دعاؤں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 44 · 249 hadiths · Page 9 of 12

3534Sunan At-Tirmidhi

باب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ شَبِيبٍ السَّبَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ عَلَى إِثْرِ الْمَغْرِبِ، بَعَثَ اللَّهُ مَسْلَحَةً يَحْفَظُونَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ مُوجِبَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ مُوبِقَاتٍ، وَكَانَتْ لَهُ بِعَدْلِ عَشْرِ رِقَابٍ مُؤْمِنَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَلَا نَعْرِفُ لِعُمَارَةَ بْنِ شَبِيِبٍ سَمَاعًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمارہ بن شبیب سبائی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد دس بار کہا: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير» اللہ اس کی صبح تک حفاظت کے لیے مسلح فرشتے بھیجے گا جو اس کی شیطان سے حفاظت کریں گے اور اس کے لیے ان کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی جو اسے اجر و ثواب کا مستحق بنائیں گی اور اس کی مہلک برائیاں اور گناہ مٹا دیں گی اور اسے دس مسلمان غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا ۔

Sayyidina Umarah ibn ash-Shabib as-aba: reported that Allah’s Messenger ﷺ said that if anyone says: There is no Good but Allah, Alone, Who has no partner. To Him belongs the kingdom and to Him belongs all praise. He gives life and gives death and. He is ommipotent. ten times after maghrib then Allah will send to him an angel to protect him from the devil till morning. Ten pious deeds will be written down for him and ten destroying evils will be erased from him and reward for emancipating ten believing slaves will be recorded for him --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح الترغيب والترهيب (1 / 160 / 472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3534
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اور ہم عمارہ کا نبی اکرم ﷺ سے سماع نہیں جانتے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٨٨ (٥٧٧/٢) (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٠) (حسن) (تراجع الألبانی ٤٦٠)
3535Sunan At-Tirmidhi

توبہ اور استغفار اور اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُّ ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَكَّ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ، فَقُلْنَا لَهُ: وَيْحَكَ، اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى ذَكَرَ بَابًا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا عَرْضُهُ، أَوْ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي عَرْضِهِ أَرْبَعِينَ أَوْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ سُفْيَانُ: قِبَلَ الشَّامِ، خَلَقَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ مَفْتُوحًا يَعْنِي لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھنے آیا، انہوں نے (مجھ سے) پوچھا اے زر کون سا جذبہ تمہیں لے کر یہاں آیا ہے، میں نے کہا: علم کی تلاش و طلب مجھے یہاں لے کر آئی ہے، انہوں نے کہا: فرشتے علم کی طلب و تلاش سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، میں نے ان سے کہا: پیشاب پاخانے سے فراغت کے بعد موزوں پر مسح کی بات میرے دل میں کھٹکی (کہ مسح کریں یا نہ کریں) میں خود بھی صحابی رسول ہوں، میں آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اس سلسلے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنی ہے؟ کہا: جی ہاں (سنی ہے) جب ہم سفر پر ہوتے یا سفر کرنے والے ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر کے دوران تین دن و رات اپنے موزے نہ نکالیں، مگر غسل جنابت کے لیے، پاخانہ پیشاب کر کے اور سو کر اٹھنے پر موزے نہ نکالیں ، (پہنے رہیں، مسح کا وقت آئے ان پر مسح کرلیں) میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے انسان کی خواہش و تمنا کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے ایک اعرابی نے آپ کو یا محمد! کہہ کر بلند آواز سے پکارا، رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی کی آواز میں جواب دیا، آ جاؤ (میں یہاں ہوں) ہم نے اس سے کہا: تمہارا ناس ہو، اپنی آواز دھیمی کرلو، کیونکہ تم نبی اکرم ﷺ کے پاس ہو، اور تمہیں اس سے منع کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس بلند آواز سے بولا جائے، اعرابی نے کہا: (نہ) قسم اللہ کی میں اپنی آواز پست نہیں کروں گا، اس نے «المرء يحب القوم ولما يلحق بهم» ١ ؎ کہہ کر آپ سے اپنی انتہائی محبت و تعلق کا اظہار کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «المرء مع من أحب يوم القيامة» جو شخص جس شخص سے زیادہ محبت کرتا ہے قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ رہے گا ۔ وہ ہم سے (یعنی زر کہتے ہیں ہم سے صفوان بن عسال) حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے پچھمی سمت (مغرب کی طرف) میں ایک ایسے دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے (راوی کو شک ہوگیا ہے یہ کہا یا یہ کہا) کہ دروازے کی چوڑائی اتنی ہوگی ؛ سوار اس میں چلے گا تو چالیس سال یا ستر سال میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچے گا، سفیان (راوی) کہتے ہیں: یہ دروازہ شام کی جانب پڑے گا، جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے تبھی اللہ نے یہ دروازہ بھی بنایا ہے اور یہ دروازہ توبہ کرنے والوں کے لیے کھلا ہوا ہے اور (توبہ کا یہ دروازہ) اس وقت تک بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج اس دروازہ کی طرف سے (یعنی پچھم سے) طلوع نہ ہونے لگے۔

