عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے باپ کے پاس آئے، ہم نے آپ کے کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تو آپ نے اس میں سے کھایا، پھر آپ کے لیے کچھ کھجوریں لائی گئیں، تو آپ کھجوریں کھانے اور گھٹلی اپنی دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی (شہادت اور بیچ کی انگلی سے (دونوں کو ملا کر) پھینکتے جاتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: جو میں کہہ رہا ہوں وہ میرا گمان و خیال ہے، اللہ نے چاہا تو صحیح ہوگا، آپ دونوں انگلیوں کے بیچ میں گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے تھے، پھر آپ کے سامنے پینے کی کوئی چیز لائی گئی تو آپ نے پی اور اپنے دائیں جانب ہاتھ والے کو تھما دیا (جب آپ چلنے لگے تو) آپ کی سواری کی لگام تھامے تھامے میرے باپ نے آپ سے عرض کیا، آپ ہمارے لیے دعا فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: «اللهم بارک لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطا فرما اور انہیں بخش دے اور ان پر رحمت نازل فرما ۔
Sayyidina Abdullah ibn Busr narrated Allah’s Messenger ﷺ visited my father. We presented food to him and he ate from it. Then dates were brought. He ate them and cast aside their seeds with his two fingers-forefinger and middle finger. Shu’bah said, “This is my recollection and, Insha Allah, it is correct. He coast aside the seeds with his two fingers.” Then something to drink was brought to him and he drank it and passed it on to the one sitting to his right. Then my father held the reins of his beast and requested him, “Do pray for us.” He said: O Allah, bless them the sustenance that You have provided them. And, forgive them and have mercy on them. [Ahmed 17699, Muslim 2042, Abu Dawud 3729, Nisai 293] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3576
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی یہ حدیث عبداللہ بن بسر سے آئی ہے۔
زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص کہے: «أستغفر اللہ العظيم الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» میں مغفرت مانگتا ہوں اس بزرگ و برتر اللہ سے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جو زندہ ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ، تو اس کی مغفرت کردی جائے گی اگرچہ وہ لشکر (و فوج) سے بھاگ ہی کیوں نہ آیا ہو۔
Sayyidina Zayd reported that he heard the Prophet ﷺ say that if anyone says: I seek forgiveness of Allah Who besides Whom there is no God, the Ever-Living, the Self-Subsisting. And I repent to Him, then Allah will forgive him even if he has fled the battlefield. [Abu Dawud 1517]
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 269)، صحيح أبي داود (1358)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3577
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥١٧) (صحیح) (سند میں بلال اور یسار بن زید دونوں باپ اور بیٹے مجہول راوی ہیں، لیکن ابن مسعود وغیرہ کی احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، صحیح سنن أبی داود ١٣٥٨، صحیح الترغیب والترہیب ١٦٢٢، الصحیحة ٢٧٢٧)
عثمان بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر (و سود مند) ہے ۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألک وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضی لي اللهم فشفعه» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ١ ؎۔
Sayyidina Uthman ibn Hunayf (RA) narrated: A man who was blind came to the Prophet ﷺ and requested Pray to Allah that He may give me health. He said, “If ‘ou wish, (will pray for you; but if you wish, you may be patient, for that is better for you.’ He said that he may pray for him. So, the Prophet ﷺ commanded him to make ablution and make it very well and pray in these words: O Allah, I ask you—-and plead to you through your Prophet ﷺ Muhammad, Prophet ﷺ of rnercy---l plead by your virtueO to my Lord for my need, this one, that it be granted to me. O Allah, accept his intercession for me. [lMuslim 1384, Ahmed 17240]
صحيح، ابن ماجة (1385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3578
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ٢- اور ابوجعفر خطمی ہیں ٣- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی وہ مشہور روایت ہے جس سے انبیاء اور اولیاء کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے، بعض محدثین نے تو اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے، اور جو لوگ اس کو صحیح قرار دیتے ہیں، ان میں سے سلفی منہج و فکر کے علماء ( جیسے امام ابن تیمیہ و علامہ البانی نے اس کی توجیہ کی ہے کہ نابینا کو اپنی ذات بابرکات سے وسیلہ پکڑنے کا مشورہ آپ ﷺ نے نہیں دیا تھا، بلکہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کی دعا اس نے کی، اور اب آپ کی وفات کے بعد ایسا نہیں ہوسکتا، اسی لیے عمر ؓ نے قحط پڑنے پر آپ کی قبر شریف کے پاس آ کر آپ سے دعا کی درخواست نہیں کی، ( آپ کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کی بات تو دور کی ہے ) بلکہ انہوں نے آپ کے زندہ چچا عباس ؓ سے دعا کرائی، اور تمام صحابہ نے اس پر ہاں کیا، تو گویا یہ بات تمام صحابہ کے اجماع سے ہوئی، کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ کیوں نہ نابینا کی طرح آپ سے دعا کی درخواست کی جائے، اور اس دعا یا آپ کی ذات کو وسیلہ بنایا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٩ (١٣٨٥) (تحفة الأشراف: ٩٧٦٠) (صحیح)
عمرو بن عنبسہ ؓ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: رب تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتا ہے، تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہو کر ان لوگوں میں سے ہوجاؤ (یعنی تہجد پڑھو) ۔
Sayyidina Amr ibn Abasah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘The nearest to the Lord is the slave in the last portion of the night. So, if you can be among those who remember Allah in that hour, then be (among them).’ [Abu Dawud 1277, Ahmed 17023]
عمارہ بن زعکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل (دشمن) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے ۔
Sayyidina Umarah ibn Za’karah (RA) narrated: I heard Allah’s Messenger ﷺ say. ‘Surely, Allah the Glorious, the Majestic says, ‘My slave is he who remembers Me even during jihad when he fights the enemy.’
