دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 8 of 12

3513Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو «اللهم إنک عفو کريم تحب العفو فاعف عني» اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that she asked, “O Messenger of Allah! ﷺ what do you say if I learnt which night is the Laylatul Qadr (night of power), what should I pray then?” He said, “Say: O Allah, You are the Forgiving, the Benevolent, You love to forgive, so forgive me.

صحيح، ابن ماجة (3850)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3513
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٥ (٣٨٥٠) (تحفة الأشراف: ١٦١٨٥) (صحیح)
3514Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَمَكَثْتُ أَيَّامًا، ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَسْأَلُهُ اللَّهَ، فَقَالَ لِي: يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ سَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَدْ سَمِعَ مِنَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.

عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیے جسے میں اللہ رب العزت سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: اللہ سے عافیت مانگو ، پھر کچھ دن رک کر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں اللہ سے مانگتا رہوں، آپ نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ ﷺ کے چچا! دنیا و آخرت میں عافیت طلب کرو ۔

Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib (RA) reported that he submitted, “O Messenger of Allah, teach me something that I may ask (thereby) Allah, the Mighty the Glorious.” He said, “Ask Him for safety.” I waited for a few days and then went to him and asked him, “O Messenger of Allah, teach me something whereby I Might ask Allah.” he said, “O Abbas! O uncle of Allah’s Messenger, ask for security in this world and the next.” [Ahmed 1783]

صحيح، المشکاة (2490 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (1523)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3514
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن حارث بن نوفل نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے سنا ہے (یعنی ان کا ان سے سماع ثابت ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥١٢٩)، و مسند احمد (١/٢٠٩) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: ١٥٢٣)
3515Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الْمُلَيْكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے جو بھی چیزیں مانگی گئی ہیں ان میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس سے عافیت (دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات) مانگی جائے ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اور ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر ملی کی کی روایت سے جانتے ہیں، (اور یہ ضعیف ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٥٠٤) (ضعیف) (سند میں ” عبد الرحمن بن ابی بکر ملی کی “ ضعیف ہیں)
3516Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَمْرًا قَالَ: اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتَرْ لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَنْفَلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُقَالُ لَهُ زَنْفَلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرَفِيُّ وَكَانَ يَسْكُنُ عَرَفَاتٍ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ.

ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یہ دعا فرماتے: «اللهم خر لي واختر لي» اے اللہ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما اور میرے لیے بہتر پسند فرما ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported on the authority of Sayyidina Abu Bakr (RA) that when the Prophet ﷺ intended to do something, he would say: O Allah, select for me and determine for me (the right course).

ضعيف، الضعيفة (1515) // ضعيف الجامع الصغير (4330) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3516
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے ٢- اور ہم اسے زنفل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے نہیں جانتے، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور انہیں زنفل بن عبداللہ عرفی بھی کہتے ہیں، وہ عرفات میں رہتے تھے، وہ اس حدیث میں منفرد ہیں، یعنی یہ روایت صرف انہوں نے ہی بیان کی ہے (کسی اور نے نہیں) اور کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٦٣٨) (ضعیف) (سند میں ” زنفل “ ضعیف ہیں)
3517Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. ا

بو مالک اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضو آدھا ایمان ہے، اور «الحمد لله» (اللہ کی حمد) میزان کو ثواب سے بھر دے گا اور «سبحان الله» اور «الحمد لله» یہ دونوں بھر دیں گے آسمانوں اور زمین کے درمیان کی جگہ کو یا ان میں سے ہر ایک بھر دے گا آسمانوں اور زمین کے درمیان کی ساری خلا کو (اجر و ثواب سے) «صلاة» نور ہے، اور «صدقة» دلیل اور کسوٹی ہے (ایمان کی) اور «صبر» روشنی ہے اور «قرآن» تمہارے حق میں حجت و دلیل ہے یا اور تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان صبح اٹھ کر اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے چناچہ یا تو ( اللہ کے یہاں فروخت کر کے) اس کو (جہنم سے) آزاد کرا لیتا ہے، یا (شیطان کے ہاں فروخت کر کے) اس کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ۔