Zirr ibn Hubaysh (RA) narrated: I met Safwan ibn Assal al-Muradiy to ask him about wiping over socks (during ablution). he asked, “What has brought you here, O Zirr?” I said that acquisition of knowledge had brought me to him. He commented, “The angels spread their wings for the seeker of knowledge, pleased at what he desires.” I said that I was confused about wiping over the socks following answer of natures call, though I am one of the sahabah of the Prophet ﷺ . “So, I have come to ask you if you have heard him say anything about it.” He said, “Yes. He had commanded us that when we were on a journey or travellers we should not remove our socks for three days and three nights. But, bath against sexual defilement is an exception. As for ablution after answering nature’s call or awakening from sleep, the socks may be retained” I asked him if he had heard the Prophet ﷺ say anything about love. He said “Yes. We were with Allah’s Messenger on a journey. While we were with him, a villager called him in a loud, sonorous voice, “O Muhammad ﷺ ! So, Allah’s Messenger ﷺ commanded him in the same tone, ‘Come.’ We aid to him, Woe to you! soften your voice. You are before the Prophet ﷺ and you are forbidden this (behavriour).’ He said, ‘By Allah, I will not lower my. voice.’ He added, ‘A man loves his people though he has not met them.’ The Prophet ﷺ said, On the day of resurrection, a man will be with those he loves.’ Then, he did not cease to narrate to us till he said, ‘There is a door to the west whose width is like a journey of forty or seventy years.’ Sufyan said that the door was to the north. Allah created it on the very day He created the heavens and the earth. It lies open for repentance and will not be shut till the sun will rises from it (that is, the west).” [Ahmed 18113, Ibn e Majah 4070]

حسن، التعليق الرغيب (4 / 73)، وتقدم بعضه برقم (96)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3535
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن وہ ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٩٦ (حسن)
3536Sunan At-Tirmidhi

توبہ اور استغفار اور اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ، قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَفْعَلُ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّهُ حَاكَ أَوْ قَالَ: حَكَّ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَوْ مُسَافِرِينَ أُمِرْنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَادَاهُ رَجُلٌ كَانَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ أَعْرَابِيٌّ جِلْفٌ جَافٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَهْ إِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ زِرٌّ: فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158 الْآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ فرشتے طالب علم کے کام (و مقصد ) سے خوش ہو کر طالب علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے جی میں یہ خیال گزرا یا میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ بات کھٹکی، تو کیا اس بارے میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم جب سفر میں ہوں (یا سفر کرنے والے ہوں) تو ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم تین دن تک اپنے موزے پیروں سے نہ نکالیں، سوائے جنابت کی صورت میں، پاخانہ کر کے آئے ہوں یا پیشاب کر کے، یا سو کر اٹھے ہوں تو موزے نہ نکالیں ۔ پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو محبت و چاہت کے سلسلے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات یا د ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو آپ کو ایک آدمی نے جو لوگوں میں سب سے پیچھے چل رہا تھا اور گنوار، بیوقوف اور سخت مزاج تھا، بلند آواز سے پکارا، کہا: یا محمد! یا محمد! لوگوں نے اس سے کہا: ٹھہر، ٹھہر، اس طرح پکارنے سے تمہیں روکا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی کی طرح بھاری اور بلند آواز میں جواب دیا: بڑھ آ، بڑھ آ، آ جا آ جا (وہ جب قریب آگیا) تو بولا: آدمی کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے درجے تک نہیں پہنچا ہوتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو انسان جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ زر کہتے ہیں: وہ مجھ سے حدیث بیان کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ اللہ نے مغرب میں توبہ کا ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہ کیا جائے گا یہاں تک کہ سورج ادھر سے نکلنے لگے (یعنی قیامت تک) اور اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے:«يوم يأتي بعض آيات ربک لا ينفع نفسا إيمانها» جس دن کہ تیرے رب کی بعض آیات کا ظہور ہوگا اس وقت کسی شخص کو اس کا ایمان کام نہ دے گا (الأنعام: ١٥٨) ۔

