عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انہیں (صحابہ کو) یہ دعا سکھایا کرتے تھے جیسا کہ انہیں قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من عذاب جهنم ومن عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں حیات و موت کے فتنے (کشمکش) سے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated: I was sleeping next to Allah’s Messenger ﷺ but I missed him in the night. I groped with my hand and finally touched his feet while he was in prostration. He was saying: O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath and in Your forgiveness from Your punishment. I cannot praise You according to what You are worthy. Indeed, You are as You praise yourself. [Ahmed 24366] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3840)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3494
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنی ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والمأثم والمغرم» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، (جہنم میں لے جانے والے اعمال سے) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، (منکر نکیر کے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے) مالداری کے فتنے کے شر سے (تکبر اور کسب حرام سے) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، (حسد اور طمع سے) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کردی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے ۔
Sayyidina Abdullah ibn Abbas s reported that Allah’s Messenger ﷺ used to teach them this prayer as he used to teach them the surah of the Qur’an: O Allah, I seek refuge in You from the punishment in Hell and from the punishment in the grave, and I seek refuge in You from the michief of dajjal, and I seek refuge in You from the trial of life and death. [Muslim 590, Abu Dawud 1542, Nisai 2059, Ahmed 2168]
صحيح، ابن ماجة (3838)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3495
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٣٩ (٦٣٦٨)، و ٤٤ (٦٣٧٥)، و ٤٥ (٦٣٧٦)، و ٤٦ (٦٣٧٧)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٤ (٥٨٩/٤٩)، سنن النسائی/الاستعاذة ١٧ (٥٤٦٨)، و ٢٦ (٥٤٧٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٨) (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٢)، و مسند احمد (٦/٥٧، ٢٠٧) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی وفات کے وقت (یہ دعا) پڑھتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلی» اے اللہ! بخش دے مجھ کو اور رحم فرما مجھ پر اور مجھ کو رفیق اعلیٰ (انبیاء و ملائکہ) سے ملا دے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed in these words: O Allah, I seek refuge in You from the trial of Hell and the punishment in Hell and the trial of the grave and from the evil of the trial of riches and from the evil of the trial of poverty and from the mischief of dajjal. O Allah, wash away my sins with snow and hail water and purify my heart as a white. garment is purified from filth, and put a distance between me and my sins as You have put a distance between the east and the west. O Allah, I seek refuge in You from slackness, in firm old age, sin and debt. [Bukhari 832, Muslim 589, Abu Dawud 880, Nisai 1305, Ahmed 24632]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3496
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی، رات میں نے آپ کو اپنی جگہ نہ پا کر آپ کو ادھر ادھر تلاش کیا، ٹٹولا، میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، اور یہ دعا پڑھ رہے تھے: «أعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت علی نفسک» اے اللہ! میں تیری رضا و خوشنودی کے ذریعہ تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے عفو درگزر کے سہارے تیری سزا و عذاب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء، تیری تعریف کی گنتی اور اس کا احصاء و احاطہٰ نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود آپ اپنی ذات کی تعریف کی ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ make this supplication at the time of his death: O Allah, forgive me and have mercy on me and join me with the higher companion. (The words are ar-Rafiq ui-Ala). [Ahmed 26006, Bukhari 4440, Muslim 2444] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3841)
صحيح، ابن ماجة (3841)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3493
