ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The mufarridun have taken the lead.” They asked, “O Messenger of Allah, who are the mufarridun? He said, “They are addicted to dhkr (remembrance) of Allah. Dhikr casts off from them their burden (of sin). So they will come on the Day of Resurection, light.”
ضعيف، الضعيفة (3690) // ضعيف الجامع الصغير (3240) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3596
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٤١١) (ضعیف) (سند میں ” عمر بن راشد “ ضعیف ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساری کائنات سے کہ جس پر سورج طلوع ہوتا ہے مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں: «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر» اللہ پاک ہے، تعریف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، کہوں۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said : That I say “Glory be to Allah and all praise belongs to Allah and there is no God but Allah and Allah is the Greatest. “ is dearer to me than everything on which the sun rises. [Muslim 2695, Nisai 841]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3597
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی: ایک روزہ دار، جب تک کہ روزہ نہ کھول لے، (دوسرے) امام عادل، (تیسرے) مظلوم، اس کی دعا اللہ بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور رب کہتا ہے: میری عزت (قدرت) کی قسم! میں تیری مدد کروں گا، بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘Three people will not be rejected their prayer: the one who fasts, at the time he takes iftar, the imam who is just and the oppressed, when he prays, Allah raises his prayer above the clouds and gates of heaven are opened for him and the Lord says, “By My Honour, I will surely help you though after somtime.” [Ibn e Majah 1752, Ahmed 9749)
ضعيف، لكن، الصحيحة منه الشطر الأول بلفظ: .... المسافر مکان الإمام العادل، وفي رواية الوالد، ابن ماجة (1752)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3598
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- سعدان قمی یہ سعدان بن بشر ہیں، ان سے عیسیٰ بن یونس، ابوعاصم اور کئی بڑے محدثین نے روایت کی ہے ٣- اور ابومجاہد سے مراد سعد طائی ہیں ٤- اور ابومدلہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے آزاد کردہ غلام ہیں ہم انہیں صرف اسی حدیث کے ذریعہ سے جانتے ہیں اور یہی حدیث ان سے اس حدیث سے زیادہ مکمل اور لمبی روایت کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٨ (١٧٥٢) (تحفة الأشراف: ١٥٤٥٧)، و مسند احمد (٢/٣٠ ¤ ٤- ٣٠٥، ٤٤٥، ٤٧٧) (ضعیف) (” الإمام العادل “ کے لفظ سے ضعیف ہے، اور ” المسافر “ کے لفظ سے صحیح ہے، سند میں ابو مدلہ مولی عائشہ “ مجہول راوی ہے، نیز یہ حدیث ابوہریرہ ہی کی صحیح حدیث جس میں ” المسافر “ کا لفظ ہے کے خلاف ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم ١٣٥٨، والصحیحة رقم: ٥٩٦)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا پڑھی: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما الحمد لله علی كل حال وأعوذ بالله من حال أهل النار» اے اللہ! مجھے اس علم سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے وہ علم سکھا جو مجھے فائدہ دے اور میرا علم زیادہ کر، ہر حال میں اللہ ہی کے لیے تعریف ہے اور میں جہنمیوں کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed: O Allah, give me benefit from that which You have taught me, and teach me that which will benefit me, and increase me in knowledge, Praise belongs to Allah in every condition and I seek refuge in Allah from the condition of the dwellers of hell. [Ibn e Majah 251]
صحيح دون قوله: والحمد لله ...، ابن ماجة (251 و 3833 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3599
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥١)، والدعاء (٣٨٣٣) (تحفة الأشراف: ١٤٣٥٦) (صحیح) ” الحمد للہ۔۔۔ الخ) کا لفظ صحیح نہیں ہے، سند میں محمد بن ثابت مجہول راوی ہے، مگر پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی ٤٦٢)