This hadith is nearly the same as the previous hadith # 3546 except that the villager was called harsh and foolish.’ The hadith concludes: He then recited the verse: On the day when certain signs of your lord will come, to believe them shall not benefit a soul... (6: 158) [Ahmed 18115, Ibn e Majah 4070, Nisai 127] --------------------------------------------------------------------------------

حسن الإسناد انظر ما قبله (3535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3536
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد)
3537Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْمَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْجُبَيْرٍ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ (موت کے وقت) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed, Allah accepts repentance of His slave as long as he does not gasp for last breaths.” [Ahmed 6168, Ibn e Majah 4253]

حسن، ابن ماجة (4253) حسن، ابن ماجة (4253)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3537 ابوعامر عقدی نے عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ، اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3537
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: روح جسم سے نکلنے کے لیے اس کے گلے تک پہنچ نہ جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٠ (٤٢٥٣) (تحفة الأشراف: ٦٦٧٤) (حسن) انظر ماقبلہ (حسن)
3538Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا . قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مَكْحُولٍ، بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز (خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Allah is pleased with the repentance of one of you more than one of you is when he finds his lost camel.” [Ahmed 10503, Muslim 2675, Ibn e Majah 4247] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (4247)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3538
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، یعنی ابوالزناد کی روایت سے، ٢- یہ حدیث مکحول سے بھی ان کی اپنی سند سے آئی ہے، انہوں نے ابوذر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن مسعود، نعمان بن بشیر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بندوں کے ساتھ اللہ کے کمال رحمت کی دلیل ہے، اسی کمال رحمت کے سبب اللہ بندوں کی گمراہی، یا نافرمانی کی روش سے ازحد ناخوش ہوتا ہے، اور توبہ کرلینے پر ازحد خوش ہوتا ہے کہ اب بندہ میری رحمت کا مستحق ہوگیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ١ (٢٦٧٥/٢) (تحفة الأشراف: ١٣٨٨٠)، و مسند احمد (٢/٣١٦، ٥٠٠) (صحیح)
3539Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: قَدْ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ وَيَغْفِرُ لَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ مُحَمَدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آگیا تو انہوں نے کہا: میں نے تم لوگوں سے ایک بات چھپا رکھی ہے، (میں اسے اس وقت ظاہر کردینا چاہتا ہوں) میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ ایک ایسی مخلوق پیدا کر دے جو گناہ کرتی پھر اللہ انہیں بخشتا ١ ؎۔

Abu Sirmah reported about Sayyidina Abu Ayyub (RA) that when death approached him, he disclosed that he had kept something secret from the others that he had heard from Allah’s Messenger ﷺ . He had said, “If you people do not commit sin, Allah will create a people who will commit sin, and He will forgive them.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (967 - 970 و 1963) صحيح، الصحيحة (967 - 970 و 1963)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3539 محمد بن کعب قرظی سے اور محمد نے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3539
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث محمد بن کعب سے آئی ہے اور انہوں نے اسے ابوایوب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے «فیستغفرون فیغفرلہم» یعنی وہ گناہ کریں پھر توبہ و استغفار کریں تو اللہ انہیں بخش دیتا ہے، اس سے استغفار اور توبہ کی فضیلت بتانی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/التوبة ٢ (٢٧٤٨) (تحفة الأشراف: ٣٥٠٠) (صحیح) انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ٣٤٨٦) (صحیح)
3540Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ فَائِدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَال: سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي، يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ کہتا ہے: اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہوگی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے (مغفرت طلب کرنے کے لیے) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا (اور تجھے بخش دوں گا) ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I heard Allah’s Messenger relate a hadith Qudsi. Allah, the Blessed and Exalted said: O son of Aadam, as long as you pray to Me and place hope in Me, I will forgive you no matter how much it is against you, never mind. O son of Aadam, if your sins reach the borders of the sky and you seek forgiveness from Me, I will forgive you, never mind. O son of Adam, if you come to Me with sins as many as fill the earth and you meet Me with the earthful but without polytheism then I will come to you with as much forgiveness.

