Sunan At-Tirmidhi 3594

دعاؤں کا بیان

3594Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ ، قَالُوا: فَمَاذَا نَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَقَدْ زَادَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ هَذَا الْحَرْفَ قَالُوا: فَمَاذَا نَقُولُ ؟ قَالَ: سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ .

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا لوٹائی نہیں جاتی ، (یعنی قبول ہوجاتی ہے) لوگوں نے پوچھا: اس دوران ہم کون سی دعا مانگیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: دنیا اور آخرت (دونوں) میں عافیت مانگو ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The supplication that is not rejected is the one made between the dhan and the iqamah.” The sahabah (RA) asked, “So what shall we pray, “O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Ask Allah for security in this world and the next.” [Ahmed 12201, Abu Dawud 521]

منکر بهذا التمام، لکن قوله:صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3594
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، یحییٰ بن ابان نے اس حدیث میں اس عبارت کا اضافہ کیا ہے کہ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کیا کہیں؟ آپ نے فرمایا: دنیا و آخرت میں عافیت (یعنی امن و سکون) مانگو ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢١٢ (منکر) حدیث کا پہلا فقرہ صحیح ہے، لیکن اس کے بعد کا قصہ ” منکر “ ہے اس لیے کہ سند میں یحییٰ بن الیمان اور زید العمی دونوں ضعیف راوی ہیں، اور قصے کا شاہد موجود نہیں ہے، تراجع الالبانی ١٤٠)