ام المؤمنین جویریہ بنت حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ (اس وقت) اپنی مسجد میں تھیں (جہاں وہ باقاعدہ گھر میں نماز پڑھتی تھیں) ، دوپہر میں رسول اللہ ﷺ کا ان کے پاس سے پھر گزر ہوا، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: تب سے تم اسی حال میں ہو؟ (یعنی اسی وقت سے اس وقت تک تم ذکرو تسبیح ہی میں بیٹھی ہو) انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند کلمے ایسے نہ سکھا دوں جنہیں تم کہہ لیا کرو۔ (اور پھر پورا ثواب پاؤ) وہ کلمے یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه، سبحان اللہ عدد خلقه، سبحان اللہ عدد خلقه، سبحان اللہ رضا نفسه، سبحان اللہ رضا نفسه، سبحان اللہ رضا نفسه، سبحان اللہ زنة عرشه، سبحان اللہ زنة عرشه، سبحان اللہ زنة عرشه، سبحان اللہ مداد کلماته، سبحان اللہ مداد کلماته، سبحان اللہ مداد کلماته» ١ ؎۔
Sayyidah Juwayriyah bint Harith (RA) narrated : The Prophet ﷺ went by me while I was on the prayer rug. He again came there around noon time and asked me, “Are you still here in the same state? I said, “Yes” He asked, Shall I not teach you expressions that you might repeat?” (They are) Glory be to Allah to the number of His creatures. Glory be to Allah to the number of His creatures. Glory be to Allah to the number of His creatures. Glory be to Allah in accordance to His pleasure. Glory be to Allah in accrdance to His pleasure. Glory be to Allah in accordance with His pleasure. Glory be to Allah to the weight of His throne. Glory be to Allah to the weight of His throne. Glory be to Allah to the weight of His throne. Glory be to Allah to the extent of His words. Glory be to Allah to the extent of His words. Glory be to Allah to the extent of His words. [Ahmed 26820, Bukhari 3555, Muslim 2726, Ibn e Majah 3808] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3808)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3555
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ مدینہ کے رہنے والے شیخ ہیں اور ثقہ ہیں، یہ حدیث مسعودی اور ثوری نے بھی ان سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہو اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر ( تین بار ) میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی رضا و خوشنودی کے برابر ( تین بار ) ، میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کے عرش کے وزن کے برابر ( تین بار ) ، میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کے کلموں کی سیاہی کے برابر ( تین بار )۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢٧٢٦)، سنن النسائی/السھو ٩٤ (١٣٥٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٦ (٣٨٠٨) (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٨)، و مسند احمد (٦/٣٢٥) (صحیح)
سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ «حيي كريم» ہے یعنی زندہ و موجود ہے اور شریف ہے اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ جب کوئی آدمی اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دے تو وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو خالی اور ناکام و نامراد واپس کر دے ۔
Sayyidina Salman Farisi (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed, Allah is Modest and Benevolent. He feels ashamed when a man raises his hands before Him in prayer that He should return them empty.’ [Abu Dawud 1488, Ibn e Majah 3865, Ahmed 23775]
صحيح، ابن ماجة (3865)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3555
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض دوسروں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٨٨)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٣ (٣٨٦٥) (تحفة الأشراف: ٤٤٩٤)، و مسند احمد (٥/٤٨٥) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ایک سے ایک سے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that a man made supplication with his two fingers. So Allah’s Messenger said, “Make prayer with one, one.” [Ahmed 10744] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، صفة الصلاة، المشکاة (913)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3557
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کردی ہے کہ یہ تشہد ( اولیٰ اور ثانیہ ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو باربار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائے گی، نہ کہ صرف «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» پر جیسا کہ ہند و پاک میں رائج ہوگیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
رفاعہ بن رافع انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق ؓ منبر پر چڑھے، اور روئے، پھر کہا: رسول اللہ ﷺ ہجرت کے پہلے سال منبر پر چڑھے، روئے، پھر کہا: اللہ سے (گناہوں سے) عفو و درگزر اور مصیبتوں اور گمراہیوں سے عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔
Rifaah reported that Abu Bakr (RA) as-Siddiq stood on the pulpit and wept and said, Allah’s Messenger stood on the pulpit in the first year (of hijrah) and wept and said: “Ask Allah for pardon and health, for none is given anything better than health, after faith.” [Ahmed 46]
حسن صحيح، ابن ماجة (3849)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3558
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوبکر ؓ کی سند سے حسن غریب ہے۔
ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گناہ کر کے توبہ کرلے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مصر اور بضد نہیں مانا جائے گا ۔
Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He does not insist who seeks forgiveness though he may do it seventy times a day.” [Abu Dawud 1514]
ضعيف، المشکاة (2340)، ضعيف أبي داود (267) // (326 / 1514)، ضعيف الجامع الصغير (5004) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3559
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف ابونصیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ٣- اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥١٤) (تحفة الأشراف: ٦٦٢٨) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
ابوامامہ الباہلی ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں ، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي کساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that Umar ibn Khattab wore new garments and made this supplication: Praise belongs to Allah who clothed me with what I may cover myself and may adorn my life with it.Then he said, “I had heard Allah’s Messenger say: If any one wears a new garment and says: and gives away his old garment in charity then he is in Allah’s care, His protection and cover as long as he is alive and when he dies. [Ibn e Majah 3557]
ضعيف، ابن ماجة (3557) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (782)، المشکاة (4374)، ضعيف الجامع الصغير (5827) //
ضعيف، ابن ماجة (3557) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (782)، المشکاة (4374)، ضعيف الجامع الصغير (5827) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3560
یحییٰ بن ابی ایوب نے یہ حدیث عبیداللہ بن زحر سے، عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے اور علی بن یزید نے قاسم کے واسطہ سے ابوامامہ سے روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3560
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اللباس ٢ (٣٥٥٧) (تحفة الأشراف : ١٠٤٦٧) (ضعیف) (سند میں ” ابوالعلاء الشامی “ مجہول راوی ہے)
انظر ما قبلہ (ضعیف)
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نجد کی طرف ایک فوج بھیجی تو اس نے بہت ساری غنیمت حاصل کیا اور جلد ہی لوٹ آئی، (جنگ میں) نہ جانے والوں میں سے ایک نے کہا: میں نے اس فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں دیکھی جو اس فوج سے زیادہ جلد لوٹ آنے والی اور زیادہ مال غنیمت لے کر آنے والی ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے لوگوں کی ایک جماعت نہ بتاؤں جو زیادہ غنیمت والی اور جلد واپس آ جانے والی ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز فجر میں حاضر ہوتے ہیں پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے یہ لوگ (ان سے) جلد لوٹ آنے والے اور (ان سے) زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab (RA( reported that the Prophet ﷺ sent an army to Najd. They collected a large booty and hastened their return. A man who was among those who had not gone said, “We have not seen such a quick return with a booty better than this army.” The Prophet ﷺ i said, “Shall I not pointout to you a people with a better booty and a quicker return? A people who prayed the salah of fajr with the congregatior and sat down remembering Allah till sunrise. They are quicker returners and have a better booty.”
ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 166)، الصحيحة تحت الحديث (3531) // ضعيف الجامع الصغير (2164) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3561
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- حماد بن ابی حمید یہ محمد بن ابی حمید ہیں، اور یہ ابوابراہیم انصاری مدنی ہیں ١ ؎۔ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا نام محمد ہے، حماد ان کا لقب ہے اور ابوابراہیم ان کی کنیت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٤٠٠) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن أبی حمید المقلب بـ ” حماد “ ضعیف ہیں)
عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے (اجازت دیتے ہوئے) کہا: اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں ۔
It is reported that Sayyidina Umar (RA) requested the Prophet ﷺ for permission to perform umerah. He said, “Yes, brother, include us in your prayers. and do not forget us.” [Abu Dawud 1498, Ibn e Majah 2894, Ahmed 195]
ضعيف، ابن ماجة (2894)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3562
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥ (٢٨٩٤) (ضعیف) (سند میں ” عاصم بن عبید اللہ “ ضعیف ہیں)
علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب غلام نے ١ ؎ ان کے پاس آ کر کہا کہ میں اپنی مکاتبت کی رقم ادا نہیں کر پا رہا ہوں، آپ ہماری کچھ مدد فرما دیجئیے تو انہوں نے کہا: کیا میں تم کو کچھ ایسے کلمے نہ سکھا دوں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھائے تھے؟ اگر تیرے پاس «صیر» پہاڑ کے برابر بھی قرض ہو تو تیری جانب سے اللہ اسے ادا فرما دے گا، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اکفني بحلالک عن حرامک وأغنني بفضلک عمن سواک» اے اللہ! تو ہمیں حلال دے کر حرام سے کفایت کر دے، اور اپنے فضل (رزق، مال و دولت) سے نواز کر اپنے سوا کسی اور سے مانگنے سے بےنیاز کر دے ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated that a mukatab came to him and said, “I have no hope of buying my freedom, So, help me out.” He said, “Shall I not teach you words that Allah’s Messenger ﷺ taught me saying that if you are in debts as much as the size of a mountain, Allah will pay them off for you.” (say): O Allah let me suifice with Your lawful sustenance abstaining from Your unlawful, sustenance and cause me, by Your favour, to be independent of tho.e other than You. Ahmed 1318] --------------------------------------------------------------------------------
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے ۔
Savyidina All reported that when the Prophet ﷺ visited the sick, he prayed: Remove this plight, O Lord ot mankind. And cure, You are who cures. There is no cure except Your healing a cure that will not leave behind a sickness. [Ahmed 567] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3565
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٠٥٠) (حسن) (حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، صحیحین میں یہ حدیث عائشہ ؓ سے آئی ہے)
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی (نماز) وتر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت علی نفسک» ١ ؎۔
Sayyidina Ali reported that the Prophet ﷺ made this supplication in witr (salah): O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and in Your forgiveness from Your punishment; and I seek refuge in You from You. I cannot do justice to Your praise as is worth’ of You. You are as You have praised yourself. [Ahmed 751] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1179)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3566
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث علی کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، یعنی حماد ابن سلمہ کی روایت سے۔
فائدہ ١ ؎: اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے بچ کر تیری رضا و خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیرے عذاب و سزا سے بچ کر تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے، میں تیری ثناء (تعریف) کا احاطہٰ و شمار نہیں کرسکتا تو تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے آپ کی ثناء و تعریف کی ہے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥١ (١٧٤٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٧ (١١٧٩) (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٧)، و مسند احمد (١/٩٦، ١١٨، ١٥٠) (صحیح)