ابوہریرہ ؓ یا ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ بھی کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، جب وہ کسی قوم کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں: آؤ آؤ یہاں ہے تمہارے مطلب و مقصد کی بات، تو وہ لوگ آ جاتے ہیں، اور انہیں قریبی آسمان تک گھیر لیتے ہیں، اللہ ان سے پوچھتا ہے: میرے بندوں کو کیا کام کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم انہیں تیری تعریف کرتے ہوئے تیری بزرگی بیان کرتے ہوئے اور تیرا ذکر کرتے ہوئے چھوڑ آئے ہیں، وہ کہتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے (یا بن دیکھے ہوئے ہی میری عبادت و ذکر کئے جا رہے ہیں) وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، اللہ کہتا ہے: اگر وہ لوگ مجھے دیکھ لیں تو کیا صورت و کیفیت ہوگی؟ وہ جواب دیتے ہیں، وہ لوگ اگر تجھے دیکھ لیں تو وہ لوگ اور بھی تیری تعریف کرنے لگیں، تیری بزرگی بیان کریں گے اور تیرا ذکر بڑھا دیں گے، وہ پوچھتا ہے: وہ لوگ کیا چاہتے اور مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: وہ لوگ جنت مانگتے ہیں، اللہ پوچھتا ہے کیا ان لوگوں نے جنت دیکھی ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: اگر یہ دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟ وہ کہتے ہیں: ان کی طلب اور ان کی حرص اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی، وہ پھر پوچھتا ہے: وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: جہنم سے، وہ پوچھتا ہے: کیا ان لوگوں نے جہنم دیکھ رکھی ہے؟ وہ کہتے ہیں: نہیں، وہ پوچھتا ہے: اگر یہ لوگ جہنم کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہوگی؟ وہ کہتے ہیں: اگر یہ جہنم دیکھ لیں تو اس سے بہت زیادہ دور بھاگیں گے، زیادہ خوف کھائیں گے اور بہت زیادہ اس سے پناہ مانگیں گے، پھر اللہ کہے گا میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کی مغفرت کردی ہے ، وہ کہتے ہیں: ان میں فلاں خطاکار شخص بھی ہے، ان کے پاس مجلس میں بیٹھنے نہیں بلکہ کسی ضرورت سے آیا تھا، (اور بیٹھ گیا تھا) اللہ فرماتا ہے، یہ ایسے (معزز و مکرم) لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشیں بھی محروم نہیں رہ سکتا (ہم نے اسے بھی بخش دیا) ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah has travelling angels on earth quite apart from the recorders of men’s deeds. When they come across people remembering Allah, they call each other to their goal They come to them and cover them up to the heaven above earth. Allah asks them “In what deed did you leave My slaves?” They say, “We left them praising You, extolling You and remembering You,” He asks, “Have they seen Me?” They say, “They have not seen You.” He asks, “Then how will they act if They see Me?” They say, ‘.If they see You then they will exert themselves more in prasing You, more in extolling You and more in remembering You.” He asks. “What were they wishing for?” They say, “They wished for paradise.” He asks, “Have they seen it?” They answer,”No,” He asks, “How will it be if they see it?” They say, “Were they to see it, they would be more desirous of it and more eager for it.” Allah asks, “From what do they seek refuge?” They say, “They seek refuge from hell.” He asks, “Have they seen it?” They say “No!” He asks “How would they behave if they see it?” They say, “Were they to see it, they would flee from it with greater force, aid fear it more and seek refinge from it more severely.” He says, “I make you witnesses that I kave forgiven them.” They say, “Among them was a certain man who came incidentally, with no intention to join them. He had come to them for a need.” He says, “They are a people, none who sits with them will be miserable.” [Ahmed 7428, 8713] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3600
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٠١٥، و ١٢٥٤٠)، و مسند احمد (٢/٢٥١) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ مکحول کہتے ہیں: جس نے کہا: «لا حول ولا قوة إلا بالله ولا منجا من اللہ إلا إليه» تو اللہ تعالیٰ اس سے ستر طرح کے ضرر و نقصان کو دور کردیتا ہے، جن میں کمتر درجے کا ضرر فقر (و محتاجی) ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “Recite frequently: There is no power and no might except with Allah. It is a treasure of paradise. Makhul said that if anyone says: There is no power and no might except with Allah and no refuge from Him except in Him, then seventy doors of harm are removed from him, the humblest of them being poverty. [Ahmed 8414]