Sayyidina Abu Maalik (RA) al-Ash ary reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Wudu (ablution) is half of faith. AI-Hamdu IiIIah (praise of Allah) fills up the scale while SubhanAllah and aI-Hamdulillah fill up that which is between the heavens and the earth. Salah is light and sadaqah (charity) is evidence. Patience is radiance. The Qur’an is proof for you or against you. Every person begins his day selling his soul and he either gets it released (because of obedience) or destroys it (because of disobedience.) [Muslim 223, Ahmed 22965] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (280)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3517
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں، سب بہتر قول بقول صاحب تحفہ الاحوذی ہے کہ یہاں ایمان سے مراد «صلاة» ہے جیسا کہ ارشاد باری «وما کان اللہ ليضيع إيمانکم» (البقرۃ: ١٤٣) میں «إيمان» سے مراد «صلاة» ہے، اور «صلاة» کے لیے وضو شرط ہے، (وضو میں طہارت کبریٰ بھی شامل ہے، اور بعض روایات میں «الطہور» کا لفظ بھی آیا ہے)۔ ٢ ؎: صدقہ ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ کے لیے صدقہ وہی کرتا ہے جس کو اللہ پر ایمان ہوتا ہے۔ ٣ ؎: یعنی اگر قرآن پر عمل کیا ہوگا تو قرآن فائدہ دے گا، ورنہ خلاف میں گواہی دے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١ (٢٢٣) (تحفة الأشراف: ١٢١٦٧) (صحیح)
3518Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَيْسَ لَهَا دُونَ اللَّهِ حِجَابٌ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «تسبيح» (سبحان اللہ کہنے سے) نصف میزان (آدھا پلڑا) بھر جائے گا، اور «الحمد لله» میزان (پلڑے کے باقی خالی حصے) کو پورا بھر دے گا، اور «لا إله إلا الله» کے تو اللہ تک پہنچنے میں کوئی حجاب و رکاوٹ ہے ہی نہیں ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Tasbih (to glority Allah) is half of faith while Hamd (to praise Allah) fills it up. And as for "There is no God but Allah", there is no screen between it and Allah so that it goes (directly) to Him.”

ضعيف، المشکاة (2313 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2510) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3518
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٨٦٣) (ضعیف) (سند میں ” اسماعیل بن عیاش “ غیر شامیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ” عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی “ ضعیف ہیں)
3519Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ فِي يَدِهِ، التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.

بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ کی انگلیوں یا اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گن کر بتایا کہ «سبحان الله» نصف میزان رہے گا اور «الحمد لله» اس پورے پلڑے کو بھر دے گا اور «الله أكبر» آسمان و زمین کے درمیان کی ساری جگہوں کو بھر دے گا، روزہ آدھا ہے، اور پاکی نصف ایمان ہے۔

A man of the tribe of Banu Sulaym narrated: Allah’s Messenger counted on his fingers or on mine, “Tasbih (glorifying Allah) is half of the scale and Hamd (praising Him) fills it up. Takbir (extolling Allah’s greatness) fillsup that which is between the heaven and the earth. fasting is half patience while purity is half of faith.” [Ahmed 23135]