لیث نے بیان کیا اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے: «وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك» میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری ناراضگی سے اور تیری تعریف کا حق ادا نہیں کرسکتا ، (جیسی کہ تیری تعریف ہونی چاہیئے) ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3493
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ حدیث کئی سندوں سے عائشہ ؓ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٥٢ (٨٧٩)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٠ (١٦٩)، والتطبیق ٧١ (١١٣١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٥)، ( تحفة الأشراف: ١٧٥٨٥)، وط/القرآن ٨ (٣١)، و مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠١) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما ١ ؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے) ،
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “None of you must say, ‘O Allah forgive me if You will, O Allah have mercy on me if you will:’ Rather, he must not make his request conditional because there is none to prevent Him.” [Bukhari 6339, Abu Dawud 1483, Ahmed 9975] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3854)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3497
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیئے۔ بلکہ پورے عزم، پختہ ارادے، اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیئے، مجھے یہ دے، مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٢١ (٦٣٣٩)، والتوحید ٣١ (٧٣٧٧)، صحیح مسلم/الذکر ٣ (٢٦٧٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٣)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٨ (٣٨٥٤) (تحفة الأشراف: ٣٨١٣)، وط/القرآن ٨ (٢٨)، و مسند احمد (٢/٢٤٣، ٤٥٧) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر آخری تہائی رات میں اترتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی دعا قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کر دوں؟ اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Our Lord comes down every night to the heaven over earth in the last one-third of the night. He says, “Is there anyone to supplicate Me that I may answer him?. Who will ask Me that I may grant him? Who will seek forgiveness from me that I may forgive him?’ [Ahmed 10315, Bukhari 1145, Muslim 758, Abu Dawud 1315, Ibn e Majah 1366]
صحيح ومضی برقم (448)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3498
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اور ابوعبداللہ الاغر کا نام سلمان ہے، ٣- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابوسعید، جبیر بن مطعم، رفاعہ جہنی، ابودرداء اور عثمان بن ابوالعاص ؓ سے بھی روایتیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٤ (١١٤٥)، والدعوات ١٤ (٦٣٢١)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٤ (٧٥٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١١ (١٣١٥)، والسنة ٢١ (٤٧٣٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٢ (١٣٦٦) (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٣، و ١٥٢٤١)، و مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٧، ٢٨٣، ٤١٩، ٤٧٨)، وسنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥١٩) (صحیح)
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: آدھی رات کے آخر کی دعا (یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا) اور فرض نمازوں کے اخیر میں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Umamah reported that someone asked the Prophet ﷺ “O Messenger of Allah, which prayer is heard (most)?” He said, “In the last portion of the night and after the prescribed salah.” It is reported from Abu Dharr (RA) and Ibn Umar (RA) from the Prophet ﷺ that he said, “Around the last portion of the night, the supplication is most excellent and most likely to be accepted” or like the hadith.