صحيح، الصحيحة (127 - 128)، الروض النضير (432)، المشکاة (4336 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيبصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3540
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مشرک کی بےانتہا خطرناکی اور توبہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٥٣) (صحیح)
3541Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ، وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں اور ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان دنیا میں رکھی، جس کی بدولت وہ دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آتے ہیں، جب کہ اللہ کے پاس ننانوے ( ٩٩) رحمتیں ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Allah has created a hundred mercies of which He placed among His creatures only one mercy. They show mercy to each other through that. And Allah has ninety-nine mercies.”

صحيح، ابن ماجة (4293 و 4294)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3541
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سلمان اور جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس ( ٩٩) رحمت کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ قیامت کے دن کرے گا، اس سے بندوں کے ساتھ اللہ کی رحمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، لیکن یہ رحمت بھی مشروط ہے شرک نہ ہونے اور توبہ استغفار کے ساتھ، ویسے بغیر توبہ کے بھی اللہ اپنی رحمت کا مظاہرہ کرسکتا ہے، «ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء» مگر مشرک کے ساتھ بغیر توبہ کے رحمت کا کوئی معاملہ نہیں «إن لایغفر أن یشرک بہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٩ (٦٤٦٩)، صحیح مسلم/التوبة ٤ (٢٧٥٢)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٤٢٩٣) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٧)، مسند احمد (٢/٤٣٣، ٥١٤) (صحیح)
3542Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مومن کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے یہاں کیسی کیسی سزائیں ہیں تو جنت کی کوئی امید نہ رکھے، اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع و عظیم ہے تو جنت میں پہنچنے سے کوئی بھی ناامید و مایوس نہ ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “If a believer were to know what punishment lies with Allah then none would aspire for paradise.And if a disbeliever were to know how much mercy is there with Allah then he too will not lose hope of it.” [Ahmed 8423, Bukhari 6469]

صحيح، الصحيحة (1634)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3542
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ہم اسے صرف ابو العلاء کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ اپنے والد اور ان کے والد ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان سزاؤں کے تعین میں اللہ نے کسی پر ظلم سے کام نہیں لیا ہے، یہ بالکل انصاف کے مطابق ہیں، اللہ بندوں کے لیے ظالم بالکل نہیں، رہی جنت کی رحمت کی بات تو وہ تو سو میں سے ننانوے کا معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٩ (٦٤٦٩)، صحیح مسلم/التوبة ٤ (٢٧٥٥) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٩)، و مسند احمد (٢/٣٣٤، ٣٩٧) (صحیح)
3543Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حِينَ خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنے آپ سے اپنی ذات پر لکھ دیا (یعنی اپنے آپ پر فرض کرلیا) کہ میری رحمت میرے غضب (غصہ) پر غالب رہے گی ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When Allah created the creation, He wrote down with His hand for Himself, ‘Indeed My mercy will overcome My wrath.” [lMuslim 4295, Ahmed 9603]

حسن صحيح، ابن ماجة (189)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3543
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١ (٣١٩٤)، والتوحید ١٥ (٧٤٠٤)، و ٢٧ (٧٤٥٣)، و ٥٤ (٧٥٥٣، ٧٥٥٤)، صحیح مسلم/التوبة ٤ (٢٧٥١)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨٩)، والزہد ٣٥ (٤٢٩٥) (تحفة الأشراف: ١٤١٣٩)، و مسند احمد (٢/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٦٠، ٣١٣، ٣٥٨، ٣٨١، ٣٩٧) (حسن صحیح)
3544Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَرَجُلٌ قَدْ صَلَّى وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ بِمَ دَعَا اللَّهَ ؟ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَنَسٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام» اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے گی اللہ اسے قبول کرلے گا، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی جائے گی اسے عطا فرما دے گا ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that when the Prophet ﷺ once came into the mosque, a man had offered his salah and was making supplication. He said: O Allah, there is no God but You, the Benefactor, Originator of the heavens and the earth, Owner of Majesty and Benevolence. The Prophet ﷺ said to his sahabah (RA) “Do you realise what he is supplicating Allah with? He has prayed to Allah with His Great name with which if one prays to Him, He responds and if one asks Him, He gives.” [Ahmed 13571] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3544
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی انس سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٥)، سنن النسائی/السھو ٥٨ (١٣٠١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٨) (تحفة الأشراف: ٤٠٠، ٩٣٦)، و مسند احمد (٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥) (صحیح)
3545Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: أَوْ أَحَدُهُمَا . قًالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَيُرْوَى عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فِي الْمَجْلِسِ أَجْزَأَ عَنْهُ مَا كَانَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اور وہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بنا سکے ہوں ، عبدالرحمٰن (راوی) کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے دونوں ماں باپ کہا۔ یا یہ کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی بڑھاپے میں پایا (اور ان کی خدمت کر کے اپنی مغفرت نہ کر الی ہو) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘And may his nose be dusty before whom I am mentioned and he does not invoke blessings on me. And may his nose he dusty who finds (the month of) Ramadan but it passed away before he was forgiven. And may his nose be dusty who has his parents in their old age but they could not (be a means to) admit him to paradise.” Abdur Rahman (a narrator) said that he thought he said “Or, one of them.” [Ahmed 7455]

حسن صحيح، المشکاة (927)، التعليق الرغيب (2 / 283)، فضل الصلاة علی النبي صلی اللہ عليه وسلم (16)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3545
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ربعی بن ابراہیم اسماعیل بن ابراہیم کے بھائی ہیں اور یہ ثقہ ہیں اور یہ ابن علیہ ١ ؎ ہیں، ٣- اس باب میں جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب مجلس میں آدمی ایک بار رسول اللہ ﷺ کو درود بھیج دے تو اس مجلس میں چاہے جتنی بار آپ کا نام آئے ایک بار درود بھیج دینا ہر بار کے لیے کافی ہوگا (یعنی ہر بار درود بھیجنا ضروری نہ ہوگا) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی ماں کا نام علیہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف والجملة الأخیرة عند مسلم في البر والصلة ٣ (٢٥٥١) (تحفة الأشراف: ١٢٩٧٧)، و مسند احمد (٢/٢٥٤) (حسن صحیح)
3546Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَخِيلُ الَّذِي مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ (درود) نہ بھیجے ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The miser is he before whom I am mentioned but he does not invoke blessings on me.” [Ahmed 1736]

صحيح، المشکاة (933)، فضل الصلاة (14 / 31 - 39)، التعليق الرغيب (2 / 284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3546
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٣٤١٢) (صحیح)
3547Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ بَرِّدْ قَلْبِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کرتے تھے: «اللهم برد قلبي بالثلج والبرد والماء البارد اللهم نق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» اے اللہ! تو میرے دل کو ٹھنڈا کر دے برف اور اولے سے اور ٹھنڈے پانی سے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک و صاف کر دے جیسا کہ تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Abu Awfa reported that Allah’s Messenger ﷺ made this supplication: OAllah, cool my heart with ice and cold water. O Allah, purify my heart of sin as You purify white graments of dirt.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3547
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥١٧٥) (صحیح)
3548Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فُتِحَ لَهُ مِنْكُمْ بَابُ الدُّعَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَمَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا يَعْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ الْعَافِيَةَ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ فَعَلَيْكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِالدُّعَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيِّ وَهُوَ الْمَكِّيُّ الْمُلَيْكِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ،وَقَدْ رَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا سُئِلَ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَافِيَةِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، بِهَذَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا تو اس کے لیے (گویا) رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے، اور اللہ سے مانگی جانے والی چیزوں میں سے جسے وہ دے اس سے زیادہ کوئی چیز پسند نہیں کہ اس سے عافیت مانگی جائے ،

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger s aid, ‘He for whom doors of supplication are opened has the doors of mercy opened for him. And Allah is not asked for anything dearer to Him than asking Him for health (and security).” And, Allah’s Messenger said, “Prayer benefits against what has come down and against what has not come down. So, it is upon you, O servants of Allah, that you supplicate.”