ضعيف، المشکاة (296)، التعليق الرغيب (2 / 246) // ضعيف الجامع الصغير (2509) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3519
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور اس حدیث کو شعبہ اور سفیان ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٥٤١) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، اور ممکن ہے کہ وہ صحابی نہ ہوں اور خود ” جری النھدی “ لین الحدیث ہیں)
3520Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَكَانَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فِي الْمَوْقِفِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِي نَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ، اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَآبِي وَلَكَ رَبِّ تُرَاثِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيءُ بِهِ الرِّيحُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وقوف عرفہ کے دوران عرفہ کی شام اکثر جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی: «اللهم لک الحمد کالذي نقول وخيرا مما نقول اللهم لک صلاتي ونسکي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولک رب تراثي اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر اللهم إني أعوذ بک من شر ما تجيء به الريح» اے اللہ! تیرے لیے ہی ہیں سب تعریفیں جیسی کہ تو نے ہمیں بتائی ہیں اور اس سے بہتر جیسی کہ ہم تیری تعریف کرسکتے ہیں، اے اللہ! تیرے لیے ہی ہے میری صلاۃ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت، اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! تیرے لیے ہی ہے میری میراث، اے اللہ میں عذاب قبر سے، سینے کے وسوسہ سے اور متفرق و پراگندہ کام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس شر سے جسے ہوا لے کر آتی ہے ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that at Arafat at the mawqif after zawal (declination of the sun), much of the supplication of Allah’s Messenger ﷺ was: O Allah, praise belongs to You in the manner You say but better than we say. O Allah, for You is my salah, my sacrifice, my living and my death. To You is the return for refuge. For You is my legacy. O Allah, I seek refuge in You from the punishment in the grave and the temptation in the heart and confusion in affairs. O Allah, I seek refuge in You from the evil with which the wind comes. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الضعيفة (2918) // ضعيف الجامع الصغير (1214) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3520
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٠٨٤) (ضعیف) (سند میں ” قیس بن ربیع “ ضعیف راوی ہیں)
3521Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ كَثِيرٍ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعَوْتَ بِدُعَاءٍ كَثِيرِ لَمْ نَحْفَظْ مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَجْمَعُ ذَلِكَ كُلَّهُ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو:«اللهم إنا نسألک من خير ما سألک منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم ونعوذ بک من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلی اللہ عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے، تو ہی مددگار ہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر و شر کا) پہچانا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported: Allah’s Messenger made many supplication that we did not remember. We said, “O Messenger of Allah, you have made many supplication but we do not remember anything of it.” He said, “Shall I point out to you that which gathers together all of them?” He said: O Allah, we ask You of the good of which Your Prophet ﷺ Muhammad asked You. And we seek refuge in You from the evil from which Your Prophet ﷺ Muhammad sought refuge. And You are the Helper and Yours is the responsibility. There is no power and no strength save with Allah.

ضعيف، الضعيفة (3356) // ضعيف الجامع الصغير (2165) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3521
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٨٩٣) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
3522Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ، قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لأَكْثَرِ دُعَاءَكَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ ؟ قَالَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ: إِنَّهُ لَيْسَ آدَمِيٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ ، فَتَلَا مُعَاذٌ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا سورة آل عمران آية 8، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ ؓ سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ ﷺ کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے ، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ جسے چاہتا ہے (دین حق پر) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کردیتا ہے پھر (راوی حدیث) معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی) نہ پیدا کر (آل عمران: ٨) ، پڑھی۔

Shahr ibn Hawshab narrated: I asked Sayyidah Umm Salamah (RA), “O Mother of the Believers! What was the most regular prayer of Allah’s Messenger when he was with you?” She said, “The most frequent of his prayers was: O Director of hearts, let my heart be steadfast on Your religion. She said, “I asked him, “O Messenger of Allah! ﷺ why is this your most frequent prayer?” and he said, “O Umm Salamah, there is no man whose heart in not between the fingers of Allah so, whoso He will is steadfast and whoso He will goes astray.” Then the narrator, Mu’adh recited: Our Lord, cause not our hearts to stray after You have guided us.” (3:8, the verse to the end) [Ahmed 12108] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح ظلال الجنة (223)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3522
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ بن عمرو اور نعیم بن عمار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨١٦٤)، و مسند احمد (٦/٣١٥) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
3523Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَخْزُومِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَامُ اللَّيْلَ مِنَ الْأَرَقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضَلَّتْ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ خَلْقِكَ كُلِّهِمْ جَمِيعًا أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَنْ يَبْغِيَ، عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَالْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ قَدْ تَرَكَ حَدِيثَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ خالد بن ولید مخزومی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! میں رات بھر نیند نہ آنے کی وجہ سے سو نہیں پاتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بسترے پر سونے کے لیے جاؤ تو پڑھو: «اللهم رب السموات السبع وما أظلت ورب الأرضين وما أقلت ورب الشياطين وما أضلت کن لي جارا من شر خلقک کلهم جميعا أن يفرط علي أحد منهم أو أن يبغي عز جارک وجل ثناؤك ولا إله غيرک لا إله إلا أنت» اے اللہ! ساتوں آسمانوں، اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ان سب کے رب! ساری زمینوں اور ان ساری چیزوں کے رب جن کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور اے شیاطین اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کے رب! اپنی ساری مخلوق کے شر سے بچانے کے لیے میرا پڑوسی بن جا، تاکہ ان میں سے کوئی مجھ پر نہ ظلم و زیادتی کرسکے، اور نہ ہی بغاوت و سرکشی کا مرتکب ہو، تیرا پڑوسی باعزت ہو، اور تیری ثنا (و تعریف) بڑھ چڑھ کر ہو، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں معبود تو بس تو ہی ہے ۔