ضعيف، الضعيفة (3135) // ضعيف الجامع الصغير (1750) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3580
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم ﷺ سے کوئی اور روایت نہیں جانتے، ٢- اللہ کے قول «وهو ملاق قرنه» کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور ایسی گھڑی میں بھی وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٣٧٩) (ضعیف) (سند میں ” عفیر بن معدان “ ضعیف ہیں)
قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (سعد بن عبادہ) نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرنے کے لیے آپ کے حوالے کردیا، وہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، آپ نے اپنے پیر سے (مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے) ایک ٹھوکر لگائی پھر فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتادوں ، میں نے کہا: کیوں نہیں ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے۔
Sayyidina Qays ibn Ubadahh (RA) reported that his father placed him at the disposal of the Prophet ﷺ that he may serve him. He said, “The Prophet ﷺ passed by me while I was offering salah. (when I had finished), he struck me with his foot and said, “Shall I not guide you to a door of the doors of paradise? I said, “Certainly!” He said: (There is no power and no might save with Allah)
صحيح، الصحيحة (1746)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3581
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٠ (٣٥٥) (تحفة الأشراف: ١١٠٩٧)، و مسند احمد (٣/٤٢٢) (صحیح)
حمیضہ بنت یاسر اپنی دادی یسیرہ ؓ سے روایت کرتی ہیں، یسیرہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے تھیں، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: تمہارے لیے لازم اور ضروری ہے کہ تسبیح پڑھا کرو تہلیل اور تقدیس کیا کرو ١ ؎ اور انگلیوں پر (تسبیحات وغیرہ کو) گنا کرو، کیونکہ ان سے (قیامت میں) پوچھا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کردی جائے گی، اور تم لوگ غفلت نہ برتنا کہ (اللہ کی) رحمت کو بھول بیٹھو ۔
امام ترمذی کہتے: ہم اس حدیث کو صرف ہانی بن عثمان کی روایت سے جانتے ہیں اور محمد بن ربیعہ نے بھی ہانی بن عثمان سے روایت کی ہے۔
Sayyidah Yusayrah (RA) who was one of the muhajirs narrated: Allah’s Messenger ﷺ said to us, “It is binding on you women to observe tasbih, tahlil and taqdis.O And reckon them on the tips of your fingers, for, they will be questioned (on the day of Resurrection) and given speech (to reply). And, do not be neglectful, for you will (thereby) forget mercy. [Abu Dawud 1501, Ahmed 27157]
حسن، صحيح أبي داود (1345)، المشکاة (2316)، الضعيفة تحت الحديث (83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3583
Notes · وضاحت
١ ؎: «تسبیح» «سبحان اللہ» کہنا، «تہلیل» «لا إله إلا الله» کہنا اور «تقدیس» «سبحان الملک القدوس» یا «سبوح قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح» کہنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٥٠١) (تحفة الأشراف: ١٨٣٠١)، و مسند احمد (٦/٣٧١) (حسن)
انس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ جہاد کرتے (لڑتے) تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت عضدي وأنت نصيري وبك أقاتل» اے اللہ! تو میرا بازو ہے، تو ہی میرا مددگار ہے اور تیرے ہی سہارے میں لڑتا ہوں ۔
Sayyidina Anas reported that when he was in a battle the Prophet ﷺ made this supplication: O Allah, you are my Support and you are my Help and I fight with your backing. [Ahmed 12908, Abu Dawud 2632]
صحيح الکلم الطيب (125)، صحيح أبي داود (2366)، // صحيح الکلم الصفحة (50) أتم من هنا //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3584
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے ٢- اور «عضدی» کے معنی ہیں تو میرا مددگار ہے۔
عبداللہ عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک جو کچھ (بطور ذکر) کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير» اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے (ساری کائنات کی) بادشاہت ہے، اسی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔
Amr ibn Shu’ayb m reported from his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ said, “The best of supplication is the supplication on the day of Arafah. And the best of what I said - I and the Prophets before me is: There is no God but Allah Who is Alone. He has no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise And He is over all things power ful.