صحيح دون قول مکحول فمن قال ... فإنه مقطوع، الصحيحة (105 و 1528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3601
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس کی سند متصل نہیں ہے، مکحول نے ابوہریرہ ؓ سے نہیں سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٦٢١) (صحیح) (سند میں مکحول اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لیے مکحول کا قول، سنداً ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، الصحیحة ١٠٥، ١٥٢٨)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاء اللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہوگا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every Prophet ﷺ has a supplication that is granted. I have held in abeyance my supplication for intercession for my ummah and it will be available to everyone of them who dies without having associated anything with Allah.” [Ahmed 10315, Bukhari 6304, Muslim 198, Ibn e Majah 4307] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3602
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر اس شخص کو اللہ کے رسول ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی جس نے کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا مشرک خواہ غیر مسلموں کا ہو، یا نام نہاد مسلمانوں کا شرک کے مرتکب کو یہ شفاعت نصیب نہیں ہوگی، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حق مذہب وہی ہے جس کے قائل سلف صالحین ہیں، یعنی موحد گناہوں کے سبب ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا، گناہوں کی سزا بھگت کر آخری میں جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، الا یہ کہ توبہ کرچکا ہو تو شروع ہی میں جنت میں چلا جائے گا، ان شاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٦ (١٩٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣٠٧) (تحفة الأشراف: ١٢٥١٢)، و مسند احمد (٢/٢٧٥، ٣١٣، ٣٨١، ٣٩٦، ٤٠٩، ٤٢٦، ٤٣٠، ٤٨٦، ٤٨٧)، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٥ (٢٨٤٧، ٢٨٤٨) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میں اپنے بندے کے میرے ساتھ گمان کے مطابق ہوتا ہوں ١ ؎، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے جماعت (لوگوں) میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں (یعنی فرشتوں میں) اگر کوئی مجھ سے قریب ہونے کے لیے ایک بالشت آگے بڑھتا ہے تو اس سے قریب ہونے کے لیے میں ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہوں، اور اگر کوئی میری طرف ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ بڑھتا ہوں، اگر کوئی میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah says, “I am as My slave expects Me. I am with him when he remembers Me. If he mentions Me, in his mind, I remember him to Myself. If he remembers Me in a company, I remember him in company better than them. If he comes towards Me by a span, I approach him by a cubit. If he comes nearer Me by a cubit, I come near to him by two cubits. If he comes to Me walking, I come to him running.” [Ahmed 7426, Muslim 2675, Ibn e Majah 3822]
صحيح، ابن ماجة (3822)
صحيح، ابن ماجة (3822)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3603
سعید بن جبیر اس آیت: «فاذکروني أذكركم» کے بارے میں فرماتے ہیں: «اذکروني» سے مراد یہ ہے کہ میری اطاعت کے ساتھ مجھے یاد کرو میں تمہاری مغفرت میں تجھے یاد کروں گا۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3603
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس حدیث کی تفسیر میں اعمش سے مروی ہے کہ اللہ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں ، اس سے مراد یہ ہے کہ میں اپنی رحمت و مغفرت کا معاملہ اس کے ساتھ کرتا ہوں، ٣- اور اسی طرح بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس سے مراد جب بندہ میری اطاعت اور میرے مامورات پر عمل کر کے میری قربت حاصل کرنا چاہتا ہے تو میں اپنی رحمت و مغفرت لے کر اس کی طرف تیزی سے لپکتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اگر مومن بندہ اپنے تئیں اللہ سے یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے گا، میرے اوپر رحمت کرے، مجھے دین و دنیا میں بھلائی سے بہرہ ور کے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس حسن ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہے، بعض شارحین کہتے ہیں: یہاں ظن گمان نہیں یقین کے معنی میں ہے، یعنی: بندہ جیسا اللہ سے یقین رکھتا ہے اللہ ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥)، و ٣٥ (٧٥٠٥)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٦ (٢٦٧٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٨ (٣٨٢٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٥) (وراجع ماتقدم عند المؤلف في الزہد (برقم ٢٣٨٨) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «استعيذوا بالله من عذاب جهنم واستعيذوا بالله من عذاب القبر استعيذوا بالله من فتنة المسيح الدجال واستعيذوا بالله من فتنة المحيا والممات» اللہ سے پناہ مانگو جہنم کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے، اللہ سے پناہ مانگو مسیح دجال کے فتنے سے اور اللہ سے پناہ مانگو زندگی اور موت کے فتنے سے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Seek refuge in Allah from punishment in hell. Seek refuge in Allah from punishment in the grave. Seek refuge in Allah from the mischief of the dajjal and seek refuge in Allah from the trial through life and death. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح الإسناد، صفة الصلاة (163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3604
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٩٢ (٥٩٠)، و مسند احمد (٢/٢٩٠) (تحفة الأشراف: ١٢٧٥٣) (صحیح)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah (ra) narrated that : the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you leaves his bed then returns to it, then let him brush it off with the edge of his Izar three times, for indeed, he does not know what succeeded him upon it after him. When he lies down, let him say: ‘In Your Name, my Lord, I lay my side down, and in Your Name I raise it. And if You take my soul, then have mercy upon it, and if You release it, then protect it with that which You protect Your righteous worshipers (Bismika rabbī waḍa`tu janbī wa bika arfa`uhu, fa’in amsakta nafsī farḥamhā wa in arsaltahā faḥfaẓhā bimā taḥfaẓu bihī `ibādakaṣ-ṣāliḥīn)’ And when he awakens, let him say: All praise is due to Allah, Who healed me in my body, and returned to me my soul, and permitted me to remember Him (Al-ḥamdulillāh alladhī `āfānī fī jasadī wa radda `alayya rūḥī wa adhina lī bidhikrih).’”
نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر انہوں نے کہا: اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے میں جب اپنے بستر پر جانے لگوں تو پڑھ لیا کروں، آپ نے فرمایا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھ لیا کرو، کیونکہ اس سورۃ میں شرک سے برأۃ ( نجات ) ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: ( ہمارے استاذ ) ابواسحاق کبھی کہتے ہیں کہ سورۃ «قل يا أيها الكافرون» ایک بار پڑھ لیا کرو، اور کبھی ایک بار کا ذکر نہیں کرتے۔
Farwah bin Nawfal (ra) narrated that: He came to the Prophet (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, teach me something that I may say when I go to my bed.” So he said: “Recite: Say: ‘O you disbelievers’ for verily it is a disavowal of Shirk.” Shu`bah said: “Sometimes he would say: ‘One time’ and sometime he would not say it.” (Another chain) from Farwah bin Nawfal, from his father: That he came to the Prophet (ﷺ) then he mentioned similar in meaning. And this is more correct. [Abu `Eisa said:] And Zubair reported this hadith from Ishaq, from Farwah bin Nawfal, from his father from the Prophet (ﷺ), with similar wording. This is more appropriate and more correct than the narration of Shu`bah. The companions of Abu Ishaq were confused in the narration of this hadith. This hadith has been reported through routes other than this. `Abdur-Rahman is the brother of Farwah bin Nawfal.
نبی اکرم ﷺ سورۃ الزمر اور سورۃ بنی اسرائیل جب تک پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی ہے کہ ابولبابہ کا نام مروان ہے، اور یہ عبدالرحمٰن بن زیاد کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے سنا ہے اور ان ( ابولبابہ ) سے حماد بن زید نے سنا ہے۔
`A'isha (ra) said: “The Prophet (ﷺ) would not sleep until he recited Az-Zumar and Banu Isra’il.” Muhammad bin Ismail informed me: “This Abu Lubabah’s (a narrator in the chain) name is Marwan, the freed slave of Abdur-Rahman bin Ziyad. He heard from Aisha, and Hammad bin Zaid heard from him.”