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابوذر اور ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں دعا سب سے بہتر ہے، یا اس کے قبول ہونے کی امیدیں زیادہ ہیں یا اسی جیسی کوئی اور بات آپ نے فرمائی ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «دبر الصلوات» کے معنی نماز کے بعد یعنی سلام کے بعد بھی ہوسکتے ہیں اور نماز کے اخیر میں سلام سے پہلے بھی ہوسکتے ہیں، اور یہ دوسرا معنی زیادہ قرین صواب ہے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے ابوبکر ؓ کو اسی وقت دعا زیادہ قبول ہونے کے بارے میں بتایا تھا، نیز بندہ اللہ سے پہلے زیادہ قریب ہوتا ہے کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے بنسبت سلام کے بعد کے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدک ونشهد حملة عرشک وملائكتک وجميع خلقک بأنک اللہ لا إله إلا أنت اللہ وحدک لا شريك لک وأن محمدا عبدک ورسولک» اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays in the morning: O Allah, we enter into morning, calling You to witness and calling to witness the bearers of Your throne, Your angels and all Your creatures that You are God, there is no God other than You, You are Alone and You have no partner, and that Muhammad is Your slave and Your Messenger. Then Allah forgives him what (sins) he commits that day. And, if he prays that in the evening then Allah forgives him what sins he commits that night. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الکلم الطيب (25)، المشکاة (2398 / التحقيق الثاني)، الضعيفة (1041) // ضعيف الجامع الصغير (5729) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3501
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١١٠ (٥٠٧٨) (تحفة الأشراف: ١٥٨٧) (ضعیف) (سند میں ” بقیہ “ اور ” مسلم بن زیاد “ دونوں ضعیف ہیں)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارک لي فيما رزقتني» اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے ، آپ نے فرمایا: کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that a man said, “O Messenger of Allah, I heard your prayer tonight. So the portion of it I heard is that you said: O Allah, forgive me my sins and make my home spacious for me and bless me in that which You have provided me of sustenance. The Prophet ﷺ asked him, “Did you find anything that has been omitted in it?” [Abu Dawud 5069, Ahmed 16599]
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥١٢) (ضعیف) (دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ” سعید بن ایاس جریری “ مختلط ہوگئے تھے، اور ” عبد الحمید الھلالی “ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفس اس دعاء کے الفاظ ابوموسیٰ ؓ کی روایت سے تقویت پا کر دعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: غایة المرام رقم ١١٢)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتک ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتک ما تبلغنا به جنتک ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا علی من ظلمنا وانصرنا علی من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہوجائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہوجائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو (ہماری موت تک) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا (کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that it was seldom that Allah’s Messenger ﷺ got up from a gathering before having prayed in these words (and) having the sahaah pray: O Allah, cause us to have as much portion of Your fear as becomes a barrier between us and disobedience to You, and as much of obedience to You as may take us to paradise, and as much of faith as removes hardships of this world from us. And, let us benefit from our hearing, our sight and our vitality as long as you cause us to live and cause them to survive us. And take revenge from those who wrong usO and help us against those who antagonise us. And do not cause our difficulties to descend on our religionO and do not make this world most of our ambition and do not make it the limit of our knowledge. And do not impose on us one who would not have mercy on us.
حسن الکلم الطيب (225 / 169)، المشکاة (2492 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3502
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٧ (٤٠١) (تحفة الأشراف: ١٥٨٧) (ضعیف) (سند میں ” بقیہ “ اور ” مسلم بن زیاد “ دونوں ضعیف ہیں)
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بک من الهم والکسل وعذاب القبر» اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
Muslim ibn Abu Bakrah (RA) said that his father heard him pray: O Allah, I seek refuge in You from grief, sloth and punishment in the grave. He asked, “O son, from whom did you hear it?” He said, “I had heard, you pray in these words.” He said, “Bind yourself by them. I had heard Allah’s Messenger ﷺ supplicate thus.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3503
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں ، آپ نے فرمایا: کہو: «لا إله إلا اللہ العلي العظيم لا إله إلا اللہ الحليم الكريم لا إله إلا اللہ سبحان اللہ رب العرش العظيم» اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم (بردبار مہربان) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے ۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger ﷺ said to him, “Shall I not teach you words which when you pray by, Allah will forgive you and if you are forgiven, He will elevate your ranks. Say: There is no God, but Allah, the High, the Mighty. There is no God but Allah, the Clement, the Noble. There is no God but Allah glorified be Allah Lord of the mighty throne. [Ahmed 712] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الروض النضير (679 و 717) // ضعيف الجامع الصغير (2170) //
ضعيف، الروض النضير (679 و 717) // ضعيف الجامع الصغير (2170) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3504 اسی سند سے حسین بن واقد کے واسطہ سے ایسی ہی حدیث روایت ہے، البتہ ان کی حدیث کے آخر میں: «الحمد لله رب العالمين» کا اضافہ ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3504
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، یعنی ابی اسحاق کی روایت سے جسے وہ حارث (اعور) کے واسطہ سے علی سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٩٨ (٦٤٠) (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٠) (ضعیف) (سند میں ” حارث الأعور “ ضعیف راوی ہیں)
انظر ما قبلہ (ضعیف)
سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانک إني كنت من الظالمين» تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم (خطاکار) ہوں ، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا ۔
Sayyidina Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The prayer of Dhuan-Nun(Yunus) while he was in the stomach of the fish: There is no God but you. You are Glorified. I am one of the wrong-doers. is such that if a Muslim makes it and asks for something, Allah will surely grant him that. [Ahmed 1462]
صحيح الکلم الطيب (122 / 79)، التعليق الرغيب (2 / 275 و 3 / 43)، المشکاة (2292 / التحقيق الثاني )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3505
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ٢- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے ١ ؎ نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہوگا ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Surely Allah has ninety-nine names-a hundred, less one. He who remembers them will enter Paradise.” [Ibn e Majah 3860, Ahmed 7505]
صحيح، المشکاة (2288 / التحقيق الثاني)
صحيح، المشکاة (2288 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3506 امام ترمذی کہتے ہیں کہ یوسف نے کہا: ہم سے بیان کیا عبدالاعلی نے اور عبدالاعلی نے ہشام بن حسان سے، ہشام نے محمد بن سیرین سے، محمد بن سیرین نے ابوہریرہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3506
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں نناوے کا لفظ «حصر» کے لیے نہیں ہے کیونکہ ابن مسعود ؓ کی ایک حدیث ( جو مسند احمد کی ہے اور ابن حبان نے اس کی تصحیح کی ہے ) میں ہے کہ آپ دعا میں کہا کرتے تھے: اے اللہ میں ہر اس نام سے تجھ سے مانگتا ہوں جو تم نے اپنے لیے رکھا ہے اور جو ابھی پردہ غیب میں ہے، اس معنی کی بنا پر اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مذکور بالا ان ننانوے ناموں کو جو یاد کرلے گا … نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کا اصل نام اللہ ہے باقی نام صفاتی ہیں۔ ٢ ؎: یعنی جو ان کو یاد کرلے اور صرف بسرد الاسماء معرفت اسے حاصل ہوجائے اور ان میں پائے جانے والے معنی و مفہوم کے تقاضوں کو پورا کر کے ان کے مطابق اپنی زندگی گزارے گا وہ جنت کا مستحق ہوگا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ٩٩) نام ہیں جو انہیں شمار کرے (گنے) گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے ( ٩٩) نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف و اعلی، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ، « الرحيم» مہربان ، «الملک» بادشاہ ، «القدوس» نہایت پاک ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ،«الجبار» تسلط والا ، «المتکبر» بڑائی والا ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» پیدا کرنے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ،«الغفار» بہت بخشنے والا ‘، «القهار» قہر والا ، «الوهاب» بہت دینے والا ، «الرزاق» روزی دینے والا ، «الفتاح» فیصلہ چکانے والا ،«العليم» جاننے والا ، «القابض» روکنے والا ، «الباسط» چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، «الخافض» پست کرنے والا ، «الرافع» بلند کرنے والا ، «المعز» عزت دینے والا ، «المذل» ذلت دینے والا ، «السميع» سننے والا ، «البصير» دیکھنے والا ، «الحکم» فیصلہ کرنے والا ، «العدل» انصاف والا ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے والا ، «الخبير» خبر رکھنے والا ، «الحليم» بردبار ، «العظيم» بزرگی والا ، «الغفور» بہت بخشنے والا ، «الشکور» قدر کرنے والا ، «العلي» اونچا ، «الكبير» بڑا ، «الحفيظ» نگہبان ، «المقيت» طاقت و قوت والا ، «الحسيب» حساب لینے والا ، «الجليل» بزرگ ، «الكريم» کرم والا ، «الرقيب» مطلع رہنے والا ، «المجيب» قبول کرنے والا ، «الواسع» کشادگی اور وسعت والا ، «الحکيم» حکمت والا ، «الودود» بہت چاہنے والا ، «المجيد» بزرگی والا ،«الباعث» زندہ کر کے اٹھانے والا ، «الشهيد» نگراں، حاضر ، «الحق» سچا ، «الوکيل» کار ساز ، «القوي» طاقتور ، «المتين» مضبوط ، «الولي» مددگار و محافظ ، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» پہلے پہل پیدا کرنے والا ، «المعيد» دوبارہ پیدا کرنے والا ،«المحيي» زندہ کرنے والا ، «المميت» مارنے والا ، «الحي» زندہ ، «القيوم» قائم رہنے و قائم رکھنے والا ، «الواجد» پانے والا ،«الماجد» بزرگی والا ، «الواحد» اکیلا ، «الصمد» بےنیاز ، «القادر» قدرت والا ، «المقتدر» طاقتور پکڑنے والا ، «المقدم» پہلا ،«المؤخر» پچھلا ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» پوشیدہ، مخفی ، «الوالي» مالک مختار، حکومت کرنے والا ، «المتعالي» برتر ، «البر» بھلائی والا ، «التواب» توبہ قبول کرنے والا ، «المنتقم» انتقام لینے والا ، «العفو» درگذر کرنے والا ،«الرء وف» شفقت والا، مہربان ، «مالک الملک» تمام جہاں کا مالک ، «ذو الجلال والإکرام» عزت و جلال والا ، «المقسط» انصاف کرنے والا ، «الجامع» جمع کرنے والا ، «الغني» تونگر و بےنیاز ، «المغني» بےنیاز ، «المانع» روکنے والا ، «الضار» نقصان پہنچانے والا ، «النافع» نفع پہنچانے والا ، «النور» روشن، ظاہر ، «الهادي» ہدایت بخشنے والا ، «البديع» از سر نو پیدا کرنے والا ، «الباقي» قائم رہنے والا ، «الوارث» وارث ، «الرشيد» خیر و بھلائی والا ، «الصبور» بردبار ۔
Sayyidina Abu Hurayrah(RA) reported that Allah’s Messenger ‘ said: Surely Allah has ninety-nine names-a hundred, less one. He Who remembers them will enter Paradise. He is Allah Who there is no God besides Him: Ar-Rahman, Ar-Rahim, Al-Malik, Al-Quddus, As-Salaam, Al-Mumin, Al-Muhaymin, Al-Aziz, Al-Jabbar, Al-Mutakabbir Al-Khaliq, Al-Ban, Al-Musawwir, AI-Ghaffar, Al-Qahhar, Al-Wahhab, Ar-Razzaq, Ai-Fattah, Al-Aiim Al-Qabid, Al-Basil, Ai-Khafid, Ar-Rafi, Al-Mu’iz, Ai-Muziil, As-Sami, Al-Basir, Al-Hakam, Al-Adi, Al-Latif, A1-Khabir, Al-Ally, Al-Halim, Al-Azim, Al-Ghafur, Ash-Shakur, Al-Kabir, Al-Hafiz, Al-Muqit, Al-Hasib, Al-Jalil, Al-Karim, Ar-Raqib, Al-Mujib Al-Wasi, Al-Hakim, Al-Wadud, Al-Majid, Al-Ba’ith, Ash-Shahid, Al-Haqq, Al-Wakil, Al-Qawiy, Al-Matin, A1-Waliy, Al-Hamid, Al-Muhsiy, Al-Mubdi, Al-Mu’id, A1-Muhyiy, Al-Mumit, Al-Hayyu, Al-Qayyum, Al-Wajid, Al-Majid, Al-Wahid, As-Samad, Al-Qadir, AI-Muqtadir, Al-Muqaddim, Al-Mu’akhkhir, A1-Awwal, Al-Aakhir, Az-Zahir, Al-Batin, Al-Waliy, Al-Muta’aliy, Al-Barr, At-Tawwab, Al-Muntaqim, Al-Afuw, Ar-Ra’uf, Maalik-ul-Mulk, Dhul Jalali wallkram, Al-Muqsit, Al-Jami, Al-Ghaniy, A1-Mughni, Al-Mani, Ad-Darr, An-Nafi, An-Nur, Al-Hadi, Al-Badi, Al-Baqi Al-Warith, Ar-Rashid, As-Sabur. [Bukhari 7392]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ٩٩) نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا (یاد رکھا) وہ جنت میں جائے گا ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث میں اسماء (الٰہی) کا ذکر نہیں ہے، ٣- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو ، میں پوچھا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «رياض الجنة » مساجد ہیں ، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “When you pass by the gardens of paradise, graze thare.” I asked, “O Messenger of Allah, and what are the gardens of paradise” He said, “The mosques.” I asked, “And what is the grazing, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “(That is the saying:) Glorified be Allah. And, all praise belongs to Allah. and, there is no god but Allah, and Allah is the Greatest.
ضعيف، الضعيفة (1150) // ضعيف الجامع الصغير (701) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3509
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم (کچھ) چر، چگ لیا کرو ١ ؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you pass by the gardens of paradise graze (there).” They (the sahabah asked, “And what are the gardens of paradise?” He said, “Circles of Dhikr.” (This means, ‘groups people who mention and remember Allah. [Ahmed 12525] --------------------------------------------------------------------------------
یہ حدیث اس سند سے جسے ثابت نے انس سے روایت کی ہے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مساجد میں کچھ عبادت و بندگی اور ذکر و فکر کر کے اپنی یہ اخروی زندگی کی آسودگی کا کچھ سامان کرلیا کرو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٤٦٥) (حسن) (سند میں ” محمد بن ثابت البنانی “ ضعیف ہیں، لیکن شاہد اور متابع کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحہ: ٢٥٦٢، تراجع الالبانی ٩٢)
ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت لاحق ہو تو اسے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندک احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وأبدلني منها خيرا» ہم سب اللہ کے لیے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں اپنی مصیبتوں کا اجر تجھ سے چاہتا ہوں مجھے تو ان پر (صبر کرنے کا) اچھا اجر دے، اور ان مصیبتوں کے بدلے مجھے ان سے اچھا دے ، پڑھنا چاہیئے، پھر جب ابوسلمہ ؓ کی موت کا وقت آگیا تو انہوں نے دعا کی: «اللهم اخلف في أهلي خيرا مني» اے اللہ! میرے گھر والوں میں مجھ سے بہتر ذات کو میرا خلیفہ و جانشیں بنا دے ، اور جب ان کی موت واقع ہوگئی تو ام سلمہ ؓ نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون عند اللہ احتسبت مصيبتي فأجرني فيها»۔
Sayyidina Abu Salamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you is faced with difficulty, let him say: We belong to Allah and we will return to Him. O Allah, I seek reward, for my dificulty from you. So, reward me for it and change it for me with something better. Thus when death apprached Abu Salamah (RA) he prayed: O Allah, give my wife someone better than me. When he died Sayyidah Umm Salamah (RA) prayed: To Allah, we belong and to Him will we return. I place my dificulty with Allah. So, reward me against it. [Ahmed 16343, Ibn e Majah 1598]
صحيح الإسناد - أم سلمة نحوهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3511
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ام سلمہ ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے ٣- اور ابوسلمہ ؓ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد ہے۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے؟ آپ نے فرمایا: اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو ، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: کون سی دعا افضل ہے؟ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کرلی ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that a man came to the Prophet ﷺ 4ilL and said, “O Messenger of Allah, which prayer is best?” He said, “Ask your Lord for pardon and security in this world and the next.” He came again the next day and asked, “O Messenger of Allah! ﷺ which prayer is best?” He told him the like of what he had said. He came again on the third day and he said to him as he had said (carlier). He also said, “If you are given pardon in this world, and you are also given that in the Hereafter, indeed, you have succeeded.” [Ibn e Majah 3848]
ضعيف، ابن ماجة (3848) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (839)، ضعيف الجامع الصغير (3269)، المشکاة (2490) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3512
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٥ (٣٨٤٨) (تحفة الأشراف: ٨٦٩) (ضعیف) (سند میں ” سلمہ بن وردان “ ضعیف راوی ہیں)