دعاؤں کے بارے میں مختلف احادیث
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ: اللَّهُمَّ أَذْهِبْ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ.
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کسی بیمار کی عیادت کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم أذهب البأس رب الناس واشف فأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے اللہ! اے لوگوں کے رب! عذاب و تکلیف کو دور کر دے اور شفاء دیدے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری دی ہوئی شفاء کے سوا کوئی شفاء نہیں ہے، ایسی شفاء دے کہ بیماری کچھ بھی باقی نہ رہے ۔
Savyidina All reported that when the Prophet ﷺ visited the sick, he prayed: Remove this plight, O Lord ot mankind. And cure, You are who cures. There is no cure except Your healing a cure that will not leave behind a sickness. [Ahmed 567] --------------------------------------------------------------------------------