عباس رضی الله عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو ان انہوں نے کوئی بات سنی ( جس کی انہوں نے آپ کو خبر دی ) نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھ گئے، اور پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ لوگوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول! آپ پر اللہ کی سلامتی نازل ہو، آپ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو مجھے سب سے بہتر گروہ میں پیدا کیا، پھر اس گروہ میں بھی دو گروہ بنا دیئے اور مجھے ان دونوں گروہوں میں سے بہتر گروہ میں رکھا، پھر ان میں مختلف قبیلے بنا دیئے، تو مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا، پھر انہیں گھروں میں بانٹ دیا تو مجھے اچھے نسب والے بہترین خاندان اور گھر میں پیدا کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Al-Muttalib bin Abi Wada`ah said: “Al-`Abbas came to the Messenger of Allah (ﷺ) and it is as if he heard something, so the Prophet (ﷺ) stood upon the Minbar and said: ‘Who am I?’ They said: ‘You are the Messenger of Allah, upon you be peace.’ He said: ‘I am Muhammad bin `Abdullah bin `Abdul-Muttalib, indeed Allah created the creation, and He put me in the best group of them, then He made them into two groups, so He put me in the best group of them, the He made them into tribes, so He put me in the best of tribes, then He made them into houses, so He put me in the best of them in tribe and lineage.’”
عبدالرحمٰن بن ابوبکر سے روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے، آپ نے فرمایا: ”اللہ سے جو چیزیں بھی مانگی جاتی ہیں ان میں اللہ کو عافیت سے زیادہ محبوب کوئی چیز بھی نہیں ہے“۔
That was narrated to us by Al-Qasim bin Dinar Al-Kufi (who said): “Ishaq bin Mansur narrated to us, from Isra’il” with this (Another chain) Bilal narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Hold fast to Qiyam al-Lail, for it is the practice of the righteous before you, and indeed Qiyam al-Lail is a means of nearness to Allah, a means of prevention from sin, an expiation for bad deeds, and a barrier for the body against disease.”
مجھے شکایت ہوئی ( بیماری ہوئی )، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں دعا کر رہا تھا: «اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفغني وإن كان بلاء فصبرني» ”اے میرے رب! اگر میری موت کا وقت آ پہنچا ہے تو مجھے ( موت دے کر ) راحت دے اور اور اگر میری موت بعد میں ہو تو مجھے اٹھا کر کھڑا کر دے ( یعنی صحت دیدے ) اور اگر یہ آزمائش ہے تو مجھے صبر دے“، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیسے کہا“ تو انہوں نے جو کہا تھا اسے دہرایا، آپ ﷺ نے انہیں اپنے پیر سے ٹھوکا دیا پھر آپ نے فرمایا: «اللهم عافه أو اشفه» ”اے اللہ! انہیں عافیت دے، یا شفاء دے“، اس کے بعد مجھے اپنی تکلیف کی پھر کبھی شکایت نہیں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Ali said: “I was ill and the Messenger of Allah (ﷺ) passed by me while I was saying: ‘O Allah, if my term has come, then give me relief, and if it is coming later, then make my life more bountiful, and if it is a trial then make me patient (Allāhumma, in kāna ajalī qad ḥaḍara fa ariḥnī, wa in kāna muta’akh-khiran fa arfighnī, wa in kāna balā’an fa ṣabbirnī).’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What did you say?’” He said: “So he repeated to him what he said.” He (one of the narrators) said: So he struck him with his foot and said: “O Allah, grant him health (Allāhumma `āfihi)” – or – “heal him (ishfihi).” – Shu`ba is the one who doubted. He said: “So I did not suffer from my ailment again.”