Sayyidina Buraydah reported that Khalid ibn Walid al-Makhzumi (RA) complained to the Prophet ﷺ saying, “O Messenger of Allah, I cannot sleep in the night due to insomnia’ The Prophet ﷺ — said, “When you come to your bed, say: o Allah, Lord of the seven heavens and that on which they cast their shadows; and, Lord of the earths and that which they bear; and, Lord of the devils and of those whom they mislead be for me a neighbourIgainst the mischief of the whole of Your creation lest any of them may tTespass on me or oppress me. Great is Your neighbourhood and gloriours is Your praise! There is no God besides You There is no God but You.

ضعيف الکلم الطيب (47 / 33)، المشکاة (2411) // ضعيف الجامع الصغير (408) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3523
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ٢- حکم بن ظہیر جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں، بعض محدثین ان کی بیان کردہ حدیث نہیں لیتے، ٣- یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے ایک دوسری سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٤٠) (ضعیف) (سند میں ” حکم بن ظہیر “ متروک الحدیث ہے)
3528Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا فَزِعَ أَحَدُكُمْ فِي النَّوْمِ فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْروٍ يُلَقِّنُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهُمْ كَتَبَهَا فِي صَكٍّ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو (یہ دعا) پڑھے:«أعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں ۔ (یہ دعا پڑھنے سے) یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ (تاکہ وہ اسے یاد کرلیں، نہ کہ تعویذ کے طور پر) عبداللہ بن عمر ؓ اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے ١ ؎۔

Amr ibn Shu’ayb reported from his father, from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “If any of you gets a nightmare, let him say: I seek refuge in the perfect words of Allah against His wrath and His punishment and the’ mischief of His slaves and from the temptations of the devils and that which they bring. Then they will not harm him.” So, Abdullah ibn Amr used to teach this supplication to his grown up children. And, he wrote it down on something and hung it on the neck of those who had not attained puberty. [Abu Dawud 3893] --------------------------------------------------------------------------------

حسن دون قوله فکان عبد اللہ 0000 الکلم الطيب (48 / 35)، صحيح أبي داود (3294 / 3893)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3528
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے لیے دیکھئیے ترمذی: کتاب الطب حدیث رقم: ٢٠٧٢ کا حاشیہ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ١٩ (٣٨٩٣) (تحفة الأشراف: ٨٧٨١) (حسن) (عبداللہ بن عمرو کا اثر ثابت نہیں ہے، الکلم الطیب)
3530Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بےحیائی کی چیزیں حرام کردی ہیں چاہے وہ کھلے طور پر ہوں یا پوشیدہ طور پر، اور کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ مدح (تعریف) پسند ہو، اسی لیے اللہ نے اپنی ذات کی تعریف خود آپ کی ہے۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3530
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الأنعام ٧ (٤٦٣٤)، وسورة الأعراف ١ (٤٦٣٧)، والنکاح ١٠٧ (٥٢٢٠)، والتوحید ١٥ (٧٤٠٣)، صحیح مسلم/التوبة ٦ (٢٧٦٠) (تحفة الأشراف: ٩٢٨٧)، و مسند احمد (١/٣٨، ٤٢٦، ٤٣٦) (صحیح)
3531Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولَ اللَّهِ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبُو الْخَيْرِ اسْمُهُ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ.

ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں ١ ؎، آپ نے فرمایا: کہو: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندک وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔

صحيح، ابن ماجة (3835)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3531
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز میں سے مراد ہے آخری رکعت میں سلام سے پہلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٩ (٨٣٤)، والدعوات ١٧ (٦٣٢٦)، والتوحید ٩ (٧٣٨٨)، صحیح مسلم/الدعاء والذکر ١٣ (٢٧٠٥)، سنن النسائی/السھو ٥٩ (١٣٠٣)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣٥) (تحفة الأشراف: ٦٦٠٦)، و مسند احمد (١/٤، ٧) (صحیح)
3524Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ الرُّحَيْلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَخِي زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَرَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتک أستغيث» اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when the Prophet ﷺ faced a difficult matter, he said: O The Ever-Living, The self-Subsisting, to Your merey do I appeal And with the same sanad, he reported that Allah’s Messenger said, “Hold fast to the possessor of Majesty and Benevolence.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن الکلم الطيب (118 / 76)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3524
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٧٧) (حسن) (سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے الکلم الطیب رقم ١١٨)
3525Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلِظُّوا بِيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ وَمُؤَمَّلٌ غَلِطَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ حَمَادٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَلَا يُتَابَعُ فِيهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «يا ذا الجلال والإکرام» کو لازم پکڑو (یعنی: اپنی دعاؤں میں برابر پڑھتے رہا کرو ۔

Sayyidina Anas reported that the Prophet ﷺ said, “Hold fast to ‘O the Lord of Majesty and Benevolence!”

صحيح، الصحيحة (1536)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3525
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، محفوظ نہیں ہے، ٢- یہ حدیث حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن بصری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ اور مومل سے اس میں غلطی ہوئی ہے، چناچہ انہوں نے «عن حميد عن أنس» دیا، جبکہ اس میں ان کا کوئی متابع نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٦) (صحیح)
3527Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ قَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: فَإِنَّ مِنْ تَمَامِ النِّعْمَةِ دُخُولَ الْجَنَّةِ وَالْفَوْزَ مِنَ النَّارِ ، وَسَمِعَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ: قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ ، وَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ، فَقَالَ: سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَلَاءَ فَسَلْهُ الْعَافِيَةَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دعا مانگتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللهم إني أسألک تمام النعمة» اے اللہ! میں تجھ سے نعمت تامہ مانگ رہا ہوں ، آپ نے اس شخص سے پوچھا: نعمت تامہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا: میں نے ایک دعا مانگی ہے اور مجھے امید ہے کہ مجھے اس سے خیر حاصل ہوگی، آپ نے فرمایا: بیشک نعمت تامہ میں جنت کا دخول اور جہنم سے نجات دونوں آتے ہیں ۔ آپ نے ایک اور آدمی کو (بھی) دعا مانگتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «يا ذا الجلال والإکرام» ، آپ نے فرمایا: تیری دعا قبول ہوئی تو مانگ لے (جو تجھے مانگنا ہو) ، آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا، «اللهم إني أسألک الصبر» اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں ، آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بلا مانگی ہے اس لیے تو عافیت بھی مانگ لے ۔

Sayyidina Mu’adh ibn Jabal reported that the Prophet ﷺ heard a man pray, “O Allah I ask You for perfect bounty.” So he asked him, “What is perfect beunty?” The man said, “I prayed a prayer, hoping for the best.” He said, “The perfect bounty is admittance to paradise, and deliverance from hell.” The Prophet ﷺ also heard another man say: O Lord of Majesty and Benevolence. So he said to him, “Your prayer is granted, so ask (what you desire).” He also heard a man say, “O Allah, I ask You for patience,” so he said to him, “You have asked Allah for trial. Now, ask Him for safety.”