(حديث: من فتح له منکم باب ... ) ضعيف، (حديث: إن الدعاء ينفع مما .. ) حسن (حديث: إن الدعاء ينفع مما ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272)، (حديث: من فتح له منکم باب ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) // (حديث: من فتح له منکم باب ... ) ضعيف، (حديث: إن الدعاء ينفع مما .. ) حسن (حديث: إن الدعاء ينفع مما ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272)، (حديث: من فتح له منکم باب ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) // (حديث: من فتح له منکم باب ... ) ضعيف، (حديث: إن الدعاء ينفع مما .. ) حسن (حديث: إن الدعاء ينفع مما ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272)، (حديث: من فتح له منکم باب ... )، المشکاة (2239)، التعليق الرغيب (2 / 272) // ضعيف الجامع الصغير (5720) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3548 اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دعا نازل شدہ مصیبت، اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے، تو اے اللہ کے بندو! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3548 یہ حدیث اسرائیل نے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے، آپ نے فرمایا: اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3548
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابوبکر قرشی کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ملی کی ہیں اور یہ حدیث میں ضعیف مانتے جاتے ہیں، انہیں بعض اہل علم نے حافظہ کے اعتبار سے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٥١٥ (ضعیف) (حسن) (صحیح الترغیب) انظر ما قبلہ (ضعیف) (تلخیص المستدرک ١/٤٩٨)
3550Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر (سال) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The age of my followers (ummah) will be between sixty and seventy years. And, (there will be) few of them who will surpass that.” [Ibn e Majah 4236] --------------------------------------------------------------------------------

حسن وقد مضی بنحوه برقم (2447)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3550
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے یعنی محمد بن عمرو کی روایت سے جسے وہ ابی سلمہ سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٢- ہم (ابوسلمہ کی) اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے آئی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے: کتاب الزہد، «باب ما جاء في فناء أعماء ہذہ الأمۃ» (رقم ٢٣٣١) وہاں یہ حدیث بطریق: «أبی صالح، عن أبی ہریرۃ» آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٧ (٤٢٣٦)، وانظر حدیث رقم ٢٣٣١ (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٧) (حسن)
3551Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو، يَقُولُ: رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا مانگتے ہوئے یہ کہتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامکر لي ولا تمکر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني علی من بغی علي رب اجعلني لک شکارا لک ذکارا لک رهابا لک مطواعا لک مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، اے اللہ! تو میری تائید و نصرت فرما اور میرے خلاف کسی کی تائید و نصرت نہ فرما، اور میرے لیے تدبیر فرما اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ فرما، اور اے اللہ! تو مجھے ہدایت بخش اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما، اور اے اللہ! میری مدد فرما اس شخص کے مقابل میں جو میرے خلاف بغاوت و سرکشی کرے، اے میرے رب! تو مجھے اپنا بہت زیادہ شکر گزار بندہ بنا لے، اپنا بہت زیادہ یاد و ذکر کرنے والا بنا لے، اپنے سے بہت ڈرنے والا بنا دے، اپنی بہت زیادہ اطاعت کرنے والا بنا دے، اور اپنے سامنے عاجزی و فروتنی کرنے والا بنا دے، اور اپنے سے درد و اندوہ بیان کرنے اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا دے۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما اور میرے گناہ دھو دے، اور میری دعا قبول فرما، اور میری حجت (میری دلیل) کو ثابت و ٹھوس بنا دے، اور میری زبان کو ٹھیک بات کہنے والی بنا دے، میرے دل کو ہدایت فرما، اور میرے سینے سے کھوٹ کینہ حسد نکال دے ۔

Sayyidma Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ used to make this supplication: My Lord, help me but do not help against me. Give me victory but not give victory over me. Scheme for me but not give against me. And guide me and make guidance easy for me, and help me against those who oppress me. O Lord, make me to You grateful, remembering You, fearing You, obedient to You, humble before You, my Lord, accept my repentance and wash away my sins; grant my prayer, and make my plea strong, and make my tongue straight (away from wrong words).. Guide my heart and take away envy from my bosom. [Abu Dawud 1510, Ibn e Majah 3830, Ahmed 1997] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3830) صحيح، ابن ماجة (3830)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3551 محمود بن غیلان کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن بشر عبدی نے یہ حدیث سفیان کے واسطہ سے اسی طرح بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3551
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٠ (١٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٢ (٣٨٣١) (تحفة الأشراف: ٥٧٦٥)، و مسند احمد (١/٢٢٧) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3552Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَعَا عَلَى مَنْ ظَلَمَهُ فَقَدِ انْتَصَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي حَمْزَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کے خلاف بد دعا کی تو اس نے اس سے بدلہ لے لیا ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays against one who oppresses him then he has indeed seized (his) revenge.”

ضعيف، الضعيفة (4593) // ضعيف الجامع الصغير (5578) // ضعيف، الضعيفة (4593) // ضعيف الجامع الصغير (5578) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3552 حمید بن عبدالرحمٰن نے ابولاحوص کے واسطہ سے ابوحمزہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3552
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے حمزہ کی روایت سے جانتے ہیں اور حمزہ کے بارے میں بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے، اور یہ میمون الاعور ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٠٠٣) (ضعیف) (سند میں ” میمون ابو حمزہ “ ضعیف ہیں) انظر ما قبلہ (ضعیف)
3553Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كَانَتْ لَهُ عِدْلَ أَرْبَعِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل . قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ مَوْقُوفًا.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دس بار: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير» اللہ واحد کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں اسی کے لیے ہے ملک (بادشاہت) اسی کے لیے ہے ساری تعریفیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، کہا تو یہ (اس کا اجر) اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا ١ ؎۔ یہ حدیث ابوایوب ؓ سے موقوفاً بھی روایت ہوئی ہے۔

Sayyidina Abu Ayyub (RA) Ansari reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone repeats ten times: There is no God but Allah Alone, Who has no partner. To Him belongs all dominion and for Him is all praise (He gives life and gives death) and He is over all things powerful. then for him is a reward of releasing four slaves who were offspring of Isma’il. [Bukhari 6404, Muslim 2693, Ahmed 23605]

صحيح الضعيفة تحت الحديث (5126)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3553
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اونچے حسب و نسب والے چار غلام آزاد کرنے کے ثواب برابر اجر عطا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٦٤ (٦٤٠٤)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٠ (٢٦٩٣) (تحفة الأشراف: ٣٤٧١) (صحیح)
3554Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُمَوْلَى صَفِيَّةَ، قَال: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهَا، فَقُلْتُ: لَقَدْ سَبَّحْتُ بِهَذِهِ، فَقَالَ: أَلَا أُعَلِّمُكِ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَبَّحْتِ بِهِ ؟ فَقُلْتُ: بَلَى عَلِّمْنِي، فَقَالَ: قُولِي سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفِيَّةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هَاشِمِ بْنِ سَعِيدٍ الْكُوفِيِّ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمَعْرُوفٍ، وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

کنانہ مولی صفیہ کہتے ہیں کہ میں نے صفیہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اس وقت میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیوں کی ڈھیر تھی، میں ان گٹھلیوں کے ذریعہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، میں نے کہا: میں نے ان کے ذریعہ تسبیح پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ میں تمہیں اس سے زیادہ تسبیح کا طریقہ بتادوں جتنی تو نے پڑھی ہیں؟ میں نے کہا: (ضرور) مجھے بتائیے، تو آپ نے فرمایا: «سبحان اللہ عدد خلقه» میں تیری مخلوقات کی تعداد کے برابر تیری تسبیح بیان کرتی ہوں ، پڑھ لیا کرو۔

Savvidah Safiyah narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to me while I had four thousand seeds of dates on which I (counted and) glovified Allah. He said, “You have glorified Allah on these seeds. Shall I not teach you a more rewarding glorification?” I said, “Yes, do teach me,” so he instructed me to say: Glorified be Allah to the number of His creation.

منکر الرد علی التعقيب الحثيث (35 - 38) // ضعيف الجامع الصغير (2167 و 4122) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3554
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صفیہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ہاشم بن سعید کوفی کی روایت سے اور اس کی سند معروف نہیں ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٩٠٤) (منکر) (سند میں ” ہاشم بن سعید کوفی “ ضعیف ہیں، اس بابت صحیح حدیث اگلی حدیث ہے)