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (وہ کلمے یہ تھے) : «اللهم إني أعوذ بک من الجبن وأعوذ بک من البخل وأعوذ بک من أرذل العمر وأعوذ بک من فتنة الدنيا وعذاب القبر» اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ذلیل ترین عمر سے (یعنی اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوس کچھ نہ رہ جائے) اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے ۔
Mus’abibn Sad and Amr ibn Maymun reported about Sayyidina Sad ‘ that he taught his sons these words as a teacher teaches his students, saying that Allah’s Messenger would seek refuge with these words after salah: O Allah, I seek refuge in You from cowardie, and I seek vefuge in You from niggardliness, and I seek refuge in You from faint, feeble old age, and I seek refuge in you from the trial of this world and punishment in the grave. [Bukhari 2822, Nisai 5457, Ahmed 1585]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3567
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ابواسحاق ہمدانی اس حدیث میں اضطرب کا شکار تھے، کبھی کہتے تھے: روایت ہے عمرو بن میمون سے اور وہ روایت کرتے ہیں عمر سے، اور کبھی کسی اور سے کہتے اور اس روایت میں اضطراب کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٢٥ (٢٨٢٢)، والدعوات ٣٧ (٦٣٦٥)، و ٤١ (٦٣٧٠)، و ٤٤ (٦٣٧٤)، و ٥٦ (٦٣٩٠)، سنن النسائی/الاستعاذة ٥ (٥٤٤٧)، و ٦ (٥٤٤٩) (تحفة الأشراف: ٢٩١٠، و ٢٩٣٢)، و مسند احمد (١/١٨٣، ١٨٦) (صحیح)
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، ان کے ذریعہ وہ تسبیح پڑھا کرتی تھی، آپ نے اس سے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے آسان طریقہ نہ بتادوں؟ یا اس سے افضل و بہتر طریقہ نہ بتادوں؟ (کہ ثواب میں بھی زیادہ رہے اور لمبی چوڑی گنتی کرنے سے بھی بچا رہے) وہ یہ ہے: «سبحان اللہ عدد ما خلق في السماء، و سبحان اللہ عدد ما خلق في الأرض، و سبحان اللہ عدد ما بين ذلك، و سبحان اللہ عدد ما هو خالق، والله أكبر مثل ذلك، والحمد لله مثل ذلك، ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے آسمان میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اللہ کی اتنی جتنی اس نے زمین میں چیزیں پیدا کی ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ ان دونوں کے درمیان چیزیں ہیں، اور پاکی ہے اس کی اتنی جتنی کہ وہ (آئندہ) پیدا کرنے والا ہے، اور ایسے ہی اللہ کی بڑائی ہے اور ایسے ہی اللہ کے لیے حمد ہے اور ایسے ہی لا حول ولا قوۃ ہے، (یعنی اللہ کی مخلوق کی تعداد کے برابر) ۔
Sayyidin Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) narrated: I went with Allah’s Messenger a woman. She had before her seeds or pebbles on which she glorified Allah. He said, “Shall I tell you about something easier than that or more excellent than that?” (say): Glorified be Allah to the extent of what He has created in the heaven. And, glorified be Allah to the extent of what He has created on earth. And, glorified be Allah to the number between them. And, glorified be Allah to the number He will create. And, Allah is the Greatest----like that. And, praise belongs to Allah----like that. And, there is no power and no might except with AIlah----like that. [Abu Dawud 1500]
منکر الرد علی التعقيب الحثيث ص (23 - 35)، المشکاة (2311)، الضعيفة (83)، الکلم الطيب (13 / 4) // ضعيف الجامع الصغير (2155) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3568
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث سعد کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٩ (١٥٠٠) (تحفة الأشراف: ٣٩٥٤) (منکر) (سند میں خزیمہ مجہول راوی ہے)
زبیر بن عوام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی صبح ایسی نہیں ہے کہ اللہ کے بندے صبح کرتے ہوں اور اس صبح میں کوئی پکار کر کہنے والا یہ نہ کہتا ہو کہ «سبحان الملک القدوس» کی تسبیح پڑھا کرو۔
Sayyidina Zubayr ibn Awwarru ‘ narrated: The Prophet ﷺ said, “There is no morning on which a slave awakens but a caller calls : glorify The king, The sacred.’
ضعيف، الضعيفة (4496) // ضعيف الجامع الصغير (5188) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3569
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٤٧) (ضعیف) (سند میں ” موسیٰ بن عبیدہ “ ضعیف، اور ان کے استاذ ” محمد بن ثابت “ مجہول ہیں)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ اسی دوران علی ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہوسکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: «سوف أستغفر لکم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے (پہر) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورة فاتحہ اور سورة یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورة فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورة فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورة فاتحہ اور تبارک (مفصل) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں صلاۃ پر (درود) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو: «اللهم ارحمني بترک المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالک ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ کتابک کما علمتني وارزقني أن أتلوه علی النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالک ونور وجهك أن تنور بکتابک بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تغسل به بدني فإنه لا يعينني علی الحق غيرک ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر (اچھی نظر) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال (رعب و داب والے) اکرام (عزت و بزرگی والے) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کرسکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور چہرے کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب (قرآن پاک) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، (جاہ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ (تمنا اور خواہش) ہی نہ کرسکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے (مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہوجائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے (میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے (میں پاک و صاف رہنے لگوں) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کرسکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی ۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کرلی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا، عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! علی ؓ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے (اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: While we were seated with Allah’s Messenger, Ali ibn Abu Talib came. He said, “May my parents be ransomed to you. This Qur’an is heavy, on my bosom and I do not find myself remembering it. “So, Allah’s Messenger ﷺ said to him, “O Abu Hasan, shall I not teach you words whereby Allah will benefit you and also benefit those whom you teach them? Whatever you learn will remain firm in your heart.” He said, ‘Yes, O Messenger of Allah, so teach me.’ So, he said : When it is Friday night, and if you can, then stand (in prayer) in the last one-third of the night for that is an auspicious hour and prayer in it is granted. My brother Ya’qub, had said to his sons, “I will make istighfar for you to my Lord,” meaning on the night of Friday. But, if you cannot then stand in the middle of the night. If you cannot, them stand in the first part of it, pray four raka’a. In the first raka’ah, recite the fatihatul-kitab (surah al-Fatihah) and surah Yasin, In the second recite fatjhatul Kitab and HaMeen ad-Dukhan and in the third recite fatihatul Kitab and Alif Laam Meem Tanzil-as-Sajdah and in the fourth Fatihatul Kitab and Tabarak, the whole. When you have finsihed with the tashahhad, praise Allah and glorify Him in the best way, and invoke blessing on me, making it well, and on all the Prophets. Seek forgiveness for all the believers men and women and your brothers who have preceded you in faith. Then say in the end of that: O Allah, have mercy on me that I may give up sin always as long as You spare me (to live), And have mercy on me that I may not indulge in that which is of no conseqence to me. Provide me deep insight to do what pleases You with me. O Allah, Originator of heavens and earth, Owner of Majesty and Benevolence and of night unfathomed, I ask you, O Allah, O Compassionate (Rahman), by Your Majesty and the light of Your countenance that You cause my heart to necessarily memorise (and retain) Your Book as You have taught me, and enable me to recite it in such a manner as pleases You with me. O Allah, Originator of the heavens and earth, Owner of Majesty and Benevolence and of Might unfathomed! I ask You, O Allah, O Compassionate, by Your Majesty and light of Your countenance that You illuminate with Your Book my sight, and that You make fluent thereby my tongue, and that You open my heart with it, and that You expand my bossom with it, and that You wash my body with it. For, indeed, there is none to help me attain the truth except You. And none will give it besides You. And there is no power and no might except with Allah, the Elevated, the Mighty. O Abdul Hasan,.do that for three Fridays or five, or seven. You will be granted, with Allah’s command. And, by Him Who has sent me with Truth, no believer who makes this supplication will ever be deprived. Ibn Abbas (RA) asserted: By Allah, Ali had not passed but five or seven (Fridays) when he came to Allah’s Messenger ﷺ like that (earlier) gathering and exclaimed, O Messenger of Allah, before this I would learn four verses or so but when I tried to recollect them to myself, I would grope for them. But now, I learn today forty verses or so and when I recite them to myself, it is as though the Book of Allah is before my eyes. Also, I would hear a hadith, but when I intended to recall it, I would fail to narrate it. But now,, today, I hear the hadith and as I narrate it, I do not miss a word.” So, Allah’s Messenger ﷺ said to him, “In that case, you are a Believer, by the lord of the Ka’bah, O Abdul Hasan.” --------------------------------------------------------------------------------
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٩٢٧، و ٦١٥٢) (موضوع) (سند میں ” ولید بن مسلم “ تدلیس تسویہ کرتے تھے، اور یہ روایت ان کی ان روایتوں میں سے ہے جن کو کسی کذاب اور واضاع سے لے کر ” عنعنہ “ کے ذریعہ تدلیس تسویہ کردیا، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم ٣٣٧٤)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ کو یہ پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، اور افضل عبادت یہ ہے (کہ اس دعا کے اثر سے) کشادگی (اور خوش حالی) کا انتظار کیا جائے ۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Ask Allah for His favour, for Allah surely loves that He is asked (for something). The best of worship is to wait for supplication to be granted.”
ضعيف، الضعيفة (492) // ضعيف الجامع الصغير (3278) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3571
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حماد بن واقد نے ایسی ہی روایت کی ہے، اور ان کی روایت میں اختلاف کیا گیا ہے، ٢- حماد بن واقد یہ صفار ہیں، حافظ نہیں ہیں، اور یہ ہمارے نزدیک ایک بصریٰ شیخ ہیں، ٣- ابونعیم نے یہ حدیث اسرائیل سے، اسرائیل نے حکیم بن جبیر سے اور حکیم بن جبیر نے ایک شخص کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، اور ابونعیم کی حدیث صحت سے قریب تر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٥١٥) (ضعیف) (سند میں ” حماد بن واقد “ ضعیف ہیں)
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من الکسل والعجز والبخل» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سستی و کاہلی سے، عاجزی و درماندگی سے اور کنجوسی و بخیلی سے ،
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that the Prophet. used to make this supplication: O Allah, I seek refuge in You from sloth, inability and nigardliness.” And through the same sanad, it is reported that the Prophet ﷺ sought refuge from decrepitude and punishment in the grave. [Ahmed 12114, Bukhari 2823, Muslim 2722, Nisai 5468] --------------------------------------------------------------------------------
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین پر کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو گناہ اور قطع رحمی کی دعا کو چھوڑ کر کوئی بھی دعا کرتا ہو اور اللہ اسے وہ چیز نہ دیتا ہو، یا اس کے بدلے اس کے برابر کی اس کی کوئی برائی (کوئی مصیبت) دور نہ کردیتا ہو ، اس پر ایک شخص نے کہا: تب تو ہم خوب (بہت) دعائیں مانگا کریں گے، آپ نے فرمایا: اللہ اس سے بھی زیادہ دینے والا ہے ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit reported that Allah’s Messenger ﷺ said, There is no Muslim on the face of the earth who prays a prayer, but Allah grants him exactly what he wants, or removes from him a like amount of evil, provided he does not pray for a sin or severing ties of relationship.” A man of the group exclaimed, “Then we will make much supplication.” He said, “Allah will grant more than that.” [Ahmed 22849] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، التعليق الرغيب (2 / 271 - 272)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3573
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر (یہ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منک إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے ، پس اگر تو اپنی اس رات میں مرگیا تو فطرت (اسلام) پر مرے گا، براء ؓ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہوجائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولک الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: (رسول نہ کہو بلکہ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے ۔
Sayyidina Bara (RA) reported that the Prophet ﷺ said: When you take to your bed, make ablution like your ablution for salah. Then lie down on your right side and say: O Allah, I have surrendered my countenance to You and entrusted my affairs to You and taken You as my Protector during hope and fear. There is no refuge and no esscape from You except to (turn to) You. I believe in Your Book that You have revealed and in Your Prophet ﷺ whom You have sent. Thus, if You happen to die that night of Yours, You will die on fitrah. Bara (RA) reported that he repeated these words to memorise them but concluded, “I have believed in Your Messenger whom You have sent.” The Prophet ﷺ corrected him and asked him to say, “I have believed in Your Prophet ﷺ whom you have sent.” [Ahmed 18585, Bukhari 5046, Muslim 2710, Abu Dawud 5046, lMuslim 3876]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3574
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔
عبداللہ بن خبیب ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چناچہ میں آپ کو پا گیا، آپ نے فرمایا: کہو (پڑھو) ، تو میں نے کچھ نہ کہا: کہو آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، (کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟ ) آپ نے پھر فرمایا: کہو ، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» اور «المعوذتين» («قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔
Sayyidina Abdullah ibn Khubayb narrated: We went out on a rainy, extremely dark night seeking Allah’s Messenger i, that he might lead us in salah. I found him. He said to me, “Say!” But I did not say anything. Then he said, “Say!” Again, I did not say anything. Once again he said, “Say!” I asked, “What shall I say?” He said, “Say: Say: He is Allah the One and Only. (112:1) (Surah al-Ikhlas) al-Falaq and an-Naas when you are in the evening and in the morning, three times. This will suffice you in everything.” [Abu Dawud 5082, Nisai 5443]