ضعيف، الضعيفة (4520) ضعيف، الضعيفة (4520)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3527 اس سند سے بھی اسماعیل بن ابراہیم نے جریری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3527
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٣٥٨)، و مسند احمد (٥/٢٣٥) (ضعیف) (سند میں ” ابوالورد “ لین الحدیث راوی ہیں) انظر ماقبلہ (ضعیف)
3526Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ طَاهِرًا يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى يُدْرِكَهُ النُّعَاسُ، لَمْ يَنْقَلِبْ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے بستر پر پاک و صاف ہو کر سونے کے لیے جائے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نیند آ جائے تو رات کے جس کسی لمحے میں بھی بیدار ہو کر وہ دنیا و آخرت کی جو کوئی بھی بھلائی، اللہ سے مانگے گا اللہ اسے وہ چیز ضروری عطا کرے گا ۔

Sayyidina Abu Umamah Bahili reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone goes to his bed purified and mentions Allah till sleep overtakes him then he will not pass a moment of the night asking Allah for any good of this world and the next without Allah giving him that thing.

ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 207)، المشکاة (1250)، الکلم الطيب (43 / 29)، التحقيق الثاني // ضعيف الجامع الصغير (5496) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3526
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے ٢- یہ حدیث شہر بن حوشب سے بطریق: «أبي ظبية عن عمرو بن عبسة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٨٨٩) (ضعیف) (سند میں ” شہر بن حوشب “ ضعیف ہیں، تراجع الالبانی ١٤٣)
3529Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا مِمَّا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً، فَقَالَ: هَذَا مَا كَتَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِيهَا: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرَكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوراشد حبرانی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں ان میں سے کوئی حدیث ہمیں سنائیے، تو انہوں نے ایک لکھا ہوا ورق ہمارے آگے بڑھا دیا، اور کہا: یہ وہ کاغذ ہے جسے رسول اللہ نے ہمیں لکھ کردیا ہے ١ ؎، جب میں نے اسے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں صبح اور شام میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: ابوبکر! (یہ دعا) پڑھا کرو: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة لا إله إلا أنت رب کل شيء ومليكه أعوذ بک من شر نفسي ومن شر الشيطان وشرکه وأن أقترف علی نفسي سوءا أو أجره إلى مسلم» اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب (پالنے والا) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that Sayyidina Abu Bakr (RA) said, “O Messenger of Allah, teach me a prayer which I may make in my salah.” He said, Pray: O Allah, I have wronged my soul much wrong, and there is none who will forgive sins besides You. So, forgive me a forgiveness from You. And have mercy on me. Surely, You are The Forgiving, The Merciful. [Ahmed 8, Bukhari 834, Muslim 2705, Ibn e Majah 2835, Nisai 1301]

صحيح الکلم الطيب (22 / 9)، الصحيحة (2763)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3529
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس صحیح الإسناد و المتن حدیث سے بھی نہایت واضح معلوم ہو رہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ و طاہرہ میں آپ کی احادیث مبارکہ کو صحابہ کرام ؓ اجمعین لکھ لیا کرتے تھے اور اس عظیم المرتبت عمل کے لیے راوی حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ بہت معروف تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٩٥٨) (صحیح)
3533Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ، فَقَالَ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَتُسَاقِطُ مِنْ ذُنُوبِ الْعَبْدِ كَمَا تَسَاقَطَ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِلْأَعْمَشِ سَمَاعًا مِنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ رَآهُ وَنَظَرَ إِلَيْهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کی پتیاں سوکھ گئی تھیں، آپ نے اس پر اپنی چھڑی ماری تو پتیاں جھڑ پڑیں، آپ نے فرمایا: «الحمد لله و سبحان اللہ ولا إله إلا اللہ والله أكبر» کہنے سے بندے کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے اس درخت کی پتیاں جھڑ گئیں ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ passed by a tree whose leaves had dried. He struck its branches with his staff so that the leaves fell down. He said, “Indeed, praise for Allah glorifying Him declaring His Oneness and extoling Him get the sins of a person to drop down just as the leaves of this tree fall down.

حسن، التعليق الرغيب (2 / 249)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3533
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اعمش کا انس سے سماع ہم نہیں جانتے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انہوں نے انس کو دیکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في المناقب ١ (٣٦٠٨) (تحفة الأشراف: ١١٢٨٦) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہیں)