (تحفة الأشراف: ١٩٩٨) (صحیح)
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے (ایک آیت) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے (البقرہ: ١٦٣) ، اور (دوسری آیت) آل عمران کی شروع کی آیت «الم اللہ لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے (آل عمران: ١- ٢) ۔
Sayyidh Asma bint Yazid (RA) narrated: The Prophet ﷺ said, “The great name of Allah is found in these two verses: And your god is One God; there is no God but He, the Compassionate, the Mercif ul. (2:1-3) and in the beginning of Aal Imran: Alif Laam Meem. Allah! There is no God but He, the Ever-Living, the Self-Subsisting,(3:1-2) [Abu Dawud 1496, Ibn e Majah 3855]
حسن، ابن ماجة (3855)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3478
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٥) (تحفة الأشراف: ١٥٧٦٧) (حسن) (سند میں ” عبید اللہ بن ابی زیاد القداح “ اور ” شہر بن حوشب “ ضعیف ہیں، مگر ابو امامہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم ٧٤٦)۔
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کے ساتھ (مسجد میں) تشریف فرما تھے، اس وقت ایک شخص مسجد میں آیا، اس نے نماز پڑھی، اور یہ دعا کی: اے اللہ! میری مغفرت کر دے اور مجھ پر رحم فرما، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے نمازی! تو نے جلدی کی، جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اللہ کے شایان شان اس کی حمد بیان کر اور پھر مجھ پر صلاۃ (درود) بھیج، پھر اللہ سے دعا کر ، کہتے ہیں: اس کے بعد پھر ایک اور شخص نے نماز پڑھی، اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے نمازی! دعا کر، تیری دعا قبول کی جائے گی ۔
Sayyidina Fadalah ibn Ubayd (RA) reported that while Allah’s Messenger ﷺ was sitting (in the mosque), a man came in and offered Salah and then prayed: O Allah forgive me and have mercy on me. Allah’s Messenger ﷺ said to him, “O you who had prayed, you made haste. When you have offered salah, sit down, praise Allah as is His due, invoke blessing on me, then pray to Him.” Then another man offered salah after which he praised Allah and invoked blessing on the Prophet ﷺ . So, the Prophet ﷺ said to him, “O you worshipper, pray and you will receive an answer.” [Abu Dawud 1481, Nisai 1280]
صحيح، صفة الصلاة، صحيح أبي داود (1331)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3476
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس حدیث کو حیوہ بن شریح نے ابوہانی خولانی سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨١)، سنن النسائی/السھو ٤٨ (١٢٨٥) (تحفة الأشراف: ١١٠٣١)، و مسند احمد (٦/١٨) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ سے دعا مانگو اور اس یقین کے ساتھ مانگو کہ تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی، اور (اچھی طرح) جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہی اور بےتوجہی سے مانگی ہوئی غفلت اور لہو و لعب میں مبتلا دل کی دعا قبول نہیں کرتا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, Pray to Allah while you are sure of an answer. And know that Allah does not answer a prayer from an indifferent, playful heart.’
حسن، الصحيحة (596)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3479
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- میں نے عباس عنبری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن معاویہ جمحی کی بیان کردہ روایتیں لکھ لو کیونکہ وہ ثقہ راوی ہیں۔
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو نماز کے اندر ١ ؎ دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) نہ بھیجا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے جلدی کی ، پھر آپ نے اسے بلایا، اور اس سے اور اس کے علاوہ دوسروں کو خطاب کر کے فرمایا، جب تم میں سے کوئی بھی نماز پڑھ چکے ٢ ؎ تو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی ﷺ پر صلاۃ (درود) بھیجے، پھر اس کے بعد وہ جو چاہے دعا مانگے ۔
Sayyidina Fadalah ibn Ubayd (RA) reported that the Prophet ﷺ heard a man make a supplication in his salah without invocating blessing on the Prophet ﷺ . So he said, “He has made haste.” Then he called him and said to him or to another.” When one of you offers salah, let him begin by praise of Allah and His glorification. Then let him invoke blessing on the Prophet ﷺ and then supplicate for whatever he will.” [Ahmed 23992]
صحيح انظر ما قبله بحديثصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3477
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز کے اندر سے مراد ہے کہ آخری رکعت میں درود کے بعد اور سلام سے پہلے نماز میں دعا کا یہی محل ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا میں کوشش کرو۔ ٢ ؎: یعنی: پوری نماز سے فارغ ہو کر صرف سلام کرنا باقی رہ جائے، یہ معنی اس لیے لینا ہوگا کہ اسی حدیث میں آچکا ہے کہ پہلے شخص نے نماز کے اندر دعا کی تھی اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ اس نے صلاۃ ( درود ) نہ بھیج کر جلدی کی، نیز دعا اللہ سے قرب کے وقت زیادہ قبول ہوتی ہے اور بندہ سلام سے پہلے اللہ سے بنسبت سلام کے بعد زیادہ قریب ہوتا ہے، ویسے سلام بعد بھی دعا کی کی جاسکتی ہے، مگر شرط وہی ہے کہ پہلے حمد و ثنا اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کرلے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہتے تھے: «اللهم عافني في جسدي وعافني في بصري واجعله الوارث مني لا إله إلا اللہ الحليم الكريم سبحان اللہ رب العرش العظيم والحمد لله رب العالمين» اے اللہ! تو مجھے میرے جسم میں عافیت عطا کر (یعنی مجھے صحت دے) اور مجھے عافیت دے میری نگاہوں میں (یعنی میری بینائی صحیح سالم رکھ) اور اسے (یعنی میری نگاہ کو) آخری وقت تک (یعنی بصارت کو باقی و قائم رکھ چاہے اور کسی چیز میں اضم حلال اور زوال آ جائے تو آ جائے) کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ کے جو حلیم اور کریم ہے، پاک ہے اللہ عرش عظیم والا اور تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger used to say: O Allah, give me a sound body and give me healthy eyesight and let these remain with me till I die. There is no God but Allah, the Clement, the Benevolent. Glorified is Allah, Lord of the mighty throne. And praise belongs to Allah, Lord of the worlds. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (1211) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3480
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے کچھ بھی نہیں سنا ہے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٣٧٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” حبیب بن ابی ثابت “ کا عروہ سے بالکل سماع نہیں ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ (بنت رسول) ؓ آپ کے پاس ایک خادم مانگنے آئیں، آپ نے ان سے کہا: تم یہ دعا پڑھتی رہو: «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب کل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن فالق الحب والنوی أعوذ بک من شر کل شيء أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلک شيء وأنت الآخر فليس بعدک شيء وأنت الظاهر فليس فوقک شيء وأنت الباطن فليس دونک شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! تو ساتوں آسمانوں کا رب، عرش عظیم کا رب، اے ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب، توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے، زمین پھاڑ کر دانے اگانے اور اکھوے نکالنے والے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر چیز کے شر سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تو پہلا ہے (شروع سے ہے) تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (یعنی اوپر ہے) ، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو پوشیدہ ہے سب کی نظروں سے، لیکن تم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، اے اللہ! تو میرے اوپر سے قرض اتار دے، اور مجھے محتاجی سے نکال کر مالدار کر دے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Sayyidah Fatimah came to the Prophet ﷺ and requested him for a servant. He said to her that she should pray: O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the mighty throne, our Lord and Lord of everything. The One Who revealed the Torah, the Injil and the Quran The Splitter of the seed and the stone, I seek refuge in You from the evil of everything that You seize by its forelocks. You are the First, nothing being before You. And You are the last, nothing being after You. And You are the Manifest, nothing being above You. And You are the Hidden, nothing is more concealed than You, pay my debt and relieve me from want.” [Muslim 2713, Ibn e Majah 3831, Ahmed 8969] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3481
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، اور اعمش کے بعض شاگردوں نے اعمش سے ایسے ہی روایت کی ہے، ٢- ایسے ہی بعض راویوں نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اپنی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من قلب لا يخشع ومن دعا لا يسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ينفع أعوذ بک من هؤلاء الأربع» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو (یعنی جس میں خوف الٰہی نہ ہو) ، اور ایسی دعا سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سنی نہ جائے، اور اس نفس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں جو فائدہ نہ پہنچائے، اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to make this supplication: O Allah I seek refuge in You from that does not fear, and from a prayer that is not answered, and from a soul that is not satiated, and from knowledge that does not benefit. I seek refuge in you from these four. [Ahmed 6572]
صحيح، التعليق الرغيب (1 / 75 - 76)، صحيح أبي داود (1384 - 1385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3482
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے (یعنی) عبداللہ بن عمرو کی روایت حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاستعاذة ٢ (٥٤٤٤) (تحفة الأشراف: ٨٦٢٩)، و مسند احمد (٢/١٦٧، ١٩٨) (صحیح)
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میرے باپ سے پوچھا: اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے ، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم ألهمني رشدي وأعذني من شر نفسي» اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn reported that the Prophet ﷺ said to his Imran’s father, “O Husayn, how many gods do you worship in a day?” He said, “Seven-six on earth and one in the heaven.” He asked, “Which of them, you place hope in and fear.” He said, “He Who is in the heaven.” The Prophet ﷺ said, “O Husayn, if you become a Muslim, I will teach you expressions that will benefit you.” When Husayn embraced Islam, he said, “O Messenger of Allah, teach me the expressions that you had promised.” He said: O Allah, guide me and protect me from the evil of my self. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (2476 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4098) القسم الأخير //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3483
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث عمران بن حصین سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩٧) (ضعیف) (حسن بصری کا عمران بن حصین ؓ سے لقاع و سماع نہیں ہے، نیز ” شبیب بن شیبہ “ مجہول راوی ہیں)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated : It was very often that I heard the Prophet ﷺ pray in these words: O Allah, I seek refuge in You from anxiety, grief, fatigue, sloth, niggardliness, burden of debt and wrath of men. [Bukhari 6369, Nisai 5459, Ahmed 13524]
صحيح غاية المرام (347)، صحيح أبي داود (1377 - 1478)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3484
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٢٥ (٢٨٦٢)، وتفسیر سورة النحل ١ (٤٧٠٧)، والدعوات ٣٨ (٦٣٧٠)، و ٤٢ (٦٣٧٤)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٥ (٢٧٠٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٠)، سنن النسائی/الاستعاذة ٦ (٥٤٥٠) (تحفة الأشراف: ١١١٥)، و مسند احمد (٣/١١٣، ١١٧، ٢٠٨، ٢١٤، ٢٣١) (صحیح)
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والجبن والبخل وفتنة المسيح وعذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی و کاہلی سے، اور انتہائی بڑھاپے سے (جس میں آدمی ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے) بزدلی و بخالت سے اور مسیح (دجال) کے فتنہ سے اور عذاب قبر سے ۔
Sayyidina Anas reported that the Prophet ﷺ used to pray thus: “ O Allah, I seek refuge in You from sloth, infirm old age, cowardice, niggardliness, mischief of dajjal and punishment in the grave.” [Nisai 5505]
صحيح، صحيح أبي داود (1377)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3485
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو تسبیح کا شمار اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr narrated (RA) observed the Prophet ﷺ counting his repetitious recital on the fingers.
صحيح وهو مکرر الحديث (3652)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3486
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، یعنی اعمش کی روایت سے جسے وہ عطاء بن سائب سے روایت کرتے ہیں، ٢- شعبہ اور ثوری نے یہ پوری حدیث عطاء بن سائب سے روایت کی ہے، ٢- اس باب میں یسیرہ بنت یاسر ؓ سے بھی روایت ہے، وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! تم تسبیحات کا شمار انگلیوں کے پوروں سے کرلیا کرو، کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہوگئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی و بھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچا لے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے (البقرہ: ٢٠١) ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that the Prophet ﷺ visited a sick man who had gone weak and fatigued looking like the young of a bird. He asked him, ‘Do you not pray to Your Lord to give You health?” He said, “I used to pray, “O Allah whatever punishment You will give me in the Hereafter, hasten it for me in this workd.” The Prophet ﷺ said, ‘Glory to Allah! You do not have the strength nor can you endure it. Why do you not say: O Allah, give us good in this world and good in the Hereafter, and preserve us from the punishment of the fire?” [Muslim 2688, Ahmed 12049]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3487
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس بن مالک کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے دیگر کئی اور سندوں سے بھی آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی اس آیت: «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة» کے بارے میں حسن سے مروی ہے، دنیا میں «حسنہ» سے مراد علم اور عبادت ہے، اور آخرت میں «حسنہ» سے مراد جنت ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألک الهدى والتقی والعفاف والغنی» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بےنیازی چاہتا ہوں ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ used to pray: O Allah, I ask You for guidance, righteousness, piety and freedom from want. [Muslim 2721, Ibn e Majah 3832, Ahmed 4135] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3832)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3489
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: «اللهم إني أسألک حبک وحب من يحبک والعمل الذي يبلغني حبک اللهم اجعل حبک أحب إلي من نفسي وأهلي ومن الماء البارد» اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور میں اس شخص کی بھی تجھ سے محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے، اور ایسا عمل چاہتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے اللہ! تو اپنی محبت کو مجھے میری جان اور میرے گھر والوں سے زیادہ محبوب بنا دے، اے اللہ! اپنی محبت کو ٹھنڈے پانی کی محبت سے بھی زیادہ کر دے ، (راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب داود (علیہ السلام) کا ذکر کرتے تو ان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے: وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔
Sayyidina Abu Darda (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Among the supplication of Dawud (AS) O Allah, I ask You for Your love and love for him who loves You and for the deed that will lead me to Your love. O Allah! cause Your love to be dearer to me than my own self, my family and cool water. And whenever Allah’s Messenger ﷺ mentioned Sayyidina Dawud rLJ he spoke about him (at length), saying, ‘He worshipped (Allah) more than all mankind.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف - إلا قوله في داود: کان أعبد البشر فهو عند مسلم - ابن عمر -، الصحيحة (707)، المشکاة (2496 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3490
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٩٤٢) (ضعیف) (سند میں ” عبد اللہ بن ربیعہ “ مجہول ہے، اور بقول امام احمد: اس کی حدیثیں موضوع ہوتی ہیں، مگر ” کان داود أعبد البشر “ کا ٹکڑا ابن عمر ؓ سے مسلم میں موجود ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم ٧٠٧)
عبداللہ بن یزید اخطمی انصاری سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی دعا میں کہتے تھے: «اللهم ارزقني حبک وحب من ينفعني حبه عندک اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم وما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا لي فيما تحب» اے اللہ! تو مجھے اپنی محبت عطا کر، اور مجھے اس شخص کی بھی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے دربار میں فائدہ دے، اے اللہ! جو بھی تو مجھے میری پسندیدہ و پاکیزہ رزق عطا کرے اس رزق کو اپنی پسندیدہ چیزوں میں استعمال کے لیے قوت و طاقت کا ذریعہ بنا دے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Yazid al-Khatmi al-Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to make this prayer: O Allah! Grant me Your love, and the love of him whose love will benefit me in Your sight. O Allah, cause whatever You grant me of that which I love to be strength in what You love. O Allah, cause whatever You prevent to me of that which I love to be a relief to me in what You love.
ضعيف، المشکاة (2491 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1172) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3491
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٦٧٦) (ضعیف) (سند میں ” سفیان بن وکیع “ متروک الحدیث ہے)
شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا تعویذ (پناہ لینے کی دعا) سکھا دیجئیے جسے پڑھ کر میں اللہ کی پناہ حاصل کرلیا کروں، تو آپ نے میرا کندھا پکڑا اور کہا: کہو (پڑھو) : «اللهم إني أعوذ بک من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي يعني فرجه» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے، اور اپنی شرمگاہ کے شر سے (منی سے مراد شرمگاہ ہے) ۔
Sayyidina Shakal ibn Humayd (RA) narrated: I went to the Prophet ﷺ and said (to him), “O Messenger of Allah, teach me a prayer of refuge that I might seek refuge in Allah thereby.’ He held my hand and instructed me to say: O Allah, I seek refuge in You from the evil of my hearing, and from the evil of my sight, and from the evil of my tongue, and from the evil of my heart, and from the evil of my sexual organs. [Ahmed 15541]
صحيح، المشکاة (2472)، صحيح أبي داود (1387)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3492
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند یعنی «سعد بن أوس عن بلال بن يحيى» کے طریق سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٧ (٥١٥١)، سنن النسائی/الاستعاذة ٤ (٥٤٤٦)، ١٠ (٥٤٥٧)، و ١١ (٥٤٥٨)، و ٢٨ (٥٤٨٦) (تحفة الأشراف: ٤٨٤٧)، و مسند احمد (٣/٤٢٩) (صحیح)