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- حماد بن ابی حمیدیہ محمد بن ابی حمید ہیں اور ان کی کنیت ابوابراہیم انصاری مدنی ہے اور یہ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٦٩٨) (حسن) (سند میں حماد (محمد) بن ابی حمید ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے سکھایا، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألک من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں ۔
Sayyidina Umar ibn Khattab said, “The Messenger of Allah ﷺ commanded me to make this supplication: O Allah, cause my unseen to be better than my known conduct and let my known conduct be righteous. O Allah, I ask You for the good of what You grant people: wealth, wives and children neither misled nor misleading. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (2504 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4097) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3586
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں (یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی) اور «سبابہ» (شہادت کی انگلی) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي علی دينك» اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے ۔
Aasim ibn Kulayb al-Jarmi reported from his father who from his grandfather that he narrated: I went to the Prophet ﷺ He was offering salah. He had placed his left hand on his left thigh and had placed his right hand on his right thigh. He had closed his fist and had put his fore-finger straight forward and was praying: O Director of hearts, cause my heart to be steadfast on your religion. --------------------------------------------------------------------------------
منکر بهذا السياق وانظر الأحاديث (291 - 293 و 2226 و 3588) // وهي في صحيح سنن الترمذي - باختصار السند بالأرقام الآتية (238 / 292 - 240 / 294 و 1739 / 2240 و 2792 / 3768) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3587
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٨٤٨) (منکر) (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، سند میں ” عبداللہ بن معدان ابو سعدان “ لین الحدیث ہیں، اور یہ حدیث اس بابت دیگر صحیح احادیث کے برخلاف ہے)
ثابت بنانی اپنے شاگرد محمد بن سالم سے کہتے ہیں کہ جب تمہیں درد ہو تو جہاں درد اور تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھو پھر پڑھو: «بسم اللہ أعوذ بعزة اللہ وقدرته من شر ما أجد من وجعي هذا» اللہ کے نام سے اللہ کی عزت و قدرت کے سہارے میں اپنی اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کر رہا ہوں پناہ چاہتا ہوں ۔، پھر (درد کی جگہ سے) ہاتھ ہٹا لو پھر ایسے ہی طاق (تین یا پانچ یا سات) بار کرو، کیونکہ انس بن مالک نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایسا ہی بیان کیا۔
Muhammad in Saalim reported from Thabit al-Bunani that he said to him: O Muhammad ﷺ , if you have pain then put your hand on the troubled spot and say: In the name of Allah. I seek refuge in the Might of Allah and His Power from the mischief of that which I find of this pain. Then raise your hand and repeat this exercise an odd number of times, Indeed, Anas ibn Maalik had reported to me that Allah’s Messenger ﷺ narrated it to him. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (1258)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3588
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور محمد بن سالم یہ بصریٰ شیخ ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ دعا سکھائی: «اللهم هذا استقبال ليلک واستدبار نهارک وأصوات دعاتک وحضور صلواتک أسألك أن تغفر لي» اے اللہ! یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت ہے اور تجھے یاد کرنے کی آوازوں اور تیری نماز کے لیے پہنچنے کا وقت ہے میں (ایسے وقت میں) اپنی مغفرت کے لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں ۔
Sayyidah Umm Salamah narrated: Allahs Messenger ﷺ taught me this prayer: O Allah, this is the hour welcoming Your night and bidding farewell to Your day-and the sounds of supplicating ‘You and presenting Your salah-I beseech You to forgive me.
ضعيف الکلم الطيب (76 / 35)، ضعيف أبي داود (85) // (105 / 530) //، المشکاة (669)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3589
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- حفصہ بنت ابی کثیر کو ہم نہیں جانتے اور نہ ہی ہم ان کے باپ کو جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٩ (٥٣٠) (تحفة الأشراف: ١٨٢٤٦) (ضعیف) (سند میں ابوکثیر لین الحدیث راوی ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی کوئی بندہ خلوص دل سے «لا إله إلا الله» کہے گا اور کبائر سے بچتا رہے گا تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، اور یہ کلمہ «لا إله إلا الله» عرش تک جا پہنچے گا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “If anyone says sincerely "There is no God but Allah" then the gates of heaven are opened for him till it is carried over to the Throne, provided he has kept away from the major sins.
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بک من منکرات الأخلاق والأعمال والأهواء» اے اللہ! میں تجھ سے بری عادتوں، برے کاموں اور بری خواہشوں سے پناہ مانگتا ہوں ۔
Ziyad ibn Ilaqah reported from his uncle that the Prophet ﷺ prayed: O Allah, I seek refuge in You from evil morals and tall desires.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ١ ؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة وأصيلا» اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام ، رسول اللہ ﷺ نے (سنا تو) پوچھا: ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑگیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی ہے میں نے ان کا پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا ہے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that while they were offering salah with Allah’s Messenger a man in the congregation said: Allah is the Greatest, very Great, And praise belongs to Allah very much. And glorified be Allah in the morning and in the evening. Allah’s Messenger said, “Who was that speaker who said those words?” A man in the congregation offered, “I am he, O Messenger of Allah.” He said, “I was surprised that gates of the heaven were opened for it.” Ibn Umar (RA) said, “I have not ceased to repeat those words since I heard that from Allah’s Messenger ﷺ [Muslim 601, Nisai 882, Ahmed 4627] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صفة الصلاة (74)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- حجاج بن ابی عثمان یہ حجاج بن میسرہ صواف ہیں، ان کی کنیت ابوصلت ہے اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔
فائدہ ١ ؎: نماز پڑھ رہے تھے سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کرچکے تھے، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعا ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے اس کی تقریر (تصدیق) کردی، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعا بھی ایک ثناء ہے، امام نسائی دعا ثناء کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ «سبحانک اللہم …» کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن و نوافل سے تعلق رکھتی ہیں، صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٦٠١)، سنن النسائی/الافتتاح ٨ (٨٨٦) (تحفة الأشراف: ٧٣٦٩)، و مسند احمد (٢/١٤) (صحیح)
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی عیادت کی (یہاں راوی کو شبہ ہوگیا) یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے (اور وہ یہ ہے) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے ۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ paid me a sick visit, or I paid him a sick visit. So Abu Dharr (RA) said, “O Messenger of Allah, may my parents be ransomed to you, which of the expressions is dearest to Allah?” He said, “The one that Allah has chosen for His angels: Glorified is my Lord and with His praise, glorified is my Lord and with His praise. [Muslim 2731, Ahmed 21378]
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی ، (یعنی قبول ہوجاتی ہے) لوگوں نے پوچھا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: دنیا اور آخرت (دونوں) میں عافیت مانگو ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The supplication that is not rejected is the one made between the dhan and the iqamah.” The sahabah (RA) asked, “So what shall we pray, “O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Ask Allah for security in this world and the next.” [Ahmed 12201, Abu Dawud 521]
منکر بهذا التمام، لکن قوله:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3594
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: دنیا و آخرت میں عافیت (یعنی امن و سکون) مانگو ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢١٢ (منکر) حدیث کا پہلا فقرہ صحیح ہے، لیکن اس کے بعد کا قصہ ” منکر “ ہے اس لیے کہ سند میں یحییٰ بن الیمان اور زید العمی دونوں ضعیف راوی ہیں، اور قصے کا شاہد موجود نہیں ہے، تراجع الالبانی ١٤٠)
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے ، (یعنی ضرور قبول ہوتی ہے۔ )
Mahmud ibn Ghaylan reported from Waki and Abdur Razzaq and Abu Ahmad and Abu Na’aym from Sufyan, from Zayd al-Ammiy, from Mu’awiyah ibn Qurrah, from Anas ibn Maalik (RA) from the Prophet ﷺ He said, “The supplication is not rejected between the Adhan and the iqamah.”
صحيح وقد مضی (212)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3595
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابواسحاق ہمدانی نے برید بن ابی مریم کوفی سے اور برید کوفی نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے ایسے ہی روایت